صلوۃ اور کیڑا

روایت ہے کہ ایک دن ابوجہل مسجد الحرام کے دروازے کے پاس آ بیٹھا۔ پیغمبر اکرم ﷺ مسجد سے باہر تشریف لائے تو وہ اپنا ہاتھ آستین سے باہر لایا اور کہنے لگا یا محمد [ﷺ] بتائیےکہ میری مٹھی میں کیا ہے اگر آپ [ﷺ] نے صیحح جواب دیا تومیں اپنے ساتھیوں سمیت آپ [ﷺ] پر ایمان لے آوں گا۔ حضور پر نور [ﷺ] نے فرمایا تیرے ہاتھ میں ایک ڈبیا ہے جو ٹاٹ میں لپٹی ہوئی ہے اس ڈبیا کے اندر تین موتی ہیں ان میں سے ایک سوراخ شدہ ہے دوسرا آدھا سوراخ شدہ اور تیسرابغیر سوراخ کے ہے۔ اس ڈبیا میں ایک لعل بھی ہے جس میں ایک سرخ کیڑا ہے کیڑے کے منہ میں سبز پتر ہے
ابو جہل کہنے لگا یہ سب تو ٹھیک ہے لیکن سرخ کیڑے اور سبز پتر کا کیسے علم ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا لعل کو توڑ دو معلوم ہو جائے گا ابوجہل کہنے لگا کہ میں اس قیمتی لعل کو کیسے توڑ دوں۔ ایک صحابی کہنے لگے اپنے لعل کی قیمت لگا کر اسے توڑ دو۔ اگررسول خدا ﷺ کی بات [معاذاللہ] درست نہ ہوئی تو قیمت میں ادا کروں گا۔ ابوجہل اس بات پر راضی ہو گیا۔ جب لعل توڑا گیا تو سب نے دیکھا کہ اس میں چھوٹا سا سرخ کیڑا منہ میں سبزپتر لیے ہوئے موجود تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے اس کیڑے سے دریافت کیا کہ تم کب سے اس لعل میں ہو۔کیڑے نے پہلے آپ ﷺ کی خدمت میں سلام عرض کیا۔ پھر کہا مجھے نہیں معلوم لیکن اللہ تعالی مجھے روزانہ تین سبز پتی عطا فرماتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرا ذکر اور تسبیح کیا ہے کیڑا کہنے لگا کہ خدا نے مجھے روزانہ دس مرتبہ آپ ﷺ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے جس کی برکت سے وہ مجھے روزی دیتا ہے