ملائکہ فرشتے

ملائکہ کا لفظ جمع ہے اس کی واحد ملک ہے جس کے لغوی معنی قاصد اور پیغام رساں کے ہیں

فرشتے اللہ کی ایک مخلوق ہیں جو نور سے پیدا ہوئیں ہماری نظروں سے غائب ہیں نہ مرد ہیں نہ عورت ہیں۔ خدا کی نافرمانی اور گناہ نہیں کرتے جن کاموں میں اللہ نے ان کو لگایا ہے انہیں میں ہی لگے رہتے ہیں

فرشتوں کو ملائکہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ فرشتے اللہ تعالی اور اس کے بندوں کے درمیان پیغام رسانی کا کام کرتے ہیں

عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ قرآن حکیم نے ان کے اس باطل عقیدے کی اصلاح کی اور نتایا کہ فرشتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور ان کے پاس کسی قسم کا اختیار یا اقتدار نہیں بلکہ ان کافرض یہ ہے کہ اس کائنات کے نظام کو اللہ کے حکم کے مطابق اس کے مقررہ قوانین کے تحت چلائیں۔ فرشتوں کی یہ مجال نہیں کہ وہ اللہ کے حکم سے ذرہ بھر بھی سرتابی کرسکیں۔

لا یعصون اللہ ما امرھم و یفعلون ما ہومرون التحریم: 8

ترجمہ: وہ اللہ کے حکم کی مخالفت نہیں کرسکتے اور جو وہ حکم دیتا ہے وہی کرتے ہیں۔

جس طرح توحید اور رسالت پر ایمان لانے کا حکم ہے اسی طرح ملائکہ پر بھی ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔

ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر و الملئکۃ والنبین البقرۃ: 177

ترجمہ: لیکن اصل نیکی تو یہ ہے کہ آدمی اللہ پر ایمان لائے اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور سب کتابوں پر اور سب نبیوں پر

فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب ہے کہ ہم انہیں اللہ کی ایک نوری اور غیر مادی مخلوق مانیں جو ہر کام اس طریقے سے انجام دیتے ہیں جیسے انہیں اللہ کی طرف سے حکم ہوتا ہے وہ اپنے طور پر کسی کو نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے بلکہ اللہ نے ان کے ذمے مختلف کام لگائے ہوئے ہیں جو وہ اللہ کی ہدایات کے مطابق پورے کرتے ہیں ان کی حالت یہ ہے کہ

ہخافون ربھم من فوقھم و یفعلون ما یومرون النحل:50

ترجمہ: وہ اپنے رب سے جو ان کے اوپر سے ڈرتے ہیں اور جو انہیں حکم ملتا ہے وہی کرتے ہیں