وہبیت

وہبیت کے معنی یہ ہیں کہ رسالت کوئی اکتسابی شے نہیں جو محنت و جستجو سے مل جائے بلکہ یہ خداوند قدوس کا خاص عطیہ ہے اور اسی شخص کو ملتا ہے جسے خداوند کرین مرحمت فرماتا ہے۔ اس کے ملنے میں انسانی کوشش، ارادے اور جستجو کا کوئی دخل نہیں ہوتا

تاہم انبیاء کرام کے حالات زندگی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ اہم منصب جن لوگوں کو عطا کیا گیا وہ سب نیکی تقوی ذہانت اور عزم و ہمت جیسی بلند صفات کے مالک تھے۔

ذلک فضل اللہ یوتیۃ من یشاء الجمعہ: 4

ترجمہ: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے۔

رسالت کے لیے انتخاب ایسے افراد کا کیا گیا تھا جو خدا کے نزدیک اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کے اعتبار سے اس عظیم مقصد کے لیے موزوں ترین تھے۔ چنانچہ جب نبی کریم ﷺ کے مخالفین نے آپ ﷺ کے نبی بنائے جانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ اگر کسی کو نبوت ملنا تھی تو آپ ﷺ کی نسبت ہم اس کے زیادہ حق دار تھے تو اللہ تعالی نے فرمایا

اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ الانعام: 124

ترجمہ: اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اسے اپنی پیغمبری کس کے سپرد کرنی چاہیے