لزوم اطاعات

انبیاء کی اطاعت و پیروی صروری ہوتی ہے

خداوند کریم فرماتاہے

وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ النساء: 64

ترجمہ: ہم نے ہر رسول کو اس لیے بھیجا کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔

وان من امِ الاخلا فیہ نذیز الفاطر: 24

ترجمہ: کوئی بھی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی خبردار کرنے والا [رسول] نہ آیا ہو۔

نبی چونکہ اللہ کے احکام و ہدایات پہنچاتا ہے اس لیے اس کی اطاعت درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے

من یطع الرسول فقد اطاع اللہ النسا: 80

ترجمہ: جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی

اسی طرح پیغمبر کتاب اللہ کا شارح ہوتا ہے امت کا معلم و مربی ہوتا ہے امت کے لیے نمونہ تقلید ہوتا ہے قانون ساز، قاضی اور حکم ہوتا ہے۔ اسی لیے انبیاء کرام کی پیروی کرنے اور ان کے مطابق عمل کرنے سے دینوی واخروی زندگی کی کامیابی یقینی ہوتی ہے یعنی دنیا و آکرت میں کامیابی کا انحصار انبیاءکرام کی