انسانیت

یہ حقیقت ہے کہ انبیاءکرام انسان ہونے کے باوجود عام انسانوں سے بلند مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ کسی انسان ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے ہر نبی سے یہ بات کہلوائی

انما انا بشر مثلکم الکہف : 110

ترجمہ: میں تمہاری طرح کا ایک انسان ہوں

اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ

وما ارسلنک من قبلک ال رجالا نوحی الیھم یوسف: 109

ترجمہ: اور ہم نے پہلے آدمیوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا جن پر ہم وحی کرتے تھے۔

انبیاء کرام پر یہ اعتراض کیا جاتا رہا ہے کہ یہ تو ہماری طرح انسان ہیں انہیں انسان نہیں فرشتہ ہونا چاہیے اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا

قل لوکان فی الارض ملئکۃ یمسون مطببین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا بنی اسرائیل:۹۰

ترجمہ: اے پیغمبر ان سے فرما دیجیے اگر زمین میں فرشتے چلتے پھرتے اور آباد ہوتے تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیجتے

انبیاء کرام انسانوں میں ممتاز ہی اس وجہ سے تھے کہ اللہ تعالی نے ان کو ایسے کمالات و معجزات سے نوازا اور نبوت کے منصب پر فائز فرمایا