صفا ت باری تعالی

عقیدہ توحید صرف اس قدر نہیں کہ اللہ ایک ہے بلکہ اللہ کے صفات با کمال پر یقیں رکھنا ،عقیدے کی اصل جان ہے۔اللہ اپنی ذات اور صفات د ونوں میںیکتا ہے۔ذات میں یکتا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی برابری نہیں کر سکتا ۔اس کا نہ کو ئی باپ ہے اور نہ بیٹا کیو نکہ
باپ اور اولاد کی حقیقت ایک ہی ہوتی ہے۔جب اللہ کی حقیقت میں کوئی شریق نہیں تو نہ اللہ تعالی کسی کا بیٹا ہے اور نہ اس کا کو ئی بیٹابیٹی۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
ترجمہ:’’اس کی کوئی اولاد نہیں‘‘
صفات میں یکتا ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالی ہی ہے جو حیی اور قیوم اور قادراوررزاق ہے اس کے
سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔لہذا ہمیں چاہیے کہ خدائے وحدہُ لاشریق کی عبادت وبندگی بجالائیں اور اس کی ذات میں کسی کو شریک نہ کریں اور اس کے سواکسی کو لائق عبادت نہ جانیں۔
خدا کو کسی نے نہیں دیکھا۔اس کی بنائی ہوئی کائنات اور اس کائنا ت میں پھیلی ہوئی نشانیاں کو دیکھ کر انسان خالق کائنات کی وحدانیت،
قدرت اور علم وحکمت کو تسلیم کر نے پر مجبور ہے۔آئیے ہم کائنات کے کچھ پہلو ؤ ں پر از سر نو غور کریں۔
(۱)کائنات اور دنیاوی نظم و نسق قادر مطلق ہی کی ذات قائم کئے ہوئے ہے۔اگر اس کائناتی نظام کو چلانے والے کئی معبود ہوتے
تو یقیناان کے درمیان اختلافات ہوتا اور نظام کائنات مختلف افکارو
نظر یات کے تحت نہ صرف بدلتا رہتا بلکہ یہ کائنات میں جو نظم وضبط اور تر بیت کا ر فرما نظر آتی ہے، وہ نہ ہوتی۔
قرآن پاک میں ارشادہے۔
تر جمہ:’’ان دونوں یعنی (زمین و آسمان) میں علاوہ اللہ کے کوئی معبود
ہوتا تو ان دونوں میں فساد بر پا ہو جاتا‘‘۔
(۲)ہر انسان کی شکل وصورت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔اسی طرہ ہر ایک کی آواز الگ ،نشانات جدا،خصلت وعادات جدا،پیدائش
علیحدہ اور خاتمہ مختلف انداز میں۔آخر وہ کون سی قدرت ہے جس کے تحت یہ کام ہو رہا ہے۔دنیا میں آج کروڑوں افرادہیں اور ان کی پیدائش اور وفات کا سلسلہ سالہا سال سی چل رہا ہے اور چلتا رہے گا۔
لیکن تمام افراد کی انگلیوں کے پورون کے نشانات حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ان تمام باتوں سے بنیادی سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی قدرت ہے جس کے ماتحت یہ کام انجام پا رہا ہے۔انسان یہ سب کچھ دیکھتا ہے تو پکاراٹھتاہے۔:
ترجمہ: ’بڑا ہی بابرکت ہے اللہ ،سب سے کاریگر وں سے اچھاکاریگر‘
(۳)ایک معمولی جسم رکھنے والے انسان کو بڑی سے بڑی مخلوق پر برتری اور قوت کس نے دی؟
ْْْْْ ْْ(۴) ان کی قوتیں اور استعدادی صلاحیتیں مختلف ہیں۔ایک شخص ڈاکڑہے تو دوسرا انجنیر،ایک مصنفہے تودوسرا شاعر۔
(۵)انسان اپنی عقل وفہم،شعوراور، اک،فلسفہ اورسائنس غرض کسی بھی طریقے سے اپنے بچپن کو جوانی اور جوانی کو بڑھاپے سے اور زندگی کو موت کی گر فت سے نہیں بچا سکتااس غوروفکر کے بعد ہم اس نہتجے پر پہنچتے ہیں کہ:
(۱)کائنات کوئی اتفا قی حادثہ نہیں بلکہ اس کا کوئی خالق اور حاکم ہے۔
(۲) یہ خالق اور حاکم ایک اور صرف ایک ہے اور اسی کی حکمرانی اس کائنات میں ہر طرف کارفرما ہے
(۳) تو حید کے نظریات کے ماتحت خدا کا ایک مکمل تصور واضح ہوتا ہے اور اسلام کے پورے نظام فکر و عمل کی بنیا د اسی توحید کے تصور پر ہے۔
(۴) انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں عقیدہ توحید کے واضح اثرات مرتب ہوتے ہیں اس نظرئیے کے ماتحت انسان ایک خاص سانچے میں ڈھلتا ہے جس سے ایک مخصوص معاشرہ وجود میں آتا ہے