صفات کے تقاضوں میں شرک

خداوند کریم بے شمار عظیم صفات کا مالک ہے اور بندے پر واجب ہے کہ وہ خداوند کریم کی صفاتی عظمتوں کے تقاضے اس طرح پورے کرے کہ اس کی عبادت وبندگی میں سربسجود رہے اور اس کی ان عظیم صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے مثلا حقیقی محبت اور حقیقی اطاعت صرف اللہ تعالی ہی کا حق ہے اور اس کے لیے مخصوص ہے اگر کوئی شخص بعینہہ ویسی ہی اطاعت اور محبت کسی اور سے بھی کرتا ہے تو یہ غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا تصور کیا جائے گا اور یہی درحقیقت صفات کے تقاضوں میں شرک کہلاتا ہے

اسی طرح خداوند کریم کی اس صفت کی مثالیں کہ اقتداراعلی صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے حکم دینے اور قانون بنانے کا حق اصلا وہی رکھتا ہے اور اگر کسی اور کو بھی یہ حیثیت دے دی جائے چاہے وہ ایک شخص ہو یا کئی افراد کا گروہ تو یہ بھی شرک ہے

اقتدار اعلی صرف خداوند قدوس کے ہاتھ میں ہے وہی مقتدراعلی ہے اور اس کے قوانین کے مقابلے میں کسی کا قانون کسی حیثیت کا حامل نہیں ہے

قرآن مجید میں ارشاد ہوا

الًَا تَعبُدُوا اِنا اِیًَاہ [بنی اسرائیل]

ترجمہ: تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر صرف اس کی