صفات میں شرک

صفات میں شرک سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی جن صفات کا مالک ہے ان میں سے کوئی صفت کسی اور میں مان لی جائے اور اسی کے مفہوم میں مان لی جائے جس معنی و مفہوم میں وہ اللہ تعالی کے اندر پائی جاتی ہے مثال کے طور پر علم اللہ تعالی کی صفت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر کھلی اور چھپی بات سے واقف ہے اس کے غائب اور حاضر میں قطعا کوئی فرق نہیں ہے حال و ماضی اور مستقبل اس کے لیے یکساں حیثیت رکھتے ہیں اس لیے کہ وہ ان تینوں زمانوں سے اچھی طرح واقف ہے جس طرح کہ زمانہ حال ہے۔ اب کوئی یہ کہے کہ فلاں مخلوق بھی ہر بات جانتی ہے تو یہ شرک فی الصفات ہو گا

اسی طرح نفع یا نقصان پہنچانا بھی اللہ تعالی کی صفات میں سے ایک صفت ہے یعنی کہ وہ جسے چاہے خوشیاں دے اور جسے چاہے غم۔ کسی کو راحت و مسرت سے نوازے اور کسی کو محروم کر دے اب اگر کوئی کہے کہ جس طرح اللہ نفع یا نقصان پہنچاتا ہے بعینہہ اسی طرح کوئی اور بھی نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے تو وہ خداوند کریم کی صفات میں سے ایک صفت میں اس کو ساجھی ٹھہرا رہا ہے اور اس عقیدے کو شرک فی الصفات کہا جائے گا

خداوند کریم نے ان تمام باتوں کی تردید قرآن مجید میں اس انداز میں فرمائی ہے

لَیسَ کَمِثلِہ شَیی الشوری: 11

ترجمہ: اس جیسا کوئی بھی نہیں