ذات میں شرک

ذات میں شرک سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالی کی حقیقت میں کسی کو شریک ٹھہرانا ذات میں شرک کی عملی صورتیں یہ ہیں

ا۔ کسی کو اللہ تعالی کا ہم جنس قرار دیا جائے
ب۔ کسی کو اسکا باپ یا اولاد سمجھ لیا جائے
ج۔ یہ مان لیا جائے کہ اللہ تعالی کسی ہستی کے ساتھ مل کر ایک قالب ہو گیا
د۔ یہ تصور کر لیا جائے کہ اللہ تعالی کسی مخلوق کی شکل اختیار کرکے نمودار ہواکرتا ہے یعنی کوئی مخلوق اس کا اوتار ہو سکتی ہے مثلا اہل عرب فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں اور جنوں کو اس کی ذات برادری سمجھتے تھے اسی طرح عیسائی حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ کا اکلوتا بیٹا اور اس کا جسمانی روپ قرار دیتے ہیں یہ سب شرک فی ذات صورتیں ہیں

اللہ تعالی نے ان سب باتوں کی نفی فرمائی ہے

لَم یَلِد وَلَم یُولَد

ترجمہ: نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے