شرک

انسا ن کا سب سے پہلا عقیدہ توحید ہے لیکن جیسے جیسے خلق خدا میں اضافہ ہوتا چلا گیا، ویسے ویسے لوگ عقیدۂ تو حیدکو بھول کر گمراہی میں پڑنے لگے۔اس کے بعد شرک کاآغاز اس طرح ہوا کچھ لو گوں نے اپنے نیکو کا راسلاف کی یاد باقی رکھنے کے لئے ان کے لئے بت بنا لئے تھے اور ان بتوں سے اسی طرح عقیدت کا اظہار کرتے جیسے زندہ لو گو ں سے کیا کرتے تھے ۔اسی عقید ت نے بڑھتے بڑھتے پر ستش کی شکل اختیار کر کی اعقتاد میں جب مزید کمزور ی آ گئی تو انسان ہر خوبصورت، طاقتور یاہیبت ناک شے کو دیکھ کر اسے دیوتا کانام دینے لگا اور اس کی بڑائی کو تسلیم کرنے لگا ۔ مثلاً:سورج ،چاند، آگ اور سمندرکو دیوتاؤ ں کی فہرست میں شامل کیا جانے لگا ۔ اسی طرح نفع بخش چیزوں مثلاً گائے وغیرہ کی بھی پو جا شروع کر دی گئی یعنی ان چیزوں کو اللہ تعالیََ کے ساتھ شریک کیا جانے لگا اسی کو شرک کہتے ہیں ۔ لوگوں کو شرک سے محفوظ رکھنے کے لیے اللہ تعالی نے رسول بھیجے تاکہ انہیں گمراہی کے اندھیرے سے نکال کر توحید کی روشنی میں لا کھڑا کر دیں

ترجمہ قرآن: لوگو ایک مثال دی جاتی ہے غور سے سنو جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور الحج :۷۳

انسان کو شرک کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے شرک کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے بہت بڑا ظلم کہا گیا ہے

ترجمہ قرآن: بے شک شرک بھاری بے انصافی ہے
ایک اور جگہ اللہ تعالی فرماتا ہے

بے شک اللہ تعالی نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گنا ہ جس کو چاہے۔

؂اس وضاحت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ آگئی ہو گی کہ شرک کے لغوی معنی حصہ داری اور ساجھے پن کے ہیں

اس طرح شرک کی تین اقسام ہوتی ہیں

۱) ذات میں شرک
۲) صفات میں شرک
۳) صفات کے تقاضوں میں شرک