شرک کا بیان

۱ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک ٹھرانا۔ مثلاّ عیسائیوں اور مجوسیوں کی طرح دو یا زاید خدا ماننا ۔
۲ کسی بندے کیلئے ان غیب کی باتوں کا علم اللہ کی عطا سے ماننا جین کے بارے میں قرآن و حدیث میں تصریح ہے مثلاّ ہی کہ قیامت کب آئے گی ؟ وغیرہ۔
۳ کسی بندے میں تصرف و قدرت کو اللہ کی عطا سمجھے اور ساتھ ہی مانے کہ اس کا کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا اللہ تعالیٰ کی مرضی اور اردہ کا پابند نہیں ہے۔ رکوع سجدہ جیسے افعال کسی مخلوق کیلئے عبادت کے طور پر نہیں بلکہ صرف تعظیم کے طور پر کرنا ۔ اس کو فسقیہ شرک کہتے ہیں ۔پھر شرک کرنے میں نبی، ولی ، جن ، شیطان سب برابر ہیں جس سے بھی ہی معاملہ کیا جائے گا، شرک ہو گا اور کرنے والا مشرک ہو گا۔