اللہ بندوں سے انتہائی قریب ہے

اور جب تجھ سے ’اے پیغمبر‘میرے بندے میرے بارے میں پو چھیں
سومیں توقریب ہوں‘مانگنے والے کی دعاقبول کرتاوہ نیک راہ پر آئیں۔
تشریح:جس شخص کے دل میں یقین راسخ ہوجائے کہ اللہ تعالی اس کی
شہ رگ سے زیادہ قریب ہے‘اس کی مصلحتوں کو جا نتا ہے اس کی فلاح
وبہبود چا ہتا ہے‘اس کے ساتھ انتہا ئی شفقت ومہربانی والا معاملہ فرماتا
ہے‘اس کی پکار سنتا ہے اور اس کی دعا قبول کر تا ہے‘ وہ اپنے ہاتھ صرف ا للہ کے سامنے پھیلا ئے گا‘اسی سے اپنی ہر مرادمانگے گا‘اس کی زند گی‘موت‘عباد ت اور قربانی سب اسی کیلئے ہوگی۔
مذکورہ آیت میں اللہ تعا لٰی نے ارشاد فرمایا کہ میں اپنے بندوں سے دورنہیں بلکہ انتہا ئی قریب ہو ں‘جب وہ ہر جانب سے ہٹ کر اخلاص

کامل کے ساتھ میری جانب متو جہ ہوتے ہیں تو میں ان کی دعاؤں
قبول کرتا ہوں اور ان کی دادرسی کرتا ہیں البتہ وہ میرا کہا مانیں اور مجھ
پر کامل یقین رکھیں تاکہ انہیں ہدایت نصیب ہو۔