توحید باری تعالی

(۲) تقدیسِ ذات و صفاتِ باری تعالیٰ:
اللہ تعالیٰ جسم،اعضاء جسم (جیسے ہاتھ ، چہرہ، پنڈلیاں اور انگلیاں وغیرہ) اور لوازمِ جسم (جیسے کھانے ،پینے، اترنے، چڑھنے اور دوڑنے وغیرہ) سے بھی پاک ہیں قرآن و حدیث میں جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف اعضاء جسم یا مخلوق کی صفات کی نسبت ہے وہاں ظاہری معانی بالاتفاق مراد نہیں بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کی تعبیرات ہیں پھر متقدمین کے نزدیک وہ صفات متشابہات میں سے ہیں ان کی حقیقت اور مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا جبکہ متا خرین کے نزدیک ان کی حقیقت و مراد درجہ ظن میں معلوم ہے۔ یداللہ سے مراد قدرت باری تعالیٰ اور اترنے سے مراد رحمت کا متوجہ ہونا۔

(۳) عموم قدرت باری تعالیٰ:
اللہ تعالیٰ اپنے کئے ہوئے فیصلوں کے تبدیل کرنے پر قادر ہیں اگر چہ وہ اپنے فیصلوں کو بدلتے نہیں۔

(۴) تقدیر باری تعالیٰ:
اس عالم میں جو کچھ ہوتا ہے یا ہو گا وہ سب کچھ ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے علم کے موافق ہر چیز کو پیدا فرماتے ہیں۔ تقدیر علمِ الٰہی کا نام ہے نہ کہ امر الٰہی کا۔

(۵) صدق باری تعالیٰ:
اللہ تعالیٰ کا کلام سچا اور واقع کے مطابق ہیاور اس کے خلاف عقیدہ رکھنا بلکہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں جھوٹ کا وہم رکھنا بھی کفر ہے۔

(۶) توحید باری تعالیٰ:
اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں یکتا ہیں کسی کے باپ ہیں نہ بیٹے ، کائنات کا ہر ذرہ ان کا محتاج ہے ، وہ کسی کے محتاج نہیں اور کل جہان کے خالق و مالک ہیں۔