عقائد

مسلمان ہونے کے لیے عقیدہ کا صیحح ہونا ضروری ہے اگر انسان کا عقیدہ درست ہے تو اس کا چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی قبول اللہ تعالی قبول فرما لیتے ہیں اور اگر عقیدہ درست نہ ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ تعالی قبول نہیں فرماتے

عقیدہ عربی زبان کا لفظ ہے اور عقد سے نکلا ہے۔ عقد کے معنی ہے گرہ لگانا۔ عربی میں گرہ کو عقدہ کہتے ہیں۔
گرہ مضبوطی سے باندھی جاتی ہے جو آسانی سے نہیں کھل سکتی اسی مناسبت سے آدمی کے وہ پختہ خیالات اور اٹل نظریات جن پر وہ مضبوطی سے قائم ہو۔ اور انہیں آسانی سے بدلنے پعر آمادہ نہ ہو عقیدہ کہلاتے ہیں

عقیدے کی مثال اس طرح سمجھیں جیسے کسی عمارت کی بنیاد ہوتی ہے جیسی بنیاد ڈالی جائے گی ویسی ہی عمارت کھڑی ہو گی۔ اسی طرح عقیدہ انسان کو نہ صرف پختہ فکر عطا کرتا ہے بلکہ با کردار بھی بناتا ہے۔ انسان کا ہر کام اس کی سوچ اور نظریات کا ردعمل ہوتا ہے اسی لئے عقیدہ انسان کی سوچ کو عمدہ سے عمدہ راہ عمل کی ترغیب دلاتا ہے