خواب میں زیارت

ابن سیرین کہتے ہیں کہ علم حدیث (اور ایسے ہی اور دینی علوم سب) دین میں داخل ہیں ۔ لہٰذا علم حاصل کرنے سے قبل یہ دیکھو کہ اس دین کو کس شخص سے حاصل کر رہے ہیں ۔

“طارق بن اشیم سے بھی یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔”

“کلیب رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک سنایا کہ جو مجھے خواب میں دیکھتے ہیں وہ حقیقتاً مجھ ہی کو خواب میں دیکھتے ہیں اس لئے کہ شیطان میرا شبیہ نہیں بن سکتا۔ کلیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے تذکرہ کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے خواب میں زیارت اقدس میسر ہوئی اس وقت مجھے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کا خیال آیا میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں نے اس خواب کی صورت کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی صورت کے بہت مشابہ پایا ، اس پر حضرت ابن عباس نے اس کی تصدیق فرمائی کہ واقعی حضرت حسن آپ کے بہت مشابہ تھے۔”

“یزید فارسی کلام اللہ شریف لکھا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ خواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اس وقت حیات تھے، ان سے خواب عرض کیا انہوں نے اول ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنایا کہ جو خواب میں دیکھتا ہے وہ حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھتا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ یہ ارشاد سنا کر پوچھا کیا خواب کی دیکھی ہوئی صورت کا حلیہ بیان کر سکتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بدن اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اقامت دونوں چیزیں معتدل اور درمیانی (یعنی جسم مبارک نہ زیادہ موٹا اور نہ زیادہ دبلا ایسے قد نہ زیادہ لمبا نہ زیادہ کوتاہ بلکہ معتدل) آپ کا رنگ گندمی مائل بسفید، آنکھیں سرمگیں خندہ دہن خوب صورت گول چہرہ داڑھی نہایت گنجان جو پورے چہرہ انور کا احاطہ کئے ہوئے تھی اور سینہ کے ابتدائی حصہ پر پھیلی ہوئی تھی۔ عوف رضی اللہ عنہ جو اس روایت کے ایک راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں رہا کہ میرے استاد یزید نے جو اس خواب کے دیکھنے والے ہیں ان مذکورہ صفات کے ساتھ اور کیا کیا صفتیں بیان فرمائی تھیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم حیات میں دیکھتے تو اس سے زیادہ حلیہ اقدس نہ بتا سکتے، گویا بالکل ہی صحیح حلیہ بیان کر دیا۔”

ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مروی ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے واقعی امر دیکھا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے خواب میں دیکھے اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ مومن کا وہ خواب (جو فرشتہ کے اثر سے ہوتا ہے) نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔

عبد اللہ بن مبارک بڑے ائمہ حدیث میں سے ہیں ۔ فقہا اور صوفیہ میں بھی ان کا شمار ہے بڑے شیخ عابد زاہد تھے اور حدیث کے حافظوں میں گنے جاتے ہیں ۔ تاریخ کی کتابوں میں بڑے فضائل ان کے لکھے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ اگر کبھی قاضی اور فیصل کنندہ بننے کی نوبت آئے تو منقولات کا اتباع کیجیو۔

میراث کا ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے وارث دینار اور درہم تقسیم نہ کریں میرے ترکہ سے اہل و عیال کا نفقہ اور میرے عامل کا نفقہ نکالنے کے بعد جو کچھ بچے وہ صدقہ ہے۔

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا نہ درہم، نہ بکری، نہ اونٹ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے غلام اور باندی کے ذکر میں شک ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ نہ غلام نہ باندی یا نہیں فرمایا۔”
عمرو بن الحارث جو ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکہ میں صرف ہتھیار اور اپنی سواری کا خچر اور کچھ حصہ زمین کا چھوڑا تھا اور ان کو بھی صدقہ فرما گئے تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور دریافت فرمایا کہ تمہارا کون وارث ہو گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے اہل و عیال۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا پھر میں اپنے والد کے متروکہ کی وارث کیوں نہیں بنی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ البتہ (میں وقف کا متولی ہونے کی وجہ سے) جن لوگوں کا روزینہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما رکھا تھا اس کو میں بھی ادا کروں گا اور جن لوگوں پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے ان پر میں بھی خرچ کروں گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت جو مال چھوڑتی ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف اور طلحہ اور سعد بن ابی وقاص بھی تشریف لائے۔ (اس کے تھوڑی دیر بعد) حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جھگڑتے ہوئے تشریف لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب حضرات کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں کیا تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا علم ہے ہم انبیاء کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم ترکہ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ان سب حضرات نے فرمایا کہ بے شک یہ حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔
“عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔”

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے حقیقتا مجھ ہی کو دیکھا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔

“ابوالبختری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے ہر ایک دوسرے پر اعتراض کر رہا تھا اور اس کو انتظام کے ناقابل بتا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم، ان سب حضرات کو متوجہ فرما کر یہ فرمایا کہ تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم سب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مال صدقہ ہوتا ہے بجز اس کے جو وہ اپنے اہل کو کھلائے ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔”

وصال کا ذکر

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن بن گئی تھی ( اور جب انوار کی کثرت ہوتی ہے تو اس قسم کی روشنی محسوس بھی ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک کی اندھیری راتوں میں بسا اوقات انوار کی کثرت سے روشنی ہو جاتی ہے اور جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک بن گئی تھی ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازؤں پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا ہائے نبی ہائے صفی اور ہائے خلیل۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار نصیب ہوا وہ وقت تھا جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دو شنبہ کے روز صبح کی نماز کے وقت دولت کدہ کا پردہ اٹھایا کہ امتیوں کی نماز کا آخری معائنہ فرمالیں ۔ لوگ اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے (صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر فرطِ خوشی میں پیچھے ہٹنے لگے اس خیال سے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوں اس لئے کہ اس سے پہلے بھی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے اور جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوتا تھا تشریف لا کر جماعت میں شرکت فرماتے تھے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور اسی دن وصال ہو گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت میں نے حضور عالی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے سینہ پر سہارا دے رکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کے لئے طشت منگوایا اور پیشاب سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد پھر وصال ہو گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا کہ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے (کہ یہ شدت حرارت اور گھبراہٹ کے وقت سکون کا سبب ہوتا ہے) اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں یہ دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ موت کے شدت پر میری امداد فرما۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت تکلیف کے بعد اب مجھے کسی شخص کے مرض الموت میں تکلیف نہ ہونے پر رشک نہیں ہوتا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔

امام باقر رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔ یہ روز اور سہ شنبہ کا روز انتظام میں گزرا اور منگل بدھ کی درمیانی شب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر شریف میں اتارا گیا۔ سفیان رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام باقر رحمة اللہ علیہ کی حدیث میں وہی ہے جو گزرا لیکن اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اخیر حصہ شب میں پھاؤڑوں کی آواز آتی تھی۔

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا اور سہ شنبہ کو دفن کئے گئے۔
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں بار بار غشی ہوتی تھی اور جب افاقہ ہوتا تو زبان سے یہ نکلتا کہ نماز کا وقت ہو گیا یا نہیں اور نماز کا وقت ہو جانے کا حال معلوم ہونے پر چونکہ مسجد تک تشریف لے جانے کی طاقت نہ تھی اس لئے ارشاد عالی ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز کی تیاری کریں اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں ۔ متعدد مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ (لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ طبعی طور پر نرم دل پیدا ہوئے تھے رقت اکثر طاری ہو جاتی تھی اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا تعلق ان کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی جانتی تھیں کہ میرے باپ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالی جگہ نہ دیکھی جائے گی اس لئے) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے درخواست کی کہ میرا باپ ابوبکر رقیق القلب ہے جب حضور اکرم صلی اللہ کی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں گے تو رونے لگیں گے اور نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے اس لئے کسی اور کو فرما دیجئے کہ نماز پڑھائیں اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعدد مرتبہ سوال وجواب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم یوسف علیہ السلام کے قصہ والی عورتیں بننا چاہتی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات کی سخت تکلیف برداشت فرما رہے تھے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہائے ابا کی تکلیف! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد تیرے باپ پر کچھ تکلیف نہیں رہے گی۔ بے شک آج تیرے باپ پر وہ اٹل چیز اتری ہے یعنی موت جو قیامت تک کبھی کسی سے ٹلنے والی نہیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دو بچے ذخیرہ آخرت بن جائیں تو حق تعالیٰ شانہ ان کی بدولت اس کو ضرور جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کا ایک ہی بچہ ذخیرہ بنا ہو اس کا کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا ایک ہی بچہ چل دیا وہ بھی بخش دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ جس کا ایک بچہ بھی نہ مرا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لئے میں ذخیرہ آخرت بنوں گا اس لئے کہ میری وفات کا رنج آل واولاد سب سے زیادہ ہو گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہوا ( کسی نے مسجد نبوی کو پسند کیا اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے قرب کی وجہ سے بقیع کو کسی کا خیال جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مدفن پر پہنچانے کا ہوا تو کسی کا وطن اصلی مکہ مکرمہ واپس لانے کا ۔ غرض مختلف رائیں ہو رہی تھیں) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جو مجھے خوب یاد ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا وصال اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ان کا پسندیدہ دفن ہو۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال ہی کی جگہ دفن کرنا چاہئے۔

عمر شریف کا ذکر

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں یہ فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرات شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا میری بھی اس وقت تریسٹھ سال کی عمر ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رونق افروز رہے ان تیرہ برس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اس کے بعد مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام رہا اور تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔

دغفل بن حنظلہ سدوسی سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ پستہ قد نیز رنگ کے لحاظ سے بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی رنگ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل پیچیدہ تھے نہ بالکل سیدھے (بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن لئے ہوئے) چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اس کے بعد دس سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ منورہ میں ساٹھ سال کی عمر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں تقریباً بیس بال بھی سفید نہیں ہوں گے۔”

گزر اوقات کا ذکر

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر صبح کے کھانے میں یا شام کے کھانے میں روٹی اور گوشت دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں مگر حالت ضعف میں ۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم لوگ کھانے پینے میں اپنی مرضی کے موافق منہمک نہیں ہو (اور جتنا دل چاہے تم لوگ نہیں کھاتے ہو) حالانکہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ردی کھجوریں پیٹ بھر نہیں تھیں ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال وہ ہیں کہ ایک ایک ماہ تک ہمارے یہاں آگ نہیں جلتی تھی صرف کھجور اور پانی پر گزارا تھا۔

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے شدت بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر دکھلائے کہ ہر شخص کے پیٹ پر بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھلائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدت بھوک ہم سے زیادہ تھی اور ہم سے زیادہ وقت بدوں کھائے گزر چکا تھا۔

“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دولت خانہ سے باہر تشریف لائے کہ اس وقت نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ باہر تشریف لانے کی تھی نہ کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت دولت خانہ پر حاضر ہوتا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باہر تشریف آوری پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے خلاف معمول بے وقت آنے کا سبب دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ جمال جہاں آرا کی زیارت اور سلام کے لئے حاضر ہوا ہوں ( حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کمال تناسب کی وجہ سے تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر خلاف عادت باہر تشریف آوری کی نوبت آئی تو اس یک جان دو قالب پر بھی اس کا اثر ہوا) بندہ کے نزدیک یہی وجہ اولیٰ ہے اور یہی کمال تناسب بڑی وجہ ہے نبوی دور کے ساتھ خلافت صدیقیہ کے اتصال کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اگر مناسب تامہ نہ ہونے کی وجہ وقتی احکام میں کچھ تغیر ضرور ہوتا اور صحابہ کرام کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے ساتھ یہ دوسرا مرحلہ مل کر رنج و ملال کو ناقابل برداشت بنانے والا ہوتا بخلاف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس درجہ اتصال اور قلبی یک جہتی تھی کہ جن مواقع پر جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا وہی اکثر حضرت ابوبکر صدیق کا بھی تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا قصہ مشہور ہے جس کا ذکر حکایات صحابہ میں گزر چکا ہے مسلمانوں نے نہایت دب کر ایسی شرائط پر کفار سے صلح کی تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اس کا تحمل بھی نہ کرسکے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہایت جوش میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر نے کہا کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ۔ حضرت عمر نے کہا پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا وہی مددگار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہا بے شک لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال مکہ میں جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں یہ تو نہیں کہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی جوش میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ابوبکر! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر! کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بے شک ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! اے آدمی! یہ بلا تردد سچے رسول ہیں اور اللہ کی ذرا نافرمانی کرنے والے نہیں ہیں وہی ان کا مددگار ہے تو ان کی رکاب کو مضبوط پکڑے رہ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا تجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسی سال مکہ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ! نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ بخاری شریف میں یہ قصہ مفصل مذکورہ ہے اور بھی اس قسم کے متعدد واقعات حیرت انگیز ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتہادی خطا ہوئی تو اس میں حضرت ابوبکر شریک ہیں جیساکہ بدر کے قیدیوں کے معاملہ میں جس کا قصہ سورہ انفال کے اخیر میں ہے۔ اس صورت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس وقت خلاف معمول باہر آنا دل را بدل رہ یست، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر کا اثر تھا گو بھوک بھی لگی ہوئی ہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آنا بھی بھوک کے تقاضے کی وجہ سے تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھ کر اس کا خیال بھی جاتا رہا اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر اس کا ذکر نہیں کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری بھوک ہی کی وجہ سے تھی مگر اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانی نہ ہو کہ دوست کی تکلیف اپنی تکلیف پر غالب ہو جایا کرتی ہے) تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بے وقت حاضری کا سبب پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بھوک تو کچھ میں بھی محسوس کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد تینوں حضرات ابو آلہیثم انصاری کے مکان پر تشریف لے گئے وہ اہل ثروت لوگوں میں سے تھے کھجوروں کا بڑا باغ تھا۔ بکریاں بھی بہت سی تھی۔ البتہ خادم ان کے پاس کوئی نہیں تھا اس لئے گھر کا کام سب خود ہی کرنا پڑتا تھا۔ یہ حضرات جب ان کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ گھر والوں کے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں جو خادم نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی لانا پڑتا تھا۔ لیکن ان حضرات کے پہنچنے پر تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ بھی مشکیزہ کو جو مشکل سے اٹھتا تھا۔ بدقت اٹھاتے ہوئے واپس آ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو کر (اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتے اور زبان حال ہم نشین جب میرے ایام بھلے آئیں گے بن بلائے میرے گھر آپ چلے آئیں گے پڑھتے ہوئے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنے ماں باپ کو نثار کرنے لگے۔ یعنی عرض کرتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ اس کے بعد باغ میں چلنے کی درخواست کی وہاں پہنچ کر فرش بچھایا اور دین و دنیا کے سردار مایہ فخر مہمان کو بٹھا کر ایک خوشہ (جس میں طرح طرح کی کچی پکی آدھ کچری کھجوریں تھیں) سامنے حاضر کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سارا خوشہ توڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں ابھی کچھ کچی بھی ہیں جو ضائع ہوں گی۔ پکی پکی چھانٹ کر کیوں نہ توڑیں؟ میزبان نے عرض کیا تاکہ اپنی پسند سے پکی اور گری ہر نوع کی حسب رغبت نوش فرمائیں ۔ تینوں حضرات نے کھجوریں تناول فرمائیں اور پانی نوش فرمایا اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (جن کا ہر ہر لحظہ تعلیم امت تھا) ارشاد فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ بھی اس نعیم میں شامل ہے جس کا سوال قیامت میں ہو گا اور سورہ الہٰکم التکاثر کے ختم پر حق تعالیٰ شانہ نے اس کا ذکر فرمایا ان کے شکر کے متعلق سوال ہو گا کہ ہماری نعمتوں کا کس درجہ شکر ادا کیا اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک پھر اس وقت کی نعمتوں کا اظہار کے طور پر فرمایا کہ) ٹھنڈا سایہ، ٹھنڈا پانی اور ترو تازہ کھجوریں ۔ اس کے بعد میزبان کھانے کی تیاری کے لئے جانے لگے۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرط محبت میں کیفما اتفق مت ذبح کر دینا۔ بلکہ ایسا جانور ذبح کرنا جو دودھ کا نہ ہو میزبان نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور بعجلت تمام کھانا تیار کر کے حاضر خدمت کیا اور مہمانوں نے تناول فرمایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت یہ ملاحظہ فرما کر کہ مشتاق میزبان سب کام خود ہی کر رہا ہے اور شروع میں میٹھا پانی بھی خود ہی لاتے دیکھا تھا) دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ۔ نفی میں جواب ملنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کہیں سے غلام آ جائیں تو تم یاد دلانا اس وقت تمہاری ضرورت کا خیال رکھا جائے گا۔ اتفاقاً ایک جگہ سے دو غلام آئے تو ابو آلہیثم نے حاضر ہو کر وعدہ عالی جاہ کی یاد دہانی کرائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں غلاموں میں سے جو دل چاہے پسند کر لو۔ جو تمہاری ضرورت کے مناسب ہو (یہ جان نثار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی کیا رائے رکھتے اس لئے) درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی میرے لئے پسند فرمائیں (وہاں بجز دینداری کے اور کوئی وجہ ترجیح اور پسندیدگی کی ہو ہی نہیں سکتی تھی اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے اس لئے میں امین ہونے کی حیثیت سے فلاں غلام کو پسند کرتا ہوں اس لئے کہ میں نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا ہے لیکن میری ایک وصیت اس کے بارے میں یاد رکھیو کہ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیجیو (اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کے ضابطہ کو ذکر فرما کر گویا اس پر تنبیہ فرمائی کہ میری جو پسندیدگی ہے وہ ذمہ دارانہ اور امانتداری کی ہے پھر ایک کو پسند فرما کر وجہ ترجیح بھی ظاہر فرمائی کہ وہ نمازی ہے۔ یہ وجہ ہے اس کو راجح قرار دینے کی۔ ہمارے زمانہ میں ملازم کا نمازی ہونا گویا عیب ہے کہ آقا کے کام کا حرج ہوتا ہے) ابو آلہیثم خوش خوش اپنی ضرورتوں کے لئے ایک مددگار ساتھ لے کر گھر گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان بھی بیوی کو سنادیا۔ بیوی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ کے ارشاد کی کماحقہ تعمیل نہ ہوسکے گی اور اس درجہ بھلائی کا معاملہ کہ ارشاد عالی جاہ کا امتثال ہو جائے ہم سے نہ ہوسکے گا اس لئے اس کو آزاد ہی کر دو کہ اسی سے امتثال ارشاد ممکن ہے سراپا شجاع اور مجسم اخلاص خاوند نے فوراً آزاد کر دیا اور اپنی دقتوں اور تکالیف کی ذرا بھی پرواہ نہ کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب واقعہ اور جانثار صحابی کے ایثار کا حال معلوم ہوا تو اظہار مسرت اور بیوی کی مدح کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ہر نبی اور اس کے جانشینوں کے لئے حق تعالیٰ شانہ دو باطنی مشیر اور اصلاح کار پیدا فرماتے ہیں جن میں سے ایک مشیر تو بھلائی کی ترغیب دیتا اور برائی سے روکتا ہے دوسرا مشیر تباہ و برباد کرنے میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا۔ جو شخص اس کی برائی سے بچا دیا جائے وہ ہر قسم کی برائی سے روک دیا گیا۔”

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سب سے پہلا شخص جس نے کافر کا خون بہایا ہو میں ہی ہوں اور ایسے ہی پہلا وہ شخص جس نے جہاد میں تیر پھینکا ہو میں ہوں ہم لوگ (یعنی صحابہ کی جماعت ابتداء اسلام میں) ایسی حالت میں جہاد کیا کرتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ درختوں کے پتے اور کیکر کی پھلیاں ہم لوگ کھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہو گئے تھے اور پتے کھانے کی وجہ سے پاخانہ میں بھی اونٹ اور بکری کی طرح مینگنیاں نکلا کرتی تھیں اس کے بعد بھی قبیلہ بنو اسد کے لوگ اسلام کے بارے میں مجھ کو دھمکاتے ہیں اگر میرے دین سے ناواقفیت کا یہی حال ہے جیسا یہ لوگ بتاتے ہیں تو خسر الدنیا والآخرة دنیا اس تنگی وعسرت میں گئی اور دین کی یہ حالت کہ نماز سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہوئی ۔

خالد بن عمیر اور شویس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان کو حکم فرمایا کہ تم اپنے رفقاء کے ساتھ (جو تین سو مجاہد تھے) عجم کی طرف چلے جاؤ اور جب منتہائے سرزمین عرب پر پہنچو جہاں کی سرزمین عجم بہت ہی قریب رہ جائے تو وہاں قیام کرنا (مقصد ان کی روانگی کا یہ تھا کہ دربار عمری میں یہ اطلاع پہنچی تھی کہ عجم کا ارادہ عرب پر حملہ کرنے کا ہے اور بہ روایت دیگر یزدجر نے عجم سے امداد منگائی ہے جس کا یہ راستہ تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو ناکہ بندی کے لئے ارسال فرمایا تھا) وہ لشکر چلا اور جب مربد بصرہ پر پہنچے وہاں عجیب طرح کے سفید سفید پتھروں پر نظر پڑی لوگوں نے اول تعجب سے ایک دوسرے سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ بصرہ ہیں (بصرہ اصل لغت میں سفید مائل پتھروں کو کہتے ہیں اس کے بعد پھر شہر کا نام پڑ گیا تو گویا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بھی ایک قسم کے پتھر ہیں) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے موافق آگے بڑھے اور جب دجلہ کے چھوٹے پل کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تجویز کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی متعینہ جگہ یہی ہے اس لئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔ راوی نے اس جگہ تمام قصہ (یعنی خراسان کے لشکر کے آنے کا اور عتبہ کے فتح کرنے کا پورا قصہ) مفصل ذکر کیا (مگر امام ترمذی کا چونکہ اس جگہ ذکر کرنے سے مقصود اس وقت کی تنگ حالی کا بیان کرنا تھا۔ جس کا ذکر اس حدیث کے اخیر میں ہے اس لئے تمام حدیث کو مختصر کر کے اس جملہ کو ذکر کر دیا۔) حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے فتح کے بعد ایک خطبہ بھی پڑھا تھا جو عربی حاشیہ میں نقل کیا گیا اس میں دنیا کی بے ثباتی آخرت کا دائمی گھر ہونا وغیرہ امور ارشاد فرمائے تھے۔ چنانچہ حمد و صلوة کے بعد فرماتے ہیں کہ دنیا ختم ہو رہی ہے اور منہ پھیر کر جا رہی ہے دنیا کا حصہ اتنا ہی باقی رہ گیا جیساکہ کسی برتن کا پانی ختم ہو جائے اور اخیر میں ذرا سا قطرہ اس میں رہ جائے تم لوگ اس دنیا سے ایک ایسے عالم کی طرف جا رہے ہو جو ہمیشہ رہنے والا ہے کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بہترین ماحضر کے ساتھ اس عالم سے جاؤ اس لئے کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جہنم (جو اللہ کے نافرمانوں کا گھر ہے) اتنی گہری ہے کہ اگر اس کے اوپر کے کنارے سے ایک ڈھیلا پھینکا جائے تو ستر برس تک بھی وہ جہنم کے نیچے کے حصے میں نہیں پہنچتا اور آدمیوں سے اس مکان کو بھرا جائے گا کس قدر عبرت کا مقام ہے نیز ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت (جو اللہ کے فرمانبردار بندوں کا مکان ہے) اس قدر وسیع ہے کہ اس کے دروازہ کی چوڑائی میں ایک جانب سے دوسری جانب تک چالیس برس کی مسافت ہے اور آدمیوں ہی سے وہ بھی پر کی جائے گی۔ (اس لئے ایسے اعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے پہلے مکان سے نجات ملے اور اس مکان میں جو اللہ کی رضا کا مکان ہے داخلہ نصیب ہو اس کے بعد اپنا گذشتہ حال بیان کیا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی یہ حالت دیکھی ہے کہ میں ان سات آدمیوں میں سے ہوں جو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہمارے پاس کھانے کے لئے درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا اس کے کھانے سے ہمارے منہ چھل گئے تھے۔ مجھے اتفاقا ایک چادر مل گئی تھی جس کو میں نے اپنے اور سعد رضی اللہ عنہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر لیا (حق تعالیٰ شانہ نے اس تنگ حالی اور تکالیف کا دنیا میں بھی یہ اجر مرحمت فرمایا کہ) ہم سات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کسی جگہ کا امیر نہ ہوا (چونکہ یہ جماعت بڑی تکالیف برداشت کرنے اور مجاہدات کے بعد امیر ہوئی ہے اس لئے اس کا معاملہ اپنی جماعتوں کے ساتھ بہترین معاملہ ہے جو تم کو بعد میں آنے والے امراء کے تجربہ حال سے معلوم ہو گا اس لئے کہ) تم ان امراء کا عنقریب تجربہ کرنے والے ہو جو بعد میں آنے والے ہیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کے راستہ میں اس وقت خوف دلایا گیا ہوں جس وقت کوئی بھی نہیں ڈرایا گیا اور اس قدر ستایا گیا ہوں کہ کوئی شخص بھی نہیں ستایا گیا۔ مجھے تیس شب و روز ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے کھانے کے لئے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے بجز اس تھوڑی سی مقدار کے جو بلال کے بغل میں چھپی ہوئی تھی۔

نوفل بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی ہیں ہمارے ہم نشین تھے اور حقیقت میں بہترین ہم نشین تھے۔ ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ کسی جگہ سے لوٹے واپسی میں ان کے ساتھ ہی ان کے مکان پر چلے گئے ۔ انہوں نے گھر جا کر اول غسل کیا جب وہ غسل سے فارغ ہو چکے تو ایک بڑے برتن میں روٹی اور گوشت لایا گیا۔عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کو دیکھ کر رونے لگے میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی کیوں روتے ہو؟ کہنے لگے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال تک کبھی بھی اس کی نوبت نہیں آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جو کی روٹی ہی سے شکم سیری فرمائی ہو۔ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاں تک میرا خیال ہم لوگوں کی یہ ثروت کی حالت کسی بہتری کے لئے نہیں ہے۔

بعض نام اور بعض القاب کا ذکر

حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے راستہ میں ملا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جا رہے تھے تذکرةً حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرا نام محمد ہے اور احمد اور نبی الرحمة ہے اور نبی التوبہ ہے اور میں مقفی ہوں اور حاشر ہوں اور نبی ملاحم ہوں ۔

جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بہت سے نام ہیں منجملہ ان کے محمد اور احمد ہے اور ماحی ہے جس کے معنی مٹانے والے کے ہیں حق تعالی شانہ نے میرے ذریعے کفر کو مٹایا ہے اور ایک نام حاشر ہے کہ حق تعالی شانہ قیامت میں حشر کے لئے سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اٹھائیں گے اور تمام امت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حشر کی جائے گی ۔ اور اٹھائی جائے گی۔ تو گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام امت کے حشر کا سبب بنے اور ایک نام میرا عاقب ہے جس کے معنی پیچھے آنے کے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء سے پیچھے تشریف لائے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نہیں آئے گا ۔

سینگی استعمال فرمانا

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے موضع ملل میں (جو مکہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ ہے) حالتِ احرام میں پشت قدم پر سینگی لگوائی ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے سینگی لگوانے کی اجرت کا مسئلہ پوچھا کہ جائز ہے یا نہیں ۔ انہوں نے فرمایا کہ ابو طیبہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی تھی۔ آپ نے دو صاع کھانا (ایک روایت میں کھجور بھی آیا) مرحمت فرمایا اور ان کے آقاؤں سے سفارش فرما کر ان کے ذمہ جو محصول تھا اس میں کمی کرا دی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ سینگی لگانا بہترین دوا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سینگی لگوائی اور مجھے اس کی مزدوری دینے کا حکم فرمایا میں نے اس کو ادا کیا۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گردن کی دونوں جانب پچھنے لگوائے اور دونوں شانوں کے درمیان اور اس کی اجرت بھی مرحمت فرمائی۔ اگر ناجائز ہوتی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیسے مرحمت فرماتے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم گردن کی دونوں جانبوں میں اور ہر دو شانوں کے درمیان سینگی لگواتے تھے اور عموماً 17 یا19 یا 21تاریخ میں اس کا استعمال فرماتے تھے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سینگی لگانے والے کو بلایا جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کا روزانہ کا محصول دریافت فرمایا تو انہوں نے تین صاع بتلایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کم کرا دیا اور سینگی لگانے کی اجرت مرحمت فرمائی۔

حیاء کا ذکر

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شرم و حیاء میں کنواری لڑکی جو اپنے پردہ میں ہو سے کہیں زیادہ بڑھے ہوئے تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ناگوار ہوتی تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ سے پہچان لیتے۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم غایت شرم کی وجہ سے اظہار ناپسندیدگی بھی نہ فرماتے تھے)۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاء اور شرم کی وجہ سے) مجھے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے محل شرم دیکھنے کی ہمت نہیں پڑی اور کبھی نہیں دیکھا۔

عادات کا ذکر

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی شخص کے کوئی چیز مانگنے پر انکار نہیں فرمایا۔
“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے حاضری کی اجازت چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص اپنے قبیلہ کا کیسا برا آدمی ہے۔ یہ ارشاد فرمانے کے بعد اس کو حاضری کی اجازت مرحمت فرمادی اور اس کے اندر آنے پر اس کے ساتھ نہایت نرمی سے باتیں کیں جب وہ چلا گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حاضر ہونے سے پہلے تو یہ لفظ ارشاد فرمایا تھا، پھر اس قدر نرمی سے اس کے ساتھ کلام فرمایا یہ کیا بات ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! بدترین لوگوں میں سے ہے وہ شخص کہ لوگ اس کی بدکلامی کی وجہ سے اس کو چھوڑ دیں ۔”

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اول تو تمام لوگوں سے زیادہ ہر وقت ہی سخی تھے (کہ کوئی بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا کہ خود فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے اور عطاؤں میں بادشاہوں کو شرمندہ کرتے تھے۔ نہایت سخت احتیاج کی حالت میں ایک عورت نے چادر پیش کی اور سخت ضرورت کے درجہ میں پہنی۔ جب ہی ایک شخص نے مانگ لی اور اس کو مرحمت فرما دی۔ قرض لے کر ضرورت مندوں کی ضرورت کو پورا کرنا اور قرض خواہ کے سخت تقاضے کے وقت کہیں سے اگر کچھ آگیا اور ادائے قرض کے بعد بچ گیا تو جب تک وہ تقسیم نہ ہو جائے گھر نہ جانا ایسے مشہور واقعات اتنی کثرت سے ہیں کہ ان کا احاطہ ہو ہی نہیں سکتا) بالخصوص رمضان المبارک میں تمام مہینہ اخیر تک بہت ہی فیاض رہتے ( کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گیارہ مہینے کی فیاضی بھی اس مہینے کی فیاضی کے برابر نہ ہوتی تھی) اور اس مہینہ میں بھی جس وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام تشریف لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کلام اللہ شریف سناتے اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھلائی اور نفع پہنچانے میں تیز بارش لانے والی ہوا سے بھی زیادہ سخاوت فرماتے تھے۔
“خارجہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت زید بن ثابت کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ حالات سنائیں انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا حالات سناؤں ( وہ احاطہ بیان سے باہر ہیں) میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ تھا (اس لئے تو یا ہر وقت حاضر باش تھا اور اکثر حالات سے واقف اس کے ساتھ ہی کاتب وحی بھی تھا) جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بلا بھیجتے میں حاضر ہو کر اس کو لکھ لیتا تھا (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے ساتھ غایت درجہ دلداری اور بے تکلفی فرماتے تھے جس قسم کا تذکرہ ہم کرتے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے ساتھ ویسا ہی تذکرہ فرماتے تھے۔ جب ہم لوگ کچھ دنیاوی ذکر کرتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس قسم کا تذکرہ فرماتے (یہ نہیں کہ بس آخرت ہی کا ذکر ہمارے ساتھ کرتے ہوں اور دنیا کی بات سننا بھی گوارا نہ کریں) اور جس وقت ہم آخرت کی طرف متوجہ ہوتے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخرت کے تذکرے فرماتے، یعنی جب آخرت کا کوئی تذکرہ شروع ہو جاتا تو اسی کے حالات اور تفصیلات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرماتے اور جب کچھ کھانے پینے کا ذکر ہوتا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ویسا ہی تذکرہ فرماتے۔ (کھانے کے آداب، فوائد، لذیذ کھانوں کا ذکر، مضر کھانوں کا تذکرہ وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ گذشتہ ابواب میں بہت سے ارشادات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نوع کے گزر چکے ہیں کہ سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے، زیتون کا تیل استعمال کیا کرو کہ مبارک درخت سے ہے وغیرہ) یہ سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے حالات کا تذکرہ کر رہا ہوں ۔”

“حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قوم کے بدترین شخص کی طرف سے بھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تالیف قلوب کے خیال سے اپنی توجہ اور اپنی خصوصی گفتگو مبذول فرماتے تھے، (جس کی وجہ سے اس کو اپنی خصوصیت کا خیال ہو جاتا تھا) چنانچہ خود میری طرف بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہات عالیہ اور کلام کا رخ بہت زیادہ رہتا تھا، حتیٰ کہ میں یہ سمجھنے لگا کہ میں قوم کا بہترین شخص ہوں اسی وجہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ توجہ فرماتے ہیں ۔ میں اسی خیال سے ایک دن دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میں افضل ہوں یا ابوبکر رضی اللہ عنہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر ( رضی اللہ عنہ)۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عمر رضی اللہ عنہ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا عمر ( رضی اللہ عنہ)۔ پھر میں نے پوچھا کہ میں افضل ہوں یا عثمان رضی اللہ عنہ ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عثمان (رضی اللہ عنہ)؟۔”

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے دس برس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی مجھے کسی بات پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اف تک بھی نہیں فرمایا نہ کسی کام کے کرنے پر یہ فرمایا کہ کیوں کیا اور اسی طرح نہ کبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ فرمایا کہ کیوں نہیں کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اخلاق میں تمام دنیا سے بہتر تھے (ایسے خلقت کے اعتبار سے بھی حتی کہ) میں نے کبھی کوئی ریشمی کپڑا یا خالص ریشم یا کوئی اور نرم چیز ایسی چھوئی جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی بابرکت ہتھیلی سے زیادہ نرم ہو اور میں نے کبھی کسی قسم کا مشک یا کوئی عطر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینہ کی خوشبو سے زیادہ خوشبو دار نہیں سونگھا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا جس پر زرد رنگ کا کپڑا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ ناگوار بات کو منہ در منہ منع نہ فرماتے تھے اس لئے سکوت فرمایا اور جب وہ شخص چلا گیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اس کو زرد کپڑے سے منع کر دیتے تو اچھا ہوتا۔

“حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو طبعا فحش گو تھے نہ بتکلف فحش بات فرماتے تھے، نہ بازاروں میں چلا کر (خلاف وقار) باتیں کرتے تھے۔ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف فرما دیتے تھے اور اس کا تذکرہ بھی نہ فرماتے تھے۔”
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔ نہ کبھی کسی خادم کو نہ کسی عورت (بیوی باندی وغیرہ) کو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے لئے کبھی کسی ظلم کا بدلہ لیا ہو۔ البتہ اللہ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کا مرتکب ہوتا (یعنی مثلاً کسی حرام فعل کا کوئی مرتکب ہوتا۔ شراح حدیث نے لکھا ہے کہ اسی میں آدمیوں کے حقوق بھی داخل ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ غصے والا کوئی شخص نہیں ہوتا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی دو امروں میں اختیار دئیے جاتے تو ہمیشہ سہل کو اختیار فرماتے تاوقتیکہ اس میں کسی قسم کی معصیت وغیرہ نہ ہو ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دوسرے دن کے لئے کسی چیز کو ذخیرہ بنا کر نہیں رکھتے تھے۔
“حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کسی ضرورت مند نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے پاس تو اس وقت کچھ موجود نہیں ہے۔ تم میرے نام سے خرید لو جب کچھ آ جائے گا تو میں ادا کر دوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس جو کچھ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم دے چکے ہیں (اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدرت میں نہیں ہے اس کا حق تعالیٰ شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکلف نہیں بنایا۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ مقولہ نا گوار گزرا تو ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) جس قدر جی چاہے خرچ کیجئے اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کیجئے (کہ جو ذات پاک عرش بریں کی مالک ہے اس کے یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کیا کمی ہو سکتی ہے)۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انصاری کا یہ کہنا بہت پسند آیا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا جس کا اثر چہرہ انور پر ظاہر ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حق تعالیٰ شانہ نے مجھے اس کا حکم فرمایا ہے۔”

ربیع کہتی ہیں کہ میں ایک طباق کھجوروں کا اور کچھ چھوٹی چھوٹی پتلی پتلی ککڑیاں لے کر حاضر خدمت ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا دستِ مبارک بھر کر سونا اور زیور مرحمت فرمایا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے اور اس پر بدلہ بھی دیا کرتے تھے۔
“حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے (میرے چھوٹے بھائی) حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے اہل مجلس کے ساتھ کا طرز پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ خندہ پیشانی اور خوش خلقی کے ساتھ متصف رہتے تھے (یعنی چہرہ انور پر تبسم اور بشاشت کا اثر نمایاں ہوتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نرم مزاج تھے (یعنی کسی بات میں لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موافقت کی ضرورت ہوتی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سہولت سے موافق ہو جاتے تھے) نہ آپ سخت گو تھے اور نہ سخت دل تھے۔ نہ آپ چلا کر بولتے تھے نہ فحش گوئی اور بدکلامی فرماتے تھے نہ عیب گیر تھے کہ دوسروں کے عیوب پکڑیں نہ زیادہ مبالغہ سے تعریف کرنے والے نہ زیادہ مذاق کرنے والے نہ بخیل (تین لفظ) اس جگہ نقل کیے گئے تینوں کا ترجمہ لکھ دیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند بات سے اعراض فرماتے تھے۔ یعنی ادھر التفات نہ فرماتے گویا سنی ہی نہیں دوسرے کی کوئی خواہش اگر آپ کو پسند نہ آتی تو اس کو مایوس بھی نہ فرماتے تھے اور اس کا وعدہ بھی نہ فرماتے تھے آپ نے تین باتوں سے اپنے آپ کو بالکل علیحدہ فرما رکھا تھا۔ جھگڑے سے اور تکبر سے اور بیکار بات سے اور تین باتوں سے لوگوں کو بچا رکھا تھا، نہ کسی کی مذمت فرماتے تھے، نہ کسی کو عیب لگاتے تھے، نہ کسی کے عیوب تلاش فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف وہی کلام فرماتے تھے جو باعث اجر وثواب ہو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو حاضرین مجلس اس طرح گردن جھکا کر بیٹھتے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں ( کہ ذرا بھی حرکت ان میں ہوتی تھی کہ پرندہ ذرا سی حرکت سے اڑجاتا ہے) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو جاتے تب وہ حضرات کلام کرتے (یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کے درمیان کوئی شخص نہ بولتا تھا جو کچھ کہنا ہوتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چپ ہونے کے بعد کہتا تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی بات میں نزاع نہ کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی شخص بات کرتا تو اس کے خاموش ہونے تک سب ساکت رہتے ۔ ہر شخص کی بات (توجہ سے سننے میں) ایسی ہوتی جیسے پہلے شخص کی گفتگو یعنی بے قدری سے کسی کی بات نہیں سنی جاتی تھی، ورنہ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجلس کی ابتداء میں تو توجہ تام ہوتی ہے پھر کچھ دیر ہونے سے اکتانا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ بے توجہی سی ہو جایا کرتی ہے) جس بات سے سب ہنستے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تبسم فرماتے اور جس سے سب لوگ تعجب کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تعجب میں شریک رہتے یہ نہیں کہ سب سے الگ چپ چاپ بیٹھے رہیں بلکہ معاشرت اور طرز کلام میں شرکاء مجلس کے شریک حال رہتے) اجنبی مسافر آدمی کی سخت گفتگو اور بے تمیزی کے سوال پر صبر فرماتے (یعنی گاؤں کے لوگ جا بے جا سوالات کرتے آداب کی رعایت نہ کر کے ہر قسم کے سوالات کرتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر گرفت نہ فرماتے ان پر صبر کرتے) اور اس وجہ سے وہ لوگ ہر قسم کے سوالات کر لیتے تھے۔ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس اقدس تک مسافروں کو لے کر آیا کرتے تھے (تاکہ ان کے ہر قسم کے سوالات سے خود بھی منتفع ہوں اور ایسی باتیں جن کو ادب کی وجہ سے یہ حضرات خود نہ پوچھ سکتے تھے وہ بھی معلوم ہو جائیں) آپ یہ بھی تاکید فرماتے رہتے تھے کہ جب کسی طالب حاجت کو دیکھو تو اس کی امداد کیا کرو ( اگر آپ کی کوئی تعریف کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گوارا نہ فرماتے البتہ) بطور شکریہ اور ادائے احسان کے کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سکوت فرماتے۔ یعنی حد سے تجاوز کرتا تو روک دیتے۔ کسی کی گفتگو قطع نہ فرماتے تھے کہ دوسرے کی بات کاٹ کر اپنی شروع نہ فرمائیں ۔ البتہ اگر کوئی حد سے تجاوز لگتا تو اسے روک دیتے تھے یا مجلس سے تشریف لے جاتے تاکہ وہ خود رک جائے ۔”