ہنسی کا ذکر

ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے پاس (ان کے زمانہ خلافت میں) ایک مرتبہ (گھوڑا وغیرہ) کوئی سواری لائی گئ آپ نے رکاب میں پاؤں رکھتے ہوئے بسم اللہ کہا اور جب سوار ہو چکے تو الحمد للہ کہا پھر یہ دعا پڑھی سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس کو ہمارے لئے مسخر فرما دیا اور ہم کو اس کے مطیع بنانے کی طاقت نہ تھی اور واقعی ہم سب لوگ اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں علماء فرماتے ہیں کہ سواری چونکہ اسباب ہلاکت میں سے ہے اس لئے سواری کی تسخیر پر حق تعالی جل شانہ کے شکریہ کے ساتھ اپنی موت کے ذکر کو بھی متصل فرمادیا کہ ہم آخر کار مرنے کے بعد لوٹ کر اسی کی طرف جانے والے ہیں ۔) پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے الحمد للہ تین مرتبہ کہا پھر اللہ اکبر تین مرتبہ کہا پھر سبحنک انی ظلمت نفسی فاغفرلی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت۔ تیری ذات ہر عیب سے پاک ہے اور میں نے تیری نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے میں اور اوامر کی اطاعت نہ کرنے میں اپنے ہی نفس پر ظلم کیا ہے ۔ پس یا اللہ! آپ میری مغفرت فرمائیں ۔ کیونکہ مغفرت تو آپ کے سوا اور کوئی کر ہی نہیں سکتا اس دعا کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ ہنسے۔ ابن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو حضرت علی نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح دعائیں پڑھی تھیں ۔ اور اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے تبسم کی وجہ پوچھی تھی جیساکہ تم نے مجھ سے پوچھی تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ حق تعالی جل شانہ بندہ کے اس کہنے پر کہ میرے گناہ تیرے سوا کوئی معاف نہیں کر سکتا ۔ خوش ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی شخص گناہ معاف نہیں کر سکتا ۔ اللھم رب اغفرلی ولوالدی وانہ لایغفر الذنوب الا انت اللھم لا احصی ثناء علیک لک الکبریاء والعظمة۔

حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پنڈلیاں کسی قدر باریک تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہنسنا صرف تبسم ہوتا تھا ۔ جب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرتا تو دل میں سوچتا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سرمہ لگائے ہوئے ہیں حالانکہ اس وقت سرمہ لگائے ہوئے نہیں ہوتے تھے۔

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تبسم کرنے والا نہیں دیکھا۔

عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ ہی کی یہ بھی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کاہنسنا تبسم سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔

“حضرت ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو خوب جانتا ہوں جو سب سے اول جنت میں داخل ہو گا، اور اس سے بھی خوب واقف ہوں جو سب سے آخر میں جہنم سے نکالا جائے گا ۔ قیامت کے دن ایک آدمی دربار الٰہی میں حاضر کیا جائے گا اسکے لئے یہ حکم ہو گا کہ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اس پر پیش کئے جائیں کہ تو نے فلاں دن فلاں گناہ کئے ہیں تو وہ اقرار کرے گا ۔ اس لئے کہ انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی اور اپنے دل میں نہایت ہی خوفزدہ ہو گا کہ ابھی صغائر ہی کا نمبر ہے ۔ کبائر پر دیکھیں کیا گزرے؟ کہ اس دوران میں یہ حکم ہو گا کہ اس شخص کے ہر گناہ کے بدلے ایک ایک نیکی دی جائے وہ شخص یہ حکم سنتے ہی خود بولے گا کہ میرے تو ابھی بہت سے گناہ باقی ہیں جو یہاں نظر نہیں آتے ۔ ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مقولہ نقل فرما کر ہنسے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہوئے ۔ ہنسی اس بات پر تھی کہ جن گناہوں کے اظہار سے ڈر رہا تھا ان کے اظہار کا خود طالب بن گیا ۔”

جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے مسلمان ہونے کے بعد سے کسی وقت مجھے حاضری سے نہیں روکا ۔ اور جب مجھے دیکھتے تو ہنستے اور دوسری روایت میں ہے کہ تبسم فرماتے تھے۔

عامر بن سعید کہتے ہیں کہ میرے والد سعد نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق کے دن ہنسے ۔ حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عامر کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ کس بات پر ہنسے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ ایک کافر ڈھال لئے ہوئے تھا اور سعد بڑے تیر انداز لیکن وہ اپنی ڈھال ادھر ادھر کر لیتا تھا جس کی وجہ سے اپنی پیشانی کا بچاؤ کر رہا تھا۔ (گویا مقابلہ میں سعد کا تیر نہ لگنے دیتا تھا۔ حالانکہ یہ مشہور تیر انداز تھے) سعد نے ایک مرتبہ تیر نکالا (اور اس کی کمان میں کھینچ کر انتظار میں رہے ) جس وقت اس نے ڈھال سے سر اٹھایا فورا ایسا لگایا کہ پیشانی سے چوکا نہیں اور فوراً گر گیا ۔ ٹانگ بھی اوپر اٹھ گئی ۔ پس حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس قصہ پر ہنسے میں نے پوچھا کہ اس میں کونسی ہنسنے کی بات ہے انہوں نے فرمایا کہ سعد کے اس فعل پر ۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اس شخص کو جانتا ہوں جو سب سے اخیر میں آگ سے نکلے گا وہ ایک ایسا آدمی ہو گا کہ زمین پر گھسٹتا ہوا دوزخ سے نکلے گا کہ ( جہنم کے عذاب کی سختی کی وجہ سے سیدھے چلن پر قادر نہ ہو گا) اس کو حکم ہو گا کہ جا جنت میں داخل ہو جا ۔ وہ وہاں جا کر دیکھے گا کہ لوگوں نے تمام جگہوں پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ سب جگہیں پر ہو چکی ہیں لوٹ کر بارگاہ الہی میں اس کی اطلاع کر یگا وہاں سے ارشاد ہو گا کہ کیا دنیوی منازل کی حالت بھی یاد ہے (کہ جب جگہ پر ہو جائے تو آنے والے کی گنجائش نہیں ہوتی اور پہلے جانے والے جس جگہ چاہیں قبضہ کر لیں اور بعد میں آنے والوں کے لئے جگہ نہ رہے اس عبارت کا ترجمہ اکابر علماء نے یہ ہی تحریر فرمایا ہے مگر بندہ ناچیز کے نزدیک اگر اس کا مطلب یہ کہا جائے تو زیادہ اچھا معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی وسعت اور فراخی بھی یاد ہے کہ تمام دنیا کتنی بڑی تھی۔ اور یہ اس لئے یاد دلایا تاکہ آئندہ تمام دنیا سے دس گنا زائد اس کو عطا فرمانے کا اعلان ہونے والا ہے تو ساری دنیا کا ایک مرتبہ تصور کرنے کے بعد اس عطیہ کی کثرت کا اندازہ ہو) وہ عرض کرے گا کہ رب العزت خوب یاد ہے اس پر ارشاد ہو گا کہ اچھا کچھ تمنائیں کرو جس نوع سے دل چاہتا ہے وہ اپنی تمنائیں بیان کرے گا وہاں سے ارشاد ہو گا کہ اچھا تم کو تمہاری تمنائیں اور خواہشات بھی دیں اور تمام دنیا سے دس گنا زائد عطا کیا وہ عرض کرے گا کہ یا اللہ آپ بادشاہوں کے بادشاہ ہو کر مجھ سے تمسخر فرماتے ہیں (کہ وہاں ذرا سی بھی جگہ نہیں ہے اور آپ تمام دنیا سے دس گنا زائد مجھے عطا فرما رہے ہیں) ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب اس شخص کا یہ مقولہ نقل فرما رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہنسی آ گئی حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک بھی ظاہر ہوئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے