ہم جنس پرستی کے نقصانات

مردوں کی آپس میں بدکاری
حیوانات میں بھی اتنا شعور ہوتا ہے کہ وہ شہوت پوری کرنیکے لئے ہم جنس کی طرف راغب نہیں ہوتے لیکن انسان جب پستی اور ذلت کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اسفل سافلین کا نقشہ پیش کرتے ہوئے ڈھور ڈنگروں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔اس گناہ کے سبب اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی بستی کو تباہ و برباد کرکے عبرت کا نشان بنا دیا اور قرآن کریم میں جا بجا ان کے عبرتناک انجام کو ہماری ہدایت کے لئے بیان فرمایا لیکن افسوس صد افسوس ہم ایک طرف سے رسول اللہ ﷺ کے امتی ہونے کے دعوے دار ہیں اور دوسری طرف ان بد اعمال میں مبتلا ہیں جن سے مسلمان تو درکنار شریف طبع او ر سلیم فطرت کا فر حتی کہ حیوانات بھی نفرت کریں۔اس گناہ کی عادت کم عمر خوبصور ت لڑکوں سے ملنے ان کے ساتھ تنہائی میں قریب ہونے کی وجہ سے پید اہوتی ہے بعض لوگ اس طرح خوبصورت بچوں کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ بعض نوجوان لڑکے ایک دوسرے کی کشش محسوس کرکے محبت کرنے لگتے ہیں ان کے باہمی پیارو محبت بوس و کنا راکٹھے لیٹنے یا سونے سے آہستہ آہستہ شرم حیا ختم ہو جاتی ہے اور وہ اس بری عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں بعض لوگ اس عادت کے اتنے غلام ہو جاتے ہیں کہ وہ صرف لڑکوں سے محبت کرنے لگتے ہیں اکثر یہ ہوتا ہے کہ اس بد عادت کے عادی ہو جانے پر مرد اپنی بیوی کی طرف رغبت نہیں کرتے اور انجام کار ان کی زندگی ناکامی کا شکار ہو جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس بدکار قوم کی تباہی کا واقعہ یوں بیان فرمایا ہے۔

وَلُوطاً اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖٓ اَتَاْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمْ بِہَا مِنْ اَحَدٍمِّنَ الْعٰلَمِیْنَO اِنَّکُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّنْ دُونِ النِّسَآءِ ط بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَO وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ اِلَّآ اَنْ قَالُوْآ اَخْرِجُوہُم مِّنْ قَرْیَتِکُمْ ج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُونَ O فَاَنْجَیْْنٰہُ وَاَہْلَہ‘ٓ اِلاَّ امْرَاَتَہُ ز کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَO وَاَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً ط فَانْظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ O

(سورۃ الاعراف ۸۰۔۸۴)
ترجمہ۔اور بھیجا لوط ؑ کو جب کہا انہوں نے اپنی قوم کو کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں تم تو دوڑتے ہو مردوں پر شہوت کے مارے عورتوں کو چھوڑ کر۔بلکہ تم لوگ ہو حد سے گزرنے والے۔ اور کچھ جواب نہ دیا ان کی قوم نے مگر یہی کہاکہ نکالو ان کو اپنے شہر سے یہ لوگ بہت ہی پاک رہنا چاہتے ہیں ۔پھر بچا دیا ہم نے اس کو (لوط ؑ ) اور اس کے گھر والوں کو مگر اس کی عورت کہ رہ گئی وہاں کے رہنے والوں میں۔ اور برسایا ہم نے ان کے اوپر مینہ یعنی پتھروں کا پھر دیکھ کیا ہوا انجام گناہ گاروں کا۔
تفسیر۔اللہ تعالیٰ نے اس بستی کو الٹ کر اوپر سے پھینک دیا اور ان پر پتھروں کی بارش کی گئی یہ پتھر مٹی کی بنی ہوئی کنکریاں تھیں ان کی مخصوص علامت تھی جن سے انہیں پہچان لیا جاتا تھا اس شرمناک گناہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر مختلف قسم کے عذاب نازل فرمائے ۔ان کی آبادی اور مکان ان پر الٹ دئیے گئے اور انہیں زمین میں دھنسا دیا گیا اور آسمان سے پتھر برسائے گئے ان کو سنگسار کیا گیا ، ان کی آنکھیں اندھی کر دی گئیں اور ہمیشہ کے لئے یہ عذاب لازم کر دیا گیا۔آخر میں اللہ تعالیٰ اس بات کیطرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ جو لوگ بے حیائی اور بدکاری کا راستہ اختیا رکرتے ہیں وہ قوم لوط کا انجام دیکھ کر عبرت حاصل کریں اوراس شرمناک کام سے توبہ کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے