گناہوں سے روکنے والے ہی عذاب سے نجات پاتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بات صراحت سے بیان فرما دی ہے کہ جب کوئی قوم عذاب الٰہی کا شکار ہو تی ہے تو صرف وہ لوگ نجات پاتے جو گناہوں سے منع کرنیو الے ہوتے ہیں باقی سب لوگ عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

فَلَمَّانَسُوْ ا مَا ذُکِّرُوْ ابِہٖٓ اَنْجَیْنَاالَّذِیْنَ یَنھَوْنَ عَنِ السُّوْٓ ءِ وَاَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابِ بَءِیْسٍ بِمَاکَانُوْ ا یَفْسُقُوْنَ۔

(الاعراف ۸: ۱۶۵)
ترجمہ۔پھر جب وہ بھول گئے اس کو جو ان کو سمجھایا تھا تونجات دی ہم نے ان کو جو منع کرتے تھے برے کام سے۔اور پکڑا گنا ہ گاروں کو برے عذا ب میں ان کی نافرمانی کے سبب۔
گناہوں سے نہ روکنے پر نیک لوگ بھی عذاب الٰہی سے نہیں بچ سکتے
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ

وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لاَّ تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَآ صَّۃً ج وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِO

ترجمہ۔اور بچتے رہو اس فساد سے کہ نہیں پڑے گا تم میں سے خاص ظالموں ہی پر اور جان لو کہ اللہ کاعذاب سخت ہے۔

(الانفال۔۲۵)
تشریح:۔ یعنی فرض کیجئے ایک قوم کے اکثرافراد نے ظلم و عصیان کا وطیرہ اختیار کر لیا کچھ لوگ جو اس سے علیحدہ رہے انہوں نے مداہنت (نرمی) برتی نہ نصیحت کی ،نہ اظہار نفرت کیا تو یہ فتنہ ہے جس کی لپیٹ میں وہ ظالم اور یہ خاموش مداہن سب آ جائیں گے۔جب عذاب آئے گا تو حسب مراتب سب اس میں شامل ہونگے کوئی نہ بچے گا اس تفسیر کے موافق آیت سے مقصود یہ ہو گا کہ خدا اور رسول ﷺ کی حکم برداری کے لئے خود تیار رہو اور نا فرمانوں کو نصیحت و فہمائش کرو ،نہ مانیں تو بیزاری کا اظہار کرو اگر ایسا نہ کیا گیا تو عذاب عام ہو گا اور نافرمان و فرماں بردار سب ہلاک ہو جائیں گے۔
امت محمدیہ ﷺکو اﷲتعا لیٰ نے دین کی محنت کے واسطے چنا ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

وَجَاھِدُوْا فِی اﷲِحَقَّ جِھَادِہٖ ط ھُوَاجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَ جٍ ط مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھیْمَ ط ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمیْنَ ۵ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْاشُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ج فَاَقِیْمُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتُواالزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِااﷲِ ط ھُوَموْلٰکُم ج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ o

(الحج ۷۸)
اور محنت کرو اﷲ کے واسطے جیسی کہ چاہئے اسکے واسطے محنت اسنے تم کو پسند کیا اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل۔دین تمہارے باپ ابراہیم کا۔اسی نے تمہارا نام رکھا مسلمان۔پہلے سے اور اس قرآن میں تا کہ رسول ہو بتانے والا تم پراورتم ہو بتانے والے لوگوں پر۔سو قائم رکھو نمازاور دیتے رہو زکوٰۃاور مضبوط پکڑو اﷲکو وہ تمہارا مالک ہے ۔سو خوب مالک ہے اور خوب مددگار۔
“اور محنت کرو اﷲ کے واسطے جیسی کہ چاہئے اسکے واسطے محنت ”
تشریح۔اپنے نفس کو درست رکھنے اور دنیا کو درستی پر لانے کے لئے پوری محنت کرو جو اتنے بڑے اہم مقصد کی شان کے مطابق ہوآخر دنیاوی مقاصد میں کامیانی کے لئے کتنی محنتیں اٹھاتے ہو۔ یہ تو دین کا اور آخرت کی ہمیشہ کی کامیابی کا راستہ ہے جسمیں جس قدر محنت برداشت کی جائے انصافاً تھوڑی ہے۔

ِ،،اسنے تم کو پسند کیا”
تشریح۔ کہ سب سے اعلٰی اور افضل پیغمبر دیااور تمام شریعتوں سے اکمل شریعت عنایت کی۔تمام دنیا میں خدا کا پیغام پہنچانے کیلئے تم کو چھانٹ لیا اور سب امتوں پر فضیلت بخشی۔
“تا کہ رسول ہو بتانے والا تم پراورتم ہو بتانے والے لوگوں پر”
تشریح۔یعنی پسند کیا تم کو اس واسطے کہ تم اور امتوں کو سکھاؤ اور رسول تم کو سکھائے اور یہ امت جو سب سے پیچھے آئی ہے یہ ہی غرض ہے کہ تمام امتوں کی غلطیاں درست کرے ا ور سب کو سیدھی راہ بتائے گویا جو شرف اس کو ملا ہے اسی وجہ سے ہے کہ یہ دنیا کے لئے معلم بنے اور خدا کا پیغام پہنچانے کی محنت کرے۔
گناہوں سے نہ روکنا اﷲ تعا لٰی کی لعنت کا سبب ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے،

لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفرَُ وْا مِنْ بَنِیٓ اِسْرَآءِ یْلَ عَلیٰ لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِیسَی ابْنِ مَرْےَمَ ط ذ ٰ لِکَ بِمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ o کَانُوْا لَا ےَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْھُ ط لَبؤسَ مَا کَا نُوْ ےَفْعَلُوْنَ o

(الما ئدھ)
ترجمہ: بنو اسر ائیل کے جو لوگ کافر ہوئے ان پر داؤدؑ اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت بھیجی گئی تھی یہ سب اس لیئے ہوا کہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے گزر جایا کرتے تھے۔ وہ جس بدی کا ارتکاب کرتے تھے اس سے ایک دوسرے کو منع نہیں کرتے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا طرز عمل نہا یت برا تھا۔(آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی)
تفسیر؛ ان آیات میں بنی اسرائیل پر اﷲ تعا لیٰ کی لعنت اور غضب اور ان کی بد اعمالیوں کا تذکرہ فر مایا ہے۔ان بد اعمالیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو گناہ کے کام سے نہیں روکتے تھے۔تفسیر ابن کثیرؒ میں مسند احمدؒ سے نقل کیا ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل گناہوں میں پڑ گئے تو ان کے علما نے ان کو منع کیا وہ گناہوں سے باز نہ آ أ پھر یہ منع کرنے والے ان کے ساتھ مجلسوں میں اٹھتے بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے اس وجہ سے اﷲ نے بعض کے دلوں کوبعض پر مار دیا یعنی ایک جیسا کر دیا اور ان پر داؤد ؑ اور عیسیٰ ابن مریم ؑ کی زبانی لعنت کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے