گفتگوکا ذکر

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو تم لوگوں کی طرح لگاتار جلدی جلدی نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ صاف صاف ہر مضمون دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا پاس بیٹھنے والے اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیتے تھے۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (بعض مرتبہ) کلام کو (حسب ضرورت) تین تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپ کے سننے والے اچھی طرح سمجھ لیں ۔

“حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف اکثر بیان فرماتے ہیں عرض کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کی کیفیت مجھ سے بیان فرمائیے، انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (آخرت کے) غم میں متواتر مشغول رہتے ۔ (ذات و صفات باری تعالی یا امت کی بہبود کے) ہر وقت سوچ میں رہتے تھے ان امور کی وجہ سے کسی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بے فکری اور راحت نہ ہوتی تھی (یا یہ کہ امور دینویہ کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راحت نہ ملتی بلکہ دنیوی امور کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو راحت اور چین ملتا تھا چنانچہ حدیث میں ہے کہ میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز ہے) اکثر اوقات خاموش رہتے تھے بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام گفتگو ابتدا سے انتہا تک منہ بھر کر ہوتی تھی (یہ نہیں کہ نوک زبان سے کٹتے ہوئے حروف کے ساتھ آدھی بات زبان سے کہی اور آدھی متکلم کے ذہن میں رہی جیساکہ موجودہ زمانہ کے متکبرین کا دستور ہے) جامع الفاظ کے ساتھ(جن کے الفاظ تھوڑے ہوں اور معانی بہت ہوں) کلام فرماتے تھے، چنانچہ ملا علی قاری نے ایسی چالیس احادیث اپنی شرح میں جمع کی ہیں جو نہایت مختصر ہیں عربی حاشیہ پر نقل کر دیں ہیں جو یاد کرنا چاہے اس کو دیکھ کر یاد کر لے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کلام ایک دوسرے سے ممتاز ہوتا تھا نہ اس میں فضولیات ہوتی تھی اور نہ کوتاہیاں کہ مطلب پوری طرح واضح نہ ہو ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سخت مزاج نہ تھے نہ کسی کی تذلیل فرماتے تھے، اللہ کی نعمت خواہ کتنی ہی تھوڑی ہو اس کو بہت بڑا سمجھتے تھے اسکی مذمت نہ فرماتے تھے البتہ کھانے کی اشیاء کی نہ مذمت فرماتے نہ تعریف فرماتے (مذمت نہ فرماتے تو ظاہر ہے کہ حق تعالی شانہ کی نعمت ہے زیادہ تعریف نہ فرمانا اس لئے تھا کہ اس سے حرص کا شبہ ہوتا ہے البتہ اظہار رغبت یا کسی دلداری کی وجہ سے کبھی کبھی خاص خاص چیزوں کی تعریف بھی فرمائی ہے ) دنیا اور دنیاوی امور کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غصہ نہ آتا تھا (چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کی پرواہ بھی نہ ہوتی تھی اس لئے کبھی دنیوی نقصان پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی غصہ نہ آتا تھا) البتہ کسی دینی امر اور حق بات سے کوئی شخص تجاوز کرتا تو اس وقت آپ کے غصہ کی کوئی شخص تاب نہ لا سکتا تھا اور کوئی اس کو روک بھی نہ سکتا تھا۔ یہاں تک کہ آپ اس کا انتقام نہ لے لیں ۔ اپنی ذات کے لئے نہ کسی پر ناراض ہوتے تھے نہ اس کا انتقام لیتے تھے جب کسی وجہ سے کسی جانب اشارہ فرماتے تو پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے (اس کی وجہ بعض علماء نے یہ بتلائی ہے کہ انگلیوں سے اشارہ تواضع کے خلاف ہے اس لئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پورے ہاتھ سے اشارہ فرماتے اور بعض علماء نے یہ تحریر فرمائی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ انگلی سے توحید کی طرف اشارہ فرمانے کی تھی اس لئے غیراللہ کی طرف انگلی سے اشارہ نہ فرماتے تھے) جب کسی بات پر تعجب فرماتے تو ہاتھ پلٹ لیتے تھے اور جب بات کرتے تو ملا لیتے (کبھی گفتگو کے ساتھ ہاتھوں کو بھی حرکت فرماتے) اور کھلی داہنی ہتھیلی کو بائیں انگوٹھی کے اندرونی حصہ پر مارتے اور جب کسی پر ناراض ہوتے تو اس سے منہ پھیر لیتے اور بے توجہی فرماتے اور یا درگزر فرماتے اور جب خوش ہوتے تو حیا کی وجہ سے آنکھیں گویا بند فرما لیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکثر ہنسی تبسم ہوتی تھی ۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دندان مبارک اولے کی طرح چمکدار سفید ظاہر ہوتے تھے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے