گزر اوقات کا ذکر

حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کبھی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر صبح کے کھانے میں یا شام کے کھانے میں روٹی اور گوشت دونوں چیزیں جمع نہیں ہوتی تھیں مگر حالت ضعف میں ۔

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا تم لوگ کھانے پینے میں اپنی مرضی کے موافق منہمک نہیں ہو (اور جتنا دل چاہے تم لوگ نہیں کھاتے ہو) حالانکہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ردی کھجوریں پیٹ بھر نہیں تھیں ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم لوگ یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال وہ ہیں کہ ایک ایک ماہ تک ہمارے یہاں آگ نہیں جلتی تھی صرف کھجور اور پانی پر گزارا تھا۔

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگوں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے شدت بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر بندھے ہوئے پتھر دکھلائے کہ ہر شخص کے پیٹ پر بھوک کی شدت کی وجہ سے ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے دکھلائے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو شدت بھوک ہم سے زیادہ تھی اور ہم سے زیادہ وقت بدوں کھائے گزر چکا تھا۔

“حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت دولت خانہ سے باہر تشریف لائے کہ اس وقت نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ باہر تشریف لانے کی تھی نہ کوئی شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت دولت خانہ پر حاضر ہوتا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی باہر تشریف آوری پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ موجود تھے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر سے خلاف معمول بے وقت آنے کا سبب دریافت فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ جمال جہاں آرا کی زیارت اور سلام کے لئے حاضر ہوا ہوں ( حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کمال تناسب کی وجہ سے تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر خلاف عادت باہر تشریف آوری کی نوبت آئی تو اس یک جان دو قالب پر بھی اس کا اثر ہوا) بندہ کے نزدیک یہی وجہ اولیٰ ہے اور یہی کمال تناسب بڑی وجہ ہے نبوی دور کے ساتھ خلافت صدیقیہ کے اتصال کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اگر مناسب تامہ نہ ہونے کی وجہ وقتی احکام میں کچھ تغیر ضرور ہوتا اور صحابہ کرام کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فراق کے ساتھ یہ دوسرا مرحلہ مل کر رنج و ملال کو ناقابل برداشت بنانے والا ہوتا بخلاف صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس درجہ اتصال اور قلبی یک جہتی تھی کہ جن مواقع پر جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا وہی اکثر حضرت ابوبکر صدیق کا بھی تھا۔ چنانچہ حدیبیہ کا قصہ مشہور ہے جس کا ذکر حکایات صحابہ میں گزر چکا ہے مسلمانوں نے نہایت دب کر ایسی شرائط پر کفار سے صلح کی تھی کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اس کا تحمل بھی نہ کرسکے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہایت جوش میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر نے کہا کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ۔ حضرت عمر نے کہا پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور اس کی نافرمانی نہیں کر سکتا وہی مددگار ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کہا بے شک لیکن کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسی سال مکہ میں جائیں گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا نہیں یہ تو نہیں کہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی جوش میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے ابوبکر! کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے برحق نبی نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا بے شک۔ حضرت عمر! کیا ہم حق پر اور دشمن باطل پر نہیں؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بے شک ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! پھر ہم کو دین کے بارے میں یہ ذلت کیوں دی جا رہی ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! اے آدمی! یہ بلا تردد سچے رسول ہیں اور اللہ کی ذرا نافرمانی کرنے والے نہیں ہیں وہی ان کا مددگار ہے تو ان کی رکاب کو مضبوط پکڑے رہ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ نہیں کہا تھا کہ ہم مکہ جائیں گے اور طواف کریں گے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! کیا تجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ اسی سال مکہ جائیں گے حضرت عمر رضی اللہ عنہ! نہیں یہ تو نہیں فرمایا تھا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ! بس تو مکہ میں ضرور جائے گا اور طواف کرے گا۔ بخاری شریف میں یہ قصہ مفصل مذکورہ ہے اور بھی اس قسم کے متعدد واقعات حیرت انگیز ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتہادی خطا ہوئی تو اس میں حضرت ابوبکر شریک ہیں جیساکہ بدر کے قیدیوں کے معاملہ میں جس کا قصہ سورہ انفال کے اخیر میں ہے۔ اس صورت میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا اس وقت خلاف معمول باہر آنا دل را بدل رہ یست، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر کا اثر تھا گو بھوک بھی لگی ہوئی ہو۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا آنا بھی بھوک کے تقاضے کی وجہ سے تھا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھ کر اس کا خیال بھی جاتا رہا اسی لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر اس کا ذکر نہیں کیا۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری بھوک ہی کی وجہ سے تھی مگر اس کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گرانی نہ ہو کہ دوست کی تکلیف اپنی تکلیف پر غالب ہو جایا کرتی ہے) تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضر خدمت ہوئے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بے وقت حاضری کا سبب پوچھا انہوں نے عرض کیا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھوک کی وجہ سے حاضر ہوا ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بھوک تو کچھ میں بھی محسوس کر رہا ہوں ۔ اس کے بعد تینوں حضرات ابو آلہیثم انصاری کے مکان پر تشریف لے گئے وہ اہل ثروت لوگوں میں سے تھے کھجوروں کا بڑا باغ تھا۔ بکریاں بھی بہت سی تھی۔ البتہ خادم ان کے پاس کوئی نہیں تھا اس لئے گھر کا کام سب خود ہی کرنا پڑتا تھا۔ یہ حضرات جب ان کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ گھر والوں کے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں جو خادم نہ ہونے کی وجہ سے خود ہی لانا پڑتا تھا۔ لیکن ان حضرات کے پہنچنے پر تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ بھی مشکیزہ کو جو مشکل سے اٹھتا تھا۔ بدقت اٹھاتے ہوئے واپس آ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہو کر (اپنی خوش قسمتی پر ناز کرتے اور زبان حال ہم نشین جب میرے ایام بھلے آئیں گے بن بلائے میرے گھر آپ چلے آئیں گے پڑھتے ہوئے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لپٹ گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پر اپنے ماں باپ کو نثار کرنے لگے۔ یعنی عرض کرتے تھے کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ۔ اس کے بعد باغ میں چلنے کی درخواست کی وہاں پہنچ کر فرش بچھایا اور دین و دنیا کے سردار مایہ فخر مہمان کو بٹھا کر ایک خوشہ (جس میں طرح طرح کی کچی پکی آدھ کچری کھجوریں تھیں) سامنے حاضر کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سارا خوشہ توڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس میں ابھی کچھ کچی بھی ہیں جو ضائع ہوں گی۔ پکی پکی چھانٹ کر کیوں نہ توڑیں؟ میزبان نے عرض کیا تاکہ اپنی پسند سے پکی اور گری ہر نوع کی حسب رغبت نوش فرمائیں ۔ تینوں حضرات نے کھجوریں تناول فرمائیں اور پانی نوش فرمایا اس کے بعد حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (جن کا ہر ہر لحظہ تعلیم امت تھا) ارشاد فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ بھی اس نعیم میں شامل ہے جس کا سوال قیامت میں ہو گا اور سورہ الہٰکم التکاثر کے ختم پر حق تعالیٰ شانہ نے اس کا ذکر فرمایا ان کے شکر کے متعلق سوال ہو گا کہ ہماری نعمتوں کا کس درجہ شکر ادا کیا اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک پھر اس وقت کی نعمتوں کا اظہار کے طور پر فرمایا کہ) ٹھنڈا سایہ، ٹھنڈا پانی اور ترو تازہ کھجوریں ۔ اس کے بعد میزبان کھانے کی تیاری کے لئے جانے لگے۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ فرط محبت میں کیفما اتفق مت ذبح کر دینا۔ بلکہ ایسا جانور ذبح کرنا جو دودھ کا نہ ہو میزبان نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا اور بعجلت تمام کھانا تیار کر کے حاضر خدمت کیا اور مہمانوں نے تناول فرمایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس وقت یہ ملاحظہ فرما کر کہ مشتاق میزبان سب کام خود ہی کر رہا ہے اور شروع میں میٹھا پانی بھی خود ہی لاتے دیکھا تھا) دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ۔ نفی میں جواب ملنے پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کہیں سے غلام آ جائیں تو تم یاد دلانا اس وقت تمہاری ضرورت کا خیال رکھا جائے گا۔ اتفاقاً ایک جگہ سے دو غلام آئے تو ابو آلہیثم نے حاضر ہو کر وعدہ عالی جاہ کی یاد دہانی کرائی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں غلاموں میں سے جو دل چاہے پسند کر لو۔ جو تمہاری ضرورت کے مناسب ہو (یہ جان نثار حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنی کیا رائے رکھتے اس لئے) درخواست کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی میرے لئے پسند فرمائیں (وہاں بجز دینداری کے اور کوئی وجہ ترجیح اور پسندیدگی کی ہو ہی نہیں سکتی تھی اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مشورہ دینے والا امین ہوتا ہے اس لئے میں امین ہونے کی حیثیت سے فلاں غلام کو پسند کرتا ہوں اس لئے کہ میں نے اس کو نماز پڑھتے دیکھا ہے لیکن میری ایک وصیت اس کے بارے میں یاد رکھیو کہ اس کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کیجیو (اول حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ کے ضابطہ کو ذکر فرما کر گویا اس پر تنبیہ فرمائی کہ میری جو پسندیدگی ہے وہ ذمہ دارانہ اور امانتداری کی ہے پھر ایک کو پسند فرما کر وجہ ترجیح بھی ظاہر فرمائی کہ وہ نمازی ہے۔ یہ وجہ ہے اس کو راجح قرار دینے کی۔ ہمارے زمانہ میں ملازم کا نمازی ہونا گویا عیب ہے کہ آقا کے کام کا حرج ہوتا ہے) ابو آلہیثم خوش خوش اپنی ضرورتوں کے لئے ایک مددگار ساتھ لے کر گھر گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان بھی بیوی کو سنادیا۔ بیوی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ کے ارشاد کی کماحقہ تعمیل نہ ہوسکے گی اور اس درجہ بھلائی کا معاملہ کہ ارشاد عالی جاہ کا امتثال ہو جائے ہم سے نہ ہوسکے گا اس لئے اس کو آزاد ہی کر دو کہ اسی سے امتثال ارشاد ممکن ہے سراپا شجاع اور مجسم اخلاص خاوند نے فوراً آزاد کر دیا اور اپنی دقتوں اور تکالیف کی ذرا بھی پرواہ نہ کی۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو جب واقعہ اور جانثار صحابی کے ایثار کا حال معلوم ہوا تو اظہار مسرت اور بیوی کی مدح کے طور پر ارشاد فرمایا کہ ہر نبی اور اس کے جانشینوں کے لئے حق تعالیٰ شانہ دو باطنی مشیر اور اصلاح کار پیدا فرماتے ہیں جن میں سے ایک مشیر تو بھلائی کی ترغیب دیتا اور برائی سے روکتا ہے دوسرا مشیر تباہ و برباد کرنے میں ذرا بھی کمی نہیں کرتا۔ جو شخص اس کی برائی سے بچا دیا جائے وہ ہر قسم کی برائی سے روک دیا گیا۔”

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امت محمدیہ میں سب سے پہلا شخص جس نے کافر کا خون بہایا ہو میں ہی ہوں اور ایسے ہی پہلا وہ شخص جس نے جہاد میں تیر پھینکا ہو میں ہوں ہم لوگ (یعنی صحابہ کی جماعت ابتداء اسلام میں) ایسی حالت میں جہاد کیا کرتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی۔ درختوں کے پتے اور کیکر کی پھلیاں ہم لوگ کھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے ہمارے جبڑے زخمی ہو گئے تھے اور پتے کھانے کی وجہ سے پاخانہ میں بھی اونٹ اور بکری کی طرح مینگنیاں نکلا کرتی تھیں اس کے بعد بھی قبیلہ بنو اسد کے لوگ اسلام کے بارے میں مجھ کو دھمکاتے ہیں اگر میرے دین سے ناواقفیت کا یہی حال ہے جیسا یہ لوگ بتاتے ہیں تو خسر الدنیا والآخرة دنیا اس تنگی وعسرت میں گئی اور دین کی یہ حالت کہ نماز سے بھی زیادہ واقفیت نہ ہوئی ۔

خالد بن عمیر اور شویس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عتبہ بن غزوان کو حکم فرمایا کہ تم اپنے رفقاء کے ساتھ (جو تین سو مجاہد تھے) عجم کی طرف چلے جاؤ اور جب منتہائے سرزمین عرب پر پہنچو جہاں کی سرزمین عجم بہت ہی قریب رہ جائے تو وہاں قیام کرنا (مقصد ان کی روانگی کا یہ تھا کہ دربار عمری میں یہ اطلاع پہنچی تھی کہ عجم کا ارادہ عرب پر حملہ کرنے کا ہے اور بہ روایت دیگر یزدجر نے عجم سے امداد منگائی ہے جس کا یہ راستہ تھا اس لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس لشکر کو ناکہ بندی کے لئے ارسال فرمایا تھا) وہ لشکر چلا اور جب مربد بصرہ پر پہنچے وہاں عجیب طرح کے سفید سفید پتھروں پر نظر پڑی لوگوں نے اول تعجب سے ایک دوسرے سے پوچھا کہ یہ کیا چیز ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ بصرہ ہیں (بصرہ اصل لغت میں سفید مائل پتھروں کو کہتے ہیں اس کے بعد پھر شہر کا نام پڑ گیا تو گویا انہوں نے جواب دیا کہ یہ بھی ایک قسم کے پتھر ہیں) اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہدایت کے موافق آگے بڑھے اور جب دجلہ کے چھوٹے پل کے قریب پہنچے تو لوگوں نے تجویز کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی متعینہ جگہ یہی ہے اس لئے وہیں پڑاؤ ڈال دیا۔ راوی نے اس جگہ تمام قصہ (یعنی خراسان کے لشکر کے آنے کا اور عتبہ کے فتح کرنے کا پورا قصہ) مفصل ذکر کیا (مگر امام ترمذی کا چونکہ اس جگہ ذکر کرنے سے مقصود اس وقت کی تنگ حالی کا بیان کرنا تھا۔ جس کا ذکر اس حدیث کے اخیر میں ہے اس لئے تمام حدیث کو مختصر کر کے اس جملہ کو ذکر کر دیا۔) حضرت عتبہ رضی اللہ عنہ نے فتح کے بعد ایک خطبہ بھی پڑھا تھا جو عربی حاشیہ میں نقل کیا گیا اس میں دنیا کی بے ثباتی آخرت کا دائمی گھر ہونا وغیرہ امور ارشاد فرمائے تھے۔ چنانچہ حمد و صلوة کے بعد فرماتے ہیں کہ دنیا ختم ہو رہی ہے اور منہ پھیر کر جا رہی ہے دنیا کا حصہ اتنا ہی باقی رہ گیا جیساکہ کسی برتن کا پانی ختم ہو جائے اور اخیر میں ذرا سا قطرہ اس میں رہ جائے تم لوگ اس دنیا سے ایک ایسے عالم کی طرف جا رہے ہو جو ہمیشہ رہنے والا ہے کبھی ختم ہونے والا نہیں ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بہترین ماحضر کے ساتھ اس عالم سے جاؤ اس لئے کہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جہنم (جو اللہ کے نافرمانوں کا گھر ہے) اتنی گہری ہے کہ اگر اس کے اوپر کے کنارے سے ایک ڈھیلا پھینکا جائے تو ستر برس تک بھی وہ جہنم کے نیچے کے حصے میں نہیں پہنچتا اور آدمیوں سے اس مکان کو بھرا جائے گا کس قدر عبرت کا مقام ہے نیز ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ جنت (جو اللہ کے فرمانبردار بندوں کا مکان ہے) اس قدر وسیع ہے کہ اس کے دروازہ کی چوڑائی میں ایک جانب سے دوسری جانب تک چالیس برس کی مسافت ہے اور آدمیوں ہی سے وہ بھی پر کی جائے گی۔ (اس لئے ایسے اعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے پہلے مکان سے نجات ملے اور اس مکان میں جو اللہ کی رضا کا مکان ہے داخلہ نصیب ہو اس کے بعد اپنا گذشتہ حال بیان کیا کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی یہ حالت دیکھی ہے کہ میں ان سات آدمیوں میں سے ہوں جو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ ہمارے پاس کھانے کے لئے درختوں کے پتوں کے سوا کچھ نہ تھا اس کے کھانے سے ہمارے منہ چھل گئے تھے۔ مجھے اتفاقا ایک چادر مل گئی تھی جس کو میں نے اپنے اور سعد رضی اللہ عنہ کے درمیان نصف نصف تقسیم کر لیا (حق تعالیٰ شانہ نے اس تنگ حالی اور تکالیف کا دنیا میں بھی یہ اجر مرحمت فرمایا کہ) ہم سات میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کسی جگہ کا امیر نہ ہوا (چونکہ یہ جماعت بڑی تکالیف برداشت کرنے اور مجاہدات کے بعد امیر ہوئی ہے اس لئے اس کا معاملہ اپنی جماعتوں کے ساتھ بہترین معاملہ ہے جو تم کو بعد میں آنے والے امراء کے تجربہ حال سے معلوم ہو گا اس لئے کہ) تم ان امراء کا عنقریب تجربہ کرنے والے ہو جو بعد میں آنے والے ہیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں اللہ کے راستہ میں اس وقت خوف دلایا گیا ہوں جس وقت کوئی بھی نہیں ڈرایا گیا اور اس قدر ستایا گیا ہوں کہ کوئی شخص بھی نہیں ستایا گیا۔ مجھے تیس شب و روز ایسے گزرے ہیں کہ میرے اور بلال کے کھانے کے لئے کوئی چیز ایسی نہ تھی جس کو کوئی جاندار کھا سکے بجز اس تھوڑی سی مقدار کے جو بلال کے بغل میں چھپی ہوئی تھی۔

نوفل بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عبدالرحمن بن عوف جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک صحابی ہیں ہمارے ہم نشین تھے اور حقیقت میں بہترین ہم نشین تھے۔ ایک مرتبہ ہم ان کے ساتھ کسی جگہ سے لوٹے واپسی میں ان کے ساتھ ہی ان کے مکان پر چلے گئے ۔ انہوں نے گھر جا کر اول غسل کیا جب وہ غسل سے فارغ ہو چکے تو ایک بڑے برتن میں روٹی اور گوشت لایا گیا۔عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس کو دیکھ کر رونے لگے میں نے پوچھا کہ کیا بات ہوئی کیوں روتے ہو؟ کہنے لگے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو وصال تک کبھی بھی اس کی نوبت نہیں آئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جو کی روٹی ہی سے شکم سیری فرمائی ہو۔ اب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاں تک میرا خیال ہم لوگوں کی یہ ثروت کی حالت کسی بہتری کے لئے نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے