کھانے سے قبل کھانے کے بعد

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ حق تعالی جل جلالہ عم نو آلہ بندہ کی اس بات پر بہت ہی رضامندی ظاہر فرماتے ہیں کہ ایک لقمہ کھانا کھائے یا گھونٹ پیوے حق تعالی شانہ کا اس پر شکر ادا کرے۔

“حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، کہ کھانا سامنے لایا گیا میں نے آج جیسا کھانا کہ جو ابتداء یعنی کھانے کے شروع کے وقت نہایت بابرکت معلوم ہوتا ہو اور کھانے کے ختم کے وقت بالکل بے برکت ہو گیا ہو کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس لئے حیرت سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شروع میں ہم لوگوں نے بسم اللہ کے ساتھ کھانا شروع کیا تھا اور اخیر میں فلاں شخص نے بدون بسم اللہ پڑھے کھایا اس کے ساتھ شیطان شریک ہو گیا۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے اور بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کھانے کے درمیان جس وقت یاد آئے بسم اللہ اولہ و آخرہ پڑھے۔

عمر بن ابی سلمة رضی اللہ عنہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیٹا قریب ہو جاؤ اور بسم اللہ کہہ کر دائیں ہاتھ سے اپنے قریب سے کھانا شرع کرو۔

“ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے الْحَمْدُ لِلَّہ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ تمام تعریف اس ذات پاک کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھانا کھلایا، پانی پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا ۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم چھ آدمیوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک بدوی آیا اس نے دو لقموں میں سب کو نمٹا دیا ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر یہ بسم اللہ پڑھ کر کھاتا تو یہ کھانا سب کو کافی ہو جاتا ۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا پڑھتے الحمد للہ حمدا کثیراطیبا مبارکا فیہ غیر مودع ولامستغنی عنہ ربنا۔ (تمام تعریف حق تعالی شانہ کے لئے مخصوص ہے ایسی تعریف جو پاک ہے ریا وغیرہ اوصاف رذیلہ سے جو مبارک ہے ایسی حمد جو نہ چھوڑی جا سکتی اور نہ اس پر استغناء کیا جاسکتا ہے اے اللہ ہمارے شُکر کو قبول فرما)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے