کبیرہ گناہ اوران سے بچنے کی فضیلت (کیمیائے سعادت )

حدیث شریف میں ہے کہ نماز فرض کبیرہ گناہوں کے علاوہ باقی تمام گناہوں کاکفارہ ہوتی ہے اورہرجمعہ بھی دوسرے جمعہ تک کے تمام گناہوں کاکفارہ ہوتاہے سوائے کبیرہ کے ۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے :

’’اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبآءِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاًکَرِیْمًا *

(النسآء۔۳۱)

تر جمہ۔اگر تم بچتے رہو گے ان چیزوں سے جو گناہوں میں بڑی ہیں، تو ہم معاف کریں گے تم سے چھوٹے گناہ تمہارے،اور داخل کریں گے تم کو عزت کے مقام (جنت) میں۔

۱۔عَنْ اَبِیْ ہُرَ ےْرَۃَ ؓ قَا لَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲ ﷺ مَا قَا لَ عَبْدٌ لَآ اِ لٰہَ اِلَّا اﷲُ قَطُّ مُخْلِصاً اِلَّا فُتِحَتْ لَہٗ اَبْوَا بُ السَّمَآ ءِ حَتّٰی تُقْضِیَ اِلیَ الْعَرْشِ مَا اجْتَنَبَ الْکَبَاءِرَ۔

ترجمہ۔ روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے جو بندہ
لَآ اِ لٰہَ اِلَّا اﷲُ کہتا ہے خالص دل سے کھول دیے جاتے ہیں اس کے لیے دروازے آسمان کے یہاں تک کہ وہ پہنچتا ہے عرش تک اور یہ چڑھنا کلمہ کا جب ہی ہوتا ہے کہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔

۲۔عَنْ اَبِیْ ہُرَ ےْرَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّﷺ ،قَالَ ؛اَلصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِ،وَرَمَضَا نُ اِلٰی رَمَضَانَ،مُکَفِّرَاتٌ مَّا بَیْنَھُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَاءِرُ۔

(رواہ مسلم)

ترجمہ۔روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے ،پانچوں نمازیں ،اور جمعہ سے جمعہ تک،اور رمضان سے رمضان تک درمیانی اوقات کے صغیرہ گناہوں کا کفارہ ہیں اگر کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے۔
فائدہ۔یعنی اگر کوئی آدمی کبیرہ (بڑے)گناہوں سے بچتا رہے توروزانہ کی پانچ نمازوں اور نمازِ جمعہ اور رمضان المبارک کے روزوں کی پابندی کی برکت سے اس کے صغیرہ(چھوٹے)گناہ اﷲ تعالٰی معاف فرما دیں گے۔
پس یہ جاننافرض ہے کہ گناہ کبیرہ کون کون سے ہیں ۔حضرت ابوطالب مکی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے کتاب ’’قوت القلوب ‘‘ میں صحابہ کے اقوال کے مطابق جمع کیاہے کہ سترہ گناہ کبیرہ ہیں :چار تودل سے تعلق رکھتے ہیں (۱)کفر (۲)گناہ پر اصرار کرنے کاارادہ کرنااگرچہ وہ صغیرہ ہومثلاکوئی شخص براکام کرتاہے اوراس پر توبہ کرنے کادل میں ارادہ نہیں رکھتا(۳)حق تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوجانا(۴)حق تعالیٰ کے غصہ سے بے خوف رہناجیسے تسلی کہ میں بخشا ہواہوں ۔اورچارگناہ زبان کے متعلق ہیں (۱)جھوٹی گواہی کیونکہ اس سے دوسرے کاحق باطل ہوتاہے (۲) کسی پر زنا کی تہمت لگاناکیونکہ اس سے حد شرع قائم ہوجاتی ہے (۳) جھوٹی قسم کھاناکیونکہ اس کے سبب کسی کامال یاحق چھیناجاتاہے (۴)جادوکیونکہ وہ بھی ایسے کلمات سے ہوتاہے جوزبان سے اداکیے جاتے ہیں ،اورتین گناہ کبیرہ ایسے ہیں جو پیٹ سے تعلق رکھتے ہیں (۱) شراب نوشی کرنااورنشہ آور چیزیں استعمال کرنا(۲) یتیم کامال کھانا (۳)سود کھانااوردوگناہ کبیرہ ہیں جو شرم گاہ سے تعلق رکھتے ہیں (۱) زنا اور ( ۲) لواطت،اوردوگناہ کبیرہ ایسے ہیں جوہاتھ سے تعلق رکھتے ہیں (۱) قتل کرنااور(۲)

چوری کرناجس سے حد شرع واجب ہوجائے ،ایک گناہ کبیرہ پاؤں سے ہوتاہے وہ کفار کے مقابلہ میں جنگ سے بھاگ جاناہے جیساکہ ایک مسلمان دوکافروں سے بھاگ جائے یادس مسلمان بیس کافروں سے بھاگ جائیں اگرکافر دگنے سے زیادہ ہوں توبھاگنادرست ہے ۔ایک گناہ کبیرہ ایساہے جوتمام جسم سے ہوتاہے وہ ماں باپ کورنج پہنچاناہے ان میں سے بعض گناہوں پر توحد شرع واجب ہوتی ہے اوربعض پر قرآن پاک میں شدید وعید آئی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے