وقت کا ضیاع

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں مختصر سی زندگی دے کر بھیجا ہے اس زندگی کا اصل مقصد اللہ کی عبادت اور بندگی ہے اور زندگی جیسی انمول نعمت کو لغو اور فضول مشاغل میں برباد کرنا بڑی بد نصیبی کی بات ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔

نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ الصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ۔

(بخاری)

ترجمہ۔ دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں مبتلا ہیں ایک تندرستی اور دوسری فراغت
تشریح:۔ حقیقت یہ ہے کہ تندرستی اور فارغ وقت دونوں ایسی نعمتیں ہیں جو کبھی کبھی اچانک ہی چھین لی جاتی ہیں تب انسان کو ان کی قدر معلوم ہو تی ہے عقل مند آدمی وہ ہے کہ جب اس کے پاس فارغ وقت ہوتو وہ اسے علم دین کے حاصل کرنے اور اللہ والوں کی صحبت میں گزارے تاکہ اس کے اندر موجود علم و عمل کی کمی دور ہو جب اس کے پاس فارغ وقت نہ رہے تو اسے اس بات پر افسوس نہ کرنا پڑے کہ کاش میرے پاس وقت ہو تو میں اپنی ان روحانی کمزوریوں کو دور کرتا۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔

اِغْتَنِمْ خَمْساًْقَبْلَ خَمْسٍ ،شَبَابَکَ قَبْلَ ھَرَمِکَ وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سُقْمِکَ وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ وَحَیٰوتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ۔

(رواہ الترمذی ص۴۴۱)
ترجمہ۔پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو، بڑھاپے سے پہلے جوانی کو،بیماری سے قبل تندرستی کو، غربت سے پہلے مالداری کو، تفکرات میں پھنسنے سے پہلے فارغ وقت کو اور موت سے پہلے زندگی کو۔
تشریح:۔غور کرنے کی بات ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرنے او ر یاد الٰہی میں مشغول ہونے کی بجائے ہر وقت فضول اور بے کار کاموں میں صرف کیا جائے تو کیا خداوند کریم کے ہاں جواب دہی سے بچا جا سکے گا ۔بالخصوص ان تفریحات میں مشغول ہونے سے جن حرام کاموں کا ارتکاب ہے توکیاآخرت میں ا س کی سزا معاف کر دی جائے گی؟ لہذا بہتر طریقہ اور سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ ان کھیلوں سے بچا جائے اور اپنے فارغ اوقات کو دینی کاموں اور یاد الٰہی میں صرف کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے