وصال کا ذکر

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس روز حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے مدینہ کی ہر چیز منور اور روشن بن گئی تھی ( اور جب انوار کی کثرت ہوتی ہے تو اس قسم کی روشنی محسوس بھی ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک کی اندھیری راتوں میں بسا اوقات انوار کی کثرت سے روشنی ہو جاتی ہے اور جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو مدینہ کی ہر چیز تاریک بن گئی تھی ہم لوگ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مٹی سے ہاتھ بھی نہ جھاڑنے پائے تھے کہ ہم نے اپنے قلوب میں تغیر پایا تھا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک پر بوسہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں بازؤں پر ہاتھ رکھ کر یہ فرمایا ہائے نبی ہائے صفی اور ہائے خلیل۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے جس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دیدار نصیب ہوا وہ وقت تھا جب کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الوفات میں دو شنبہ کے روز صبح کی نماز کے وقت دولت کدہ کا پردہ اٹھایا کہ امتیوں کی نماز کا آخری معائنہ فرمالیں ۔ لوگ اس وقت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں صبح کی نماز ادا کر رہے تھے (صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر فرطِ خوشی میں پیچھے ہٹنے لگے اس خیال سے کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے ہوں اس لئے کہ اس سے پہلے بھی بیماری کے ایام میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز پڑھاتے رہے اور جس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو افاقہ ہوتا تھا تشریف لا کر جماعت میں شرکت فرماتے تھے) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ فرمایا کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور اسی دن وصال ہو گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت میں نے حضور عالی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اپنے سینہ پر سہارا دے رکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کے لئے طشت منگوایا اور پیشاب سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد پھر وصال ہو گیا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وصال کے وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ایک پیالہ میں پانی رکھا ہوا تھا کہ اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بار بار ہاتھ ڈالتے تھے اور چہرہ مبارک پر پھیرتے تھے (کہ یہ شدت حرارت اور گھبراہٹ کے وقت سکون کا سبب ہوتا ہے) اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارگاہ الٰہی میں یہ دعا فرما رہے تھے کہ یا اللہ موت کے شدت پر میری امداد فرما۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت تکلیف کے بعد اب مجھے کسی شخص کے مرض الموت میں تکلیف نہ ہونے پر رشک نہیں ہوتا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔

امام باقر رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا۔ یہ روز اور سہ شنبہ کا روز انتظام میں گزرا اور منگل بدھ کی درمیانی شب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر شریف میں اتارا گیا۔ سفیان رضی اللہ عنہ جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ امام باقر رحمة اللہ علیہ کی حدیث میں وہی ہے جو گزرا لیکن اور روایت میں یہ بھی ہے کہ اخیر حصہ شب میں پھاؤڑوں کی آواز آتی تھی۔

حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو شنبہ کے روز ہوا اور سہ شنبہ کو دفن کئے گئے۔
سالم بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں بار بار غشی ہوتی تھی اور جب افاقہ ہوتا تو زبان سے یہ نکلتا کہ نماز کا وقت ہو گیا یا نہیں اور نماز کا وقت ہو جانے کا حال معلوم ہونے پر چونکہ مسجد تک تشریف لے جانے کی طاقت نہ تھی اس لئے ارشاد عالی ہوتا کہ بلال رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز کی تیاری کریں اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نماز پڑھائیں ۔ متعدد مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ (لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ طبعی طور پر نرم دل پیدا ہوئے تھے رقت اکثر طاری ہو جاتی تھی اور پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کا تعلق ان کی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی جانتی تھیں کہ میرے باپ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خالی جگہ نہ دیکھی جائے گی اس لئے) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے درخواست کی کہ میرا باپ ابوبکر رقیق القلب ہے جب حضور اکرم صلی اللہ کی جگہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھائیں گے تو رونے لگیں گے اور نماز پڑھانے کی طاقت نہیں رکھیں گے اس لئے کسی اور کو فرما دیجئے کہ نماز پڑھائیں اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعدد مرتبہ سوال وجواب پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم یوسف علیہ السلام کے قصہ والی عورتیں بننا چاہتی ہو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ نماز پڑھائیں ۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات کی سخت تکلیف برداشت فرما رہے تھے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ہائے ابا کی تکلیف! حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج کے بعد تیرے باپ پر کچھ تکلیف نہیں رہے گی۔ بے شک آج تیرے باپ پر وہ اٹل چیز اتری ہے یعنی موت جو قیامت تک کبھی کسی سے ٹلنے والی نہیں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دو بچے ذخیرہ آخرت بن جائیں تو حق تعالیٰ شانہ ان کی بدولت اس کو ضرور جنت میں داخل فرمائیں گے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کا ایک ہی بچہ ذخیرہ بنا ہو اس کا کیا حکم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا ایک ہی بچہ چل دیا وہ بھی بخش دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ جس کا ایک بچہ بھی نہ مرا ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لئے میں ذخیرہ آخرت بنوں گا اس لئے کہ میری وفات کا رنج آل واولاد سب سے زیادہ ہو گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفن میں صحابہ رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہوا ( کسی نے مسجد نبوی کو پسند کیا اور کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے قرب کی وجہ سے بقیع کو کسی کا خیال جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مدفن پر پہنچانے کا ہوا تو کسی کا وطن اصلی مکہ مکرمہ واپس لانے کا ۔ غرض مختلف رائیں ہو رہی تھیں) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات سنی ہے جو مجھے خوب یاد ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا وصال اسی جگہ ہوتا ہے جہاں ان کا پسندیدہ دفن ہو۔ اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے وصال ہی کی جگہ دفن کرنا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے