نماز کے فضائل

۱۔ حضور اقدس ﷺ سے کسی نے حق تعالیٰ کے ارشاد مذکورہ

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْکَرِ۔

ترجمہ ۔ بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے ،کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کی نماز ایسی نہ ہو اور اس کو بے حیائی اور ناشائستہ حرکتوں سے نہ روکے تو وہ نماز ہی نہیں۔نماز کی اہمیت کے بارے میں چند احادیث کا ذکر منافع سے خالی نہ ہو گا۔
۲۔ ایک دفعہ حضور اکرمؐ سردی کے موسم میں باہر تشریف لائے اور پتے درختوں سے گر رہے تھے۔آپ ﷺ نے ایک درخت کی ٹہنی ہاتھ میں لی اور اس کو ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے آپ ؐ نے فرمایا۔اے ابو ذرؓ! مسلمان بندہ جب اخلاص سے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ ایسے گرتے ہیں جیسے یہ پتے درخت سے گر رہے ہیں ۔ (رواہ احمد باسناد حسن کذافی الترغیب)
۳۔ ابو مسلمؓ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو امامہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ مجھ سے ایک صاحب نے آپؓ کی طرف سے یہ حدیث نقل کی ہے کہ آپؓنے نبی کریمؐ سے یہ ارشاد سنا کہ جو شخص اچھی طرح وضو کر ے اور پھر فرض نماز پڑھے تو حق تعالیٰ اس دن وہ گناہ جو چلنے سے ہوئے ہوں اور وہ گناہ جن کو اس کے ہاتھوں نے کیا ہو اور وہ گناہ جو اس کے کانوں نے سنے ہوں اور وہ گناہ جو اس کے دل میں پیدا ہوئے ہوں سب کومعاف فرما دیتے ہیں تو ابوامامہؓ نے فرمایا کہ میں نے یہ مضمون کئی بار حضور اکرم ﷺ سے سنا ہے۔(رواہ احمد)
۴۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ نماز چھوڑنا آدمی کو کفر سے ملا دیتا ہے ایک جگہ ارشاد ہے کہ بندہ کو کفر سے ملانے والی چیزصرف نماز کا چھوڑنا ہے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ایمان اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنے کا ہے۔(رواہ احمدومسلم )
۵۔ نبی اکرمؐ کا ارشاد ہے کہ سراسر ظلم اور کفر ہے اور نفاق ہے اس شخص کا فعل جو اللہ کے منادی (موذن) کی آواز سنے اور نماز کو نہ جائے ۔
(رواہ احمد والطبرانی)
۶۔ فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا اگر وہ اچھی اور پوری نکل آئی تو باقی اعمال بھی پورے اتریں گے اور اگر وہ خرا ب ہو گئی تو باقی اعمال بھی خراب نکلیں گے۔(رواہ الطبرانی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے