نماز (برائیوں سے بچنے کا لا جواب نسخۂ کیمیاء)

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْکَرِ۔

ترجمہ۔ بے شک نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے
تشریح:۔ نمازکا برائیوں سے روکنا دو معنوں میں ہو سکتا ہے ایک بطریق سبب یعنی نماز میں اللہ تعالیٰ نے خاصیت و تاثیر رکھی ہے کہ نمازی کو برائیوں اور گناہوں سے روک دے جیسے کسی دوا کا استعمال کرنا امراض کو روک دیتا ہے اسی صورت میں یاد رکھنا چاہیے کہ دوا کے لئے ضروری نہیں کہ اس کی ایک ہی خوراک بیماری کو روکنے کے لئے کافی ہو جائے ۔بعض دوائیں مقررہ خاص مدت تک خاص التزام یعنی باقاعدگی کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اس وقت ان کا نمایاں اثر ظاہر ہوتا ہے بشرطیکہ مریض کسی ایس چیز کا استعمال نہ کرے جو اس دوا کی خاصیت کے منافی ہو پس بلاشبہ نماز بھی قوی الاثر ہے جو روحانی بیماریوں کو روکنے میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے ۔ہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹھیک مقدار میں اس احتیاط اور پرہیز کے ساتھ جو اطباء روحانی
نے تجویز کیا ہو، خاصی مدت تک اس پر عمل کیا جائے اس کے بعد مریض خود محسوس کرے گا۔کہ نماز کس طرح اس کی پرانی بیماریوں اور برسوں کے روگ کو دور کرتی ہے دوسرے معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ نماز کا برائیوں سے روکنا بطور اقتضاہو یعنی کہ نماز کی ہر ایک ہیئت اور اس کاہر ایک ذکر تقاضا کرتا ہے کہ انسان ابھی ابھی بارگاہ الٰہی میں اپنی بندگی،فرمانبرداری،خشوع وخضوع، تذلل اور حق تعالیٰ کی ربوبیت ،الوہیت اور حکومت شہنشاہی کا اظہار و اقرار کرکے آیا ہے

مسجد سے باہر آکر بھی بد عہدی اور شرارت نہ کرے اور شہنشاہ مطلق کے احکام سے منحرف نہ ہو ۔گویا نماز کی ہر ایک ادا نمازی کو پانچ وقت حکم دیتی ہے کہ
بندگی اور غلامی کا دعویٰ کرنیو الے واقعی بندوں اور غلاموں کی طرح بن جائیں اور بزبان حال مطالبہ کرتی ہے کہ بے حیائی اور شرارت و سرکشی سے باز آ۔ اب کوئی باز آئے یا نہ آئے مگر نماز بلاشبہ اسے روکتی اور منع کرتی ہے جیسے اللہ تعالیٰ خود منع فرماتا ہے۔یعنی

اِنَّ اللّٰہَ یَأْ مُرُ بِالْعَدْلِ وَالَاِحْسَانِ وَاِیْتَاءِ ذِیْ الْقُرْبیٰ وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْکَرِ

(النحل ۱۳)

ترجمہ۔بے شک اللہ تعالیٰ انصاف کرنے اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے اور فحش اور بری باتوں سے رکنے کا حکم دیتا ہے۔
پس جو بدبخت اللہ کے روکنے اور منع کرنے پر برائی سے نہیں رکتے نماز کے روکنے پر بھی ان کا نہ رکنا تعجب کی بات نہیں ۔ہاں یہ واضح رہے کہ نماز کا روکنا اور منع کرنا اسی درجہ تک ہے جہاں تک اس کے ادا کرنے میں خدا کی یاد سے غفلت نہ ہو کیونکہ نماز محض چند مرتبہ اٹھنے بیٹھنے کا نام نہیں سب سے بڑی چیز اس میں خدا کی یاد ہے۔ نمازی ارکان صلوۃ ادا کرتے وقت اور قرات قرآن یا دعا و تسبیح کی حالت میں جتنا حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کو مستحضر اور زبان و دل کو موافق رکھے گا اتنا ہی اس کا دل نماز کے منع کرنے کی آواز سنے گا اور اسی قدر اس کی نماز برائیوں کو چھڑانے میں موثر ہو گی ۔ورنہ جو غفلت سے ادا ہو وہ صلوۃ منافق کے مشابہ ٹھہرے گی(تفسیر عثمانی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے