نظرکی حفاظت کے فضائل

بد نظری سے رکنے میں انسان کو جس طرح اپنی نفسانی خواہشات کو پامال کرنا پڑتا ہے اور اس سلسلہ میں اسے جس مجاہدے کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ ایک مستقل نیک عمل ہے جس کی نبی کریمﷺ نے مختلف انداز میں ترغیب دی ہے۔
حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا:۴۔

اَلْمُجَاہِدُ مَنْ جَاہَدَ نَفْسَہٗ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہِ ۔

( مشکوۃ ص ۱۵)

ترجمہ:۔ مجاہد وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔
تشریح۔چونکہ بد نظری کے مواقع آدمی کو سارا دن بار بارپیش آتے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے و الا آدمی نفس کے تقاضے کو بار بار توڑتا رہتا ہے تو اس حدیث مبارکہ کی رو سے بہت بڑی بشارت کا مستحق ہے کہ اسے اس مشقت پر جہا دبالنفس کا ثواب مل رہا ہے۔
حضورنبی کریم ﷺ نے فرمایا:

۵۔ثَلَاثَۃٌ لّاَ تَریٰ اَعْیُنُھُمُ النَّارَ عَیْنٌ حَرَسَتْ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَعَیْنٌ بَکَتْ مِنْ خَشْیَۃِاﷲِ وَعَیْنٌ کَفََّتْ عَنْ مَّحَارِمِ اﷲِ۔

( مجمع الزوائد)

ترجمہ۔تین آدمی ایسے ہیں جن کی آنکھیں دوزخ کی آگ کو دیکھنے سے محفوظ رہیں گی ایک جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے وقت پہرے داری میں لگی رہے دوسری وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی تیسری وہ آنکھ اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے رکی رہے۔

۶۔رُوِیَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃؓ قَالَ ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ کُلُّ عَیْنٍ بَاکِیَۃٌ یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِلَّا عَیْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَّحَارِمِ اﷲِ وَعَیْنٌ سَھِرَتْ فِیْ سَبِیْلِ اﷲِ وَعَیْنٌ خَرَجَ مِنْھَا مِثْلُ رَأْسِِ الذُّبَِابِ مِنْ خَشْیَۃِ اﷲِ۔

(رواہ الاصبہانی)

ترجمہ:۔ہر آنکھ قیامت کے دن رو رہی ہو گی سوائے اس آنکھ کے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو دیکھنے سے رکی رہی اور
وہ آنکھ جو اس کے راستے میں جہاد کے وقت نیند سے محروم رہی اور
وہ آنکھ جس سے مکھی کے سر کے برابر بھی آنسو خوف خدا کی وجہ سے بہہ نکلا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے