میراث کا ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے وارث دینار اور درہم تقسیم نہ کریں میرے ترکہ سے اہل و عیال کا نفقہ اور میرے عامل کا نفقہ نکالنے کے بعد جو کچھ بچے وہ صدقہ ہے۔

“حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ دینار چھوڑا نہ درہم، نہ بکری، نہ اونٹ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے غلام اور باندی کے ذکر میں شک ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے یہ بھی فرمایا تھا کہ نہ غلام نہ باندی یا نہیں فرمایا۔”
عمرو بن الحارث جو ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ترکہ میں صرف ہتھیار اور اپنی سواری کا خچر اور کچھ حصہ زمین کا چھوڑا تھا اور ان کو بھی صدقہ فرما گئے تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور دریافت فرمایا کہ تمہارا کون وارث ہو گا۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے اہل و عیال۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا پھر میں اپنے والد کے متروکہ کی وارث کیوں نہیں بنی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ البتہ (میں وقف کا متولی ہونے کی وجہ سے) جن لوگوں کا روزینہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرما رکھا تھا اس کو میں بھی ادا کروں گا اور جن لوگوں پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خرچ فرمایا کرتے تھے ان پر میں بھی خرچ کروں گا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا۔ ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت جو مال چھوڑتی ہے وہ صدقہ ہوتا ہے۔

مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس عبدالرحمن بن عوف اور طلحہ اور سعد بن ابی وقاص بھی تشریف لائے۔ (اس کے تھوڑی دیر بعد) حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہ جھگڑتے ہوئے تشریف لائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سب حضرات کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ اس ذات پاک کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں کیا تمہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا علم ہے ہم انبیاء کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے جو کچھ ہم ترکہ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ان سب حضرات نے فرمایا کہ بے شک یہ حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا ہے اس حدیث میں ایک طویل قصہ ہے۔
“عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا، اس نے حقیقتاً مجھ ہی کو دیکھا اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔”

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی آپ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے حقیقتا مجھ ہی کو دیکھا ہے اس لئے کہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا۔

“ابوالبختری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دونوں حضرات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے ہر ایک دوسرے پر اعتراض کر رہا تھا اور اس کو انتظام کے ناقابل بتا رہا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم، ان سب حضرات کو متوجہ فرما کر یہ فرمایا کہ تمہیں خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم سب نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مال صدقہ ہوتا ہے بجز اس کے جو وہ اپنے اہل کو کھلائے ہم انبیاء علیہ السلام کی جماعت کسی کو اپنا وارث نہیں بناتے۔ اس حدیث میں ایک قصہ ہے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے