میدان حشر کا سوالنامہ

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت میں آدمی اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک چار سوال نہ کر لئے جائیں۔
۱۔ عمر کس مشغلہ میں ختم کی؟
۲۔ جوانی کس کام میں خرچ کی؟
۳۔ مال کس طرح کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا تھا؟
۴۔ اپنے علم پر کیا عمل کیا تھا؟
(ترغیب عن البیہقی وغیرہ)

یہ سوال ایسے دن کئے جائیں گے جب ناکام ہونیو الوں کی انتہائی حسرت کے باوجود انہیں د وبارہ موقع نہ ملے گا کہ وہ لوٹ کر دنیا میں جا سکیں اور سابقہ زندگی کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ضائع کرنے کی تلافی کر سکیں۔
یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و احسان ہے کہ اس نے ہمیں ان سوالوں کی نشاندہی فرما دی کہ ان کی تیاری کرکے آنا اور یہ دنیا کی زندگی صرف اس واسطے ہے کہ ہم اس عظیم اور مشکل امتحان میں کامیابی کے لئے محنت اور کوشش کریں ۔
قابل غور بات یہ ہے کہ عمر کے سوال کے بعد جوانی کے متعلق سوال کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسانی اعضاء میں جو قوتیں رکھی ہیں جوانی میں وہ بھی شباب پر ہوتی ہیں اور انسان کی خواہشات اور شہوات بھی اپنے عروج پر ہوتی ہیں لہذا خصوصاًاس وقت اپنی ان تمام قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کا پابند کرنا نہایت ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے