مکرو فریب کا دور دورہ اور نااہلوں کی نمائندگی

عَن اَبِی ہًرَیرَۃَ رَضِیَ اللہً عَنہً

قَالَ قَالَ رَسًولً اللہ ﷺ سَیَاتِی عَلَی النٌَاسِ سَنَوَات خَدَُاعَاتِ یًصَدَُقً فِیھَا الکَاذِبً وَ یًکذبً فِیھَا الصَُادِقً وَ یًوتَمَنً فِیھَا الخَائِنً وَ ہًخَوَُنً فِیھَا الَامِینً وَ یَنطقً فِیھَا الرًُوَیبَضۃَ قیِلَ وَمَا الرًُوینضۃ قَالَ اَلرًَجُلُ التًَافِہُ یْتْکّْلمٰ فِی اَمرِ العَامًَۃِ

ابن ماجہ باب شدۃ الزمان

ترجمہ: لوگوں پر بہت سے ایسے سال آئیں گے جن میں دھوکا ہی دھوکا ہو گا اس وقت جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، بد دیانت کو امانت دار تصور کیا جائے گا اوریبضہ [گرے پڑے نااہل لوگ] قوم کی طرف سے نمائندگی کریں گے۔ عرض کیا گیا روبیضہ سے کیا مراد ہے فرمایا وہ نااہل اوربے قیمت آدمی جو جمہور کے اہم معاملات میں رائے زنی کرے