موت کی سختی کا ذکر (از کیمیائے سعادت)

جانناچاہئے کہ آدمی کو سوائے جان نکلنے کی تکلیف کے اگر کوئی بھی خطرہ درپیش نہ ہوتا۔ چاہیے یہ تھا کہ اگر وہ عقل مند ہے تو ا سکے خوف سے دنیا کی کسی شے کی لذت نہ اٹھاتا۔
۱۔ حضرت عیسیٰؑ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ دعا کرو کہ حق تعالیٰ جان کنی کی تکلیف کو مجھ پر آسان کر دے اس لئے مجھے موت کا اس قدر خوف ہے کہ اس کے ڈر سے مرتا ہوں۔
۲۔ حضرت محمد ﷺ سکرات کی حالت میں یہ دعا مانگتے ہیں۔

اَللّٰھُمَّ ھَوِّنْ عَلٰی مُحَمَّدٍ سَکَرَاتِ الْمَوْتِ،

یعنی اے اللہ تعالیٰ محمد ﷺ پر سکرات موت کو آسان کر دے۔
۳۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جس کی جان کنی میں سہولت ہو میں اس سے کوئی امید نہیں رکھتی۔اس لئے کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کی جان کنی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے ۔حضورﷺ فرماتے تھے کہ یا اللہ! تو رگوں اور ہڈیوں میں سے روح نکالتا ہے اس سختی کو مجھ پر آسان کر دے۔
۴۔ حضرت موسیٰؑ کا وقت وفات جب قریب آ گیا تو حق تعالیٰ نے اپنے کلیم سے سوال کیا تم نے سکرات موت میں اپنے آپ کو کیسا پایا عرض کیا کہ ایسے زندہ پرندے کی طرح جس کو بھونیں نہ وہ مرے نہ ہی اڑ سکے۔
۵۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت کعب الاحبارؓسے جان کنی کی تکلیف دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ جیسے کسی کانٹے دار شاخ کو کسی کے پیٹ کے اندر داخل کر دے اور اس کا ہر ایک کانٹا اس کی ایک ایک رگ میں الجھ جائے اور پھر ایک طاقت ورآدمی اس شاخ کو کھینچے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے