موت سے غفلت کا علاج (کیمیائے سعادت)

جو آدمی دنیا کی لذات میں مشغول ہے اور موت سے غافل ہے اس کے لئے بہتر علاج یہ ہے کہ اپنے زمانے کے مرے ہوئے لوگوں کو یاد کرے ،دنیا میں ان کی شان و شوکت کے ساتھ رہنے کا تصور کرے اور یہ خیال کرے کہ وہ موت سے کس قدر غافل تھے اور کیسے خوش تھے ؟ پس عین غفلت اور بے سروسامانی میں ا ن کو اچانک موت آ گئی اور انہیں اس جہان سے لے گئی اور پھر یہ خیال کرے کہ ان کے اعضاء قبر میں کس طرح ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور ان کے گوشت پوست ، آنکھوں اور زبان میں کیڑوں نے کس قدر تصرف کرلیا اور ہر قبر میں ان کا یہ حال ہوا اور ادھر دنیا میں ان کے ورثاء نے مال تقسیم کر لیا اور خوشی خوشی کھا رہے ہیں اور ان کی عورتیں دوسروں سے نکاح کر رہی ہیں اور ان کو فراموش کر دیا ہے پس اپنے زمانے کے ایک ایک آدمی کی یاد دل میں تازہ کرے ا ور ان کی عیش و عشرت اور غفلت کا خیال کرے اپنے دل سے کہے کہ تو بھی انہی کی طرح غفلت اور حرص میں مبتلا ہے تجھے تو یہ دولت نصیب ہوئی کہ وہ تیری آنکھوں کے سامنے گزر گئے تاکہ ان سے تو عبرت حاصل کرے۔نیک بخت وہ ہے جودوسروں کے حال سے نصیحت و عبرت حاصل کرے پھر اپنے اعضاء کی طرف خیال کرے کہ یہ سب ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں گے اور چند دن کے اندر یہ تمام بدن حشرات الارض اور کیڑوں مکوڑوں کی غذا بن جائے گا اور قبر میں جو اس کی صورت ہونیو الی ہے اس کا خیال کرے کہ میں تو ایک گلا سڑا مردار ہوں اس قسم کی باتیں ہر روز ایک گھڑی اپنے دل میں کیا کرے ، شاید دل کو موت سے آگاہی حاصل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے