موت (ا یک اٹل حقیقت)

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں

کُلُّ نَفْسٍ ذَآءِقَۃُ الْمَوْتِ ط وَاِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ط فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ ا لنَّا رِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَا زَط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُورِO

(ال عمران ۱۸۵)
ترجمہ۔ہر جی کو چکھنی ہے موت اور تم کو پورے بدلے ملیں گے قیامت کے دن پھر جو کوئی دور کیا گیا دوزخ سے اور داخل کیا گیا جنت میں اس کا کام تو بن گیا اور نہیں ہے زندگانی دنیا کی مگر پونجی دھوکے کی۔
تشریح:۔ یعنی دنیاکی عارضی بہار اور ظاہری ٹیپ ٹاپ بہت دھوکہ میں ڈالنے و الی چیز ہے جس پر مفتون ہو کر اکثر بے وقوف آخرت سے غافل ہو جاتے ہیں حالانہ انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ یہاں رہ کر انجام کو سوچے اور وہ کام کرے جو عذابِ الٰہی سے بچانے والا اور جنت تک پہنچانے والا ہو ۔
امام غزالی ؒ نے کیمیاء سعادت میں فرمایا۔”جاننا چاہیے کہ جس شخص نے جان لیا کہ ہر حال میں میرا انجام موت ہے اور میرا مقام قبر ہے اور منکر و نکیر سے میرا واسطہ پڑنے والا ہے اور قیامت برحق ہے اور اس کے لئے بہشت یا دوزخ میں جانا ضروری ہے اگر عقلمند ہو گاتو اس کے لئے کوئی خوف موت کے خوف سے بڑھ کر نہ ہو گا اور تمام چیزوں سے زیادہ مرنے کے بعد کے سامان کی تدبیر میں مشغول رہے گا”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے