موبائل فون ،کیبل اور انٹر نیٹ کے غلط استعمال کے ہولناک نتائج

ایک انتہائی قابل توجہ مسئلہ( رپورٹ ضرب مومن)
نسل نو کی تباہی و بربادی میں موبا ئل فون ،کیبل ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کردار کا اندازہ اس ہوشربا رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے ایک نجی ادارے نے گذشتہ دنوں ایک عرق ریز رپورٹ تیار کی ہے ۔اس میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف ایک سال میں جنوری2012سے جنوری2013تک 17211لڑکیاں اپنے گھروں سے ان آشناؤں کے ساتھ فرار ہو ئیں جنکے ساتھ مو بائل پر دوستی تھی ان فرار ہونے والیوں میں چار ہزار شادی شدہ اور بچوں والی عورتیں ہیں ،دوہزار سے زائد کالج کی طالبات ہیں ،جب کہ ایک ہزار گھریلو لڑکیاں ہیں۔موبائل فون پر فری میسجزاور رات بھر کے فری کال پیکجز نے نوجوانوں میں گپ شپ ،بے ہو دہ اور فحش پیغامات اور پھر ایک دوسرے کوسہانے خوابوں کا رواج دیا اور ڈرا موں کے آوارہ کر داروں نے انہیں گھروں سے بھاگنے پر آمادہ کیا۔ ان بھاگنے والیوں میں کئی شریف خاندان اور دین دار گھرانے کی عورتیں بھی شامل ہیں ۔اسی طرح کیبل ان ٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے بے ہنگم طوفان نے بھی نئی نسل کو پاگل اور دیوانہ کر دیا ہے۔کیبل ،انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر نوجوان نسل کی اکثریت فحش تصا ویر اور ویڈیو کلپ دیکھتی ہے ۔اسی طرح ۴۲ فی صد نوجوان تشدد سے بھر پور گیمز اور کھیل تماشے دیکھتے ہیں۔ ایک مصدقہ رپورٹ کے مطابق۵۷ فی صد لوگ ویب سائٹس پرفحش اور بے ہودہ مواد دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔پاکستان میں سیکس ورکرز کی تعداد ۱۲ سے ۱۶ لاکھ بتائی جاتی ہے۔یہ افراد بدکاری، ہم جنس پرستی، شرمناک کاروبار اور دیگر بیسیوں قسم کے گھناؤنے دھندوں میں شریک ہیں۔
کیبل پر چلنے والے ڈراموں اور فلموں میں ایسے مناظر دکھائے جا رہے ہیں جس میں اسلامی تہذیب و ثقافت،اسلامی شعائر ،اعلیٰ اخلاقی اقدار اور محترم و مقدس رشتوں کو پا مال کیا گیا ہوتا ہے۔اس وقت سب سے زیادہ دیکھے جانے والے ڈراموں اور فلموں میں وہ پہلے نمبر پر ہیں، جن میں محبت اور مذہب کا امتزاج دکھایا گیا ہو۔آجکل کی ہٹ فلم ہو یامقبول ترین ڈرامہ سیریل ان میں سے ۸۸ فی صد کا موضوع محبت اور مذہب کا ملاپ ہوتا ہے۔ ،، خدا اور محبت،،سے لے کر ،،عشق ممنوع،، تک ڈیڑھ سو کے قریب ڈراموں اور فلموں میں یہی کچھ ملے گا۔ان ڈرامہ سیریل اور فلموں میں کبھی کسی دین دار شخصیت کو ہیرو اور عاشق بنا کر پیش کیا جاتا ہے تو کبھی کسی امام مسجد کوعشق کی دوڑ میں بندھا ہوا دکھایا جاتا ہے،کبھی مذہبی رحجان رکھنے والے با شرح نوجوان کومحبت نامے لکھتے ہوئے دکھایا جاتا ہے تو کبھی صوم وصلوٰہ کی پابند برقع پہننے والی طالبہ کو عشق کی امر بیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ سب دیکھنے والی نوجوان نسل یہ سمجھنے لگتی ہے کہ شاید ہمارا مذہب ہی عشق بازی کی سر پرستی بلکہ حکم دیتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ مستحسن قدم ہے۔،، خدا اور محبت ،، کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے شاید نماز روزے کی طرح عشق کرنا بھی لازم ہے۔ عشق ممنوع کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ عشق میں ہر

حد پار کر جانے میں کوئی عار اور شرم نہیں ہے۔ان بے ہودہ ڈراموں اور لچر فلموں میں مقدس رشتوں اور اعلیٰ اقدار اور اخلاقیات کو انتہائی غلیظ طریقوں سے پامال کیا گیا ہے۔جب نوجوان نسل یہ سب کچھ دیکھتی ہے تو غیر محسوس طریقے سے ان کے جذبات کو مہمیزملتی ہے ۔وہ بھی اسی طرح کی ایکٹنگ کرنے لگتے ہیں ۔عشق کی اندھی وادی میں جا پہنچتے ہیں۔جہاں سے با عزت واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ان ڈراموں اور فلموں سے دوسر ا بڑا نقصان مذہبی حلقے اور دین دار طبقے کو ہو رہا ہے۔ایسے مناظر دیکھنے کے بعدنوجوان نسل کے ذہن میں غیر شعوری طور پرمذہبی رہنماؤں کی قدرو منزلت انتہائی کم ہو جاتی ہے۔آپ خود سوچیں جب نوجوان ڈرامہ سیریل میں رات کو کسی امام مسجد ،دین دار با شرع ہیرو کو عشق کی لت میں مبتلا دیکھے گا تو اسکے د ل و دماغ میں یہ با ت پختہ ہو جائے گی کہ یہ بھی ہماری ہی طرح ہیں ،لہٰذا ان کی کسی بات پر توجہ دینے کی ضرورت نہیں،عشق میں سب کچھ جائز ہے۔
اسی طرح فیشن کے نام پر ہونے والے فحش شو اور بے ہودہ پروگرام بھی نئی نسل کی تباہی اور بربادی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں ،،لون ،، متعارف کرانے کے لیے فیشن شو منعقد ہونے لگتے ہیں۔ فائیو سٹار ہو ٹلوں میں اسٹیج کی کیٹ واک کرتی نیم برہنہ لڑکیاں اور ان پر فحش جملے کستے برگر فیملی سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو میڈیا پر دکھایا جاتا ہے ۔الیکٹرونکس سے پرنٹ میڈیا تک اور جگمگ جگمگ کرتے سائن بورڈ سے دکانوں پر سجے شو پیس تک لان کے اشتہا انگیز اشتہارات دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے شاید ا س وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ لان پہنی جائے ۔رواں ہفتے کراچی کے مشہور ہوٹل میں فیشن شو ہوا ۔اس میں ۳۵ کے قریب فیشن ڈیزائنر کمپنیوں اور اداروں نے حصہ لیا۔تین دن تک میڈیا پر اسکی نیم برہنہ جھلکیاں دکھائی جاتی رہیں ۔کیٹ واک کرنے والی عورتوں نے شرم وحیا کی تمام حدود پا مال کر ڈالیں ۔ اس کے خلاف کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھی ۔
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ۳۰ ارب روپے تشہیر پر خرچ کیے جاتے ہیں اور تشہیر میں عورت اور نیم برہنگی اور ذو معنی جملے استعمال کیے جاتے ہیں ۔پاکستان کی آبادی ۱۹ کروڑ کے قریب ہے ۔ان میں سے چند لوگ بھی ایسے نہیں ہوں گے جو اس بے ہودگی ،فحش گوئی ،گالم گلوچ ،عامیانہ فقرے بازی ،ناچ گانے ،بے حیائی اور شرم وحیا سے عاری باتوں ، ڈراموں فلمو ں اور شو پروگرامز کو پسند کرتے ہوں ۔اسی ہفتے ایک معاصر روز نامے میں ایک سروے شائع ہوا۔اس میں بتایا گیا تھا ۸۵ فی صد لوگ گھروں میں اپنی فیملی ،اہل و عیال اور بچوں کے ساتھ پروگرامات دیکھتے ہیں ۔ ان پروگراموں ،شوز اور ڈراموں کو دیکھنا بند کر دیا ہے جن میں بے ہودگی ،فحاشی و عریانی اور شرم و حیا عاری باتیں اور منا ظر ہوتے ہیں گزشتہ دنوں لاہور میں ’’کامسیٹ انسٹی ٹیوٹ‘‘نے ایک سروے کروایا ہے ۔اس کے نتائج کا خلاصہ یہ تھا۷۲ فی صد افراد فحاشی و عریانی ،بے ہودگی وبے حیائی پر مبنی اشتہارات ،پروگراموں ،ڈراموں اور شوز کو پسند نہیں کرتے ،انہیں برا اور معاشرے کے لیے زہر قاتل سمجھتے ہیں۔
ہمارے کرنے کا کام یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں اپنی بہن ، بھائی ،بیٹے اور بیٹی کی تمام حرکات و سکنا ت پر نظر رکھیں ۔بے جا اور بے تحا شامو بائل استعمال پر پابندی لگا دیں۔حدیث پاک میں آتا ہے ’’الا کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ‘‘ یعنی تم میں سے ہر ایک اپنے ماتحت کانگران ہے اس کے بارے میں تم سے پو چھا جائے گا ۔یقیناًاولاد بگڑتی ہے تو والدین سے اس کی اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ہمارے معاشرے میں عجیب چلن ہو چکا ہے آج کل والدین اپنی اولاد خصوصاً کالج یو نیورسٹیز میں پڑہنے والی بیٹی اور بیٹے سے پوچھتے تک نہیں کہ یہ قیمتی مو بائل ،لیپ ٹاپ کہاں سے حاصل کیا؟ان کی بیٹی رات گئے تک کس سے باتیں کرتی رہتی ہے؟ان کا بیٹا اچانک کیوں خاموش رہنے لگا ہے؟ان کے چال ڈھال میں کیوں تبدیلی آ رہی ہے ؟ہر وقت میسج پر میسج کیوں آ رہے ہیں؟ہم اپنی نظروں کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا دیکھتے ہیں اور مجرمانہ خاموشی اختیا ر کیے رکھتے ہیں ۔جب پانی سروں سے اونچا ہو جاتا ہے،جب دبے پاؤں فرار ہو جاتے ہیں ، جب کوئی آنگن کی کلی توڑ کر لے جاتا ہے۔۔۔۔۔ تو پھر روتے پیٹتے ہیں۔خون کے آنسو بہاتے ہیں اور اپنی خاموشی پرپچھتاتے ہیں۔اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئی کھیت؛آیے نسل نو کو بچانے کی تدبیر کریں؛
جلا کر خود اپنے ہا تھوں سے پیڑ عجب شخص ہے سایہ تلاش کرتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے