مشت زنی احادیث نبوی ﷺ کی روشنی میں

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔

ناکِحُ الْیَدِ مَلْعُونٌ

(تفسیر روح المعانی ص۱۱۔ج۴ )
ترجمہ۔مشت زنی کرنیو الا ملعون ہے ( لعنتی ہے)
کسی مسلمان کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو سکتی ہے کہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ اس پر لعنت فرمائیں۔اور اس کا سبب یہ شیطانی خواہش ہو،لہذا جو لوگ ان بدعادات میں مبتلا ہیں انہیں فکر مند ہونا چاہئے اور ایسی صحبت اور محفلوں کو ترک کرنا چاہئے جن کے سبب آدمی نفس کی حفاظت سے عاجز ہو جاتا ہے۔
۲۔حافظ ابن کثیر نے امام حسن بن عرفہ سے حضرت انس بن مالک کی روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔
سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی طرف نہ تو اﷲ تعالی قیامت کے دن دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔اور نہ ہی انہیں باقی مخلوقات کے ساتھ(میدان حشر میں)جمع کرے گا اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے ہوں گے مگر یہ کہ توبہ کر لیں اور جو توبہ کرتا ہے اﷲتعالی اسکی توبہ قبول فرماتے ہیں
(وہ لوگ یہ ہیں)
۱۔مشت زنی کرنے والا۲
۔فاعل(مرد سے بدکاری کرنے والا)۳
۔مفعول(بدکاری کرانے والا)۴
۔شراب کا عادی۵
۔ماں باپ کو مارنے پیٹنے والا یہاں تک کہ وہ فریاد کرنے لگیں۶
۔پڑوسیوں کو تکلیف دینے والا یہاں تک کہ وہ اس پر لعنت کرنے لگیں ۔
۷۔پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا
(تفسیر ابن کثیر ج۳ ص۳۸۳)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے