مسواک کے دنیا وی فوائد

دلبر منصور صاحب ایک تاجر اور بہت مخلص آدمی ہیں وہ بتاتے ہیں کہ میں سوئٹزر لینڈ میں تھا ایک نو مسلم سے ملاقات ہوئی میں نے اس نو مسلم کو مسواک (پیلو کی) تحفہ دی اس نے مسواک لے کر اس کو آنکھوں سے لگایا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پھر اس نے جیب سے ایک رومال نکالا تو اس میں ایک بالکل چھوٹا تقریباً دو انچ سے کم ایک مسواک لپٹا ہو ا تھا کہنے لگا کہ میں جب مسلمان ہوا تھا تو مسلمانوں نے مجھے یہ ہدیہ دیا تھا میں اس کو بڑی احتیاط سے استعمال کرتارہا اب یہی ٹکڑا باقی بچا ہے تو آپ نے میرے ساتھ احسان کیا ہے ۔۔۔
پھر اس نے اپنا واقعہ سنایا کہ مجھے تکلیف تھی اور میرے دانت اور مسوڑھے ایسے مرض میں مبتلا تھے جس کا علا ج وہاں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کے پاس کم تھا میں نے یہ مسواک استعمال کرنا شروع کردیا کچھ عرصہ کے بعد اپنے ڈاکٹر کو دکھانے گیا تو ڈاکٹر حیران رہ گیا ۔۔۔
اور پوچھا کہ آ پ نے کو نسی ایسی دوا استعمال کی ہے جس کہ وجہ سے اتنی جلدی صحت یابی ہوگئی ہے تو میں نے کہا صرف آپ کی دوائی استعمال کی ہے کہنے لگا ہرگز نہیں میری دوائی سے اتنی جلدی صحت یابی نہیں ہوسکتی آپ سوچیں تو جب میں نے ذہن پر زور دیا تو فوراً خیا ل آیا کہ میں مسلمان ہوں اور میں مسواک استعمال کررہا ہوں اور جب میں نے مسواک دکھایا تو ڈاکٹر بہت حیران ہوا اور نئی تحقیق میں پڑ گیا ۔
ماخوذ از: ” آج کا سبق “صفحہ 387
تالیف : مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ