مزاح اور دل لگی کے بیان

“حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ میل جول میں مزاح فرماتے تھے، چنانچہ میرا ایک چھوٹا بھائی تھا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے یا ابا عمیر ما فعل النغیر اے ابو عمیر وہ نغیرہ کہاں جاتی رہی؟”

“ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ، کہ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہم سے مذاق بھی فرمالیتے ہیں ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں مگر میں کبھی غلط بات نہیں کہتا۔”

“حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ کسی شخص نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، کوئی سواری کا جانور مجھے عطا فرما دیا جائے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک اونٹنی کا بچہ تم کو دیں گے ۔ سائل نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم! میں اونٹنی کے بچہ کا کیا کروں گا؟ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر اونٹ کسی اونٹ کا بچہ ہوتا ہے”
“حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں ، کہ ایک شخص جنگل کے رہنے والے جن کا نام زاہر بن حرام تھا ، وہ جب حاضر خدمت ہوتے جنگل کے ہدایا سبزی ترکاری وغیرہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے اور وہ جب مدینہ منورہ سے واپس جانے کا ارادہ کرتے تھے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شہری سامان خورد و نوش کا ان کو عطا فرماتے ایک مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ زاہر ہمارا جنگل ہے اور ہم اس کے شہر ہیں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے خصوصی تعلق تھا زاہر کچھ بد شکل بھی تھے ایک مرتبہ کسی جگہ کھڑے ہوئے وہ اپنا کوئی سامان فروخت کر رہے تھے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پیچھے سے ان کی کولی (جپھی) اس طرح بھری کی وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے انہوں نے کہا ارے کون ہے مجھے چھوڑ دے لیکن جب کن انکھیوں وغیرہ سے دیکھ کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا تو اپنی کمر کو بہت اہتمام سے پیچھے کر کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے ملنے لگے (کہ جتنی دیر بھی تلبس رہے ہزاروں نعمتوں اور لذتوں سے بڑھ کر ہے) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کون شخص ہے جو اس غلام کو خریدے ؟ زاہر نے عرض کی کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اگر آپ مجھے فروخت فرمادیں تو کھوٹا اور قیمت پائیں گے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اللہ کے نزدیک تو تم کھوٹے نہیں ہو یا یہ فرمایا کہ بیش قیمت ہو ۔”

حسن رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بوڑھی عورت حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) دعا فرما دیجئے کہ حق تعالی شانہ مجھے جنت میں داخل فرما دے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہو سکتی وہ عورت رونے لگی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے کہہ دو کہ جنت میں بڑھاپے کی حالت میں داخل نہیں ہو گی بلکہ حق تعالی جل شانہ سب اہل جنت عورتوں کو نو عمر کنواریاں بنا دیں گے اور حق تعالی جل شانہ کے اس قول انا انشائناھن انشاء فجعلناھن ابکارا۔ الایة میں اس کا بیان ہے جس کا ترجمہ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان عورتوں کو خاص طور پر بنایا ہے ۔ یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں ۔ (بیان القرآن) یعنی ہمیشہ کنواریاں ہی رہتی ہیں صحبت کے بعد پھر کنواریاں بن جاتی ہیں ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک مرتبہ مزاحا یا ذالاذنین فرمایا اے دو کان والے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے