مذاق کی باتیں،واہیات ،مشغلے اور گانا بجانا وغیرہ۔(روح المعانی)

روایات میں ہے کہ نضربن حارث جو کفار کے رئیسوں میں سے تھا تجارت کیلئے ایران جاتا تو وہاں سے عجمی بادشاہوں کے قصے خرید کر لاتا اور قریش سے کہتا، محمد ﷺ تم کو عاد و ثمودکے قصے سناتے ہیں آؤ میں تم کو رستم و اسفند یار اور شاہان ایران کے قصے سنا ؤں۔ بعض لوگ ان کو دلچسپ سمجھ کر ادھر متوجہ ہو

جاتے نیز اس نے ایک گانے والی لونڈی خرید کی تھی جس کو دیکھتا کہ دل نرم ہے اور اسلام کی طرف جھکا ہے اس کے پاس لے جاتا اور کہہ دیتا کہ اسے کھلا پلا اور گانا سنا پھر اس شخص سے کہتا کہ دیکھ یہ اس سے بہتر ہے جدھر محمدﷺ بلاتے ہیں کہ نماز پڑھو اور روزہ رکھو اور جان مارو۔ ا س پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
تنبیہ: شان نزول گو خاص ہو مگر عموم الفاظ کی وجہ سے حکم عام رہے گا یعنی( جو شخص بھی ایسی چیزوں کو خریدے گا وہ اس وعید کا مستحق ہو گا)(تفسیر عثمانی)۔
جو لوگ ناچ رنگ اور آلات موسیقی کے خریدار ہیں ان کیلئے اللہ تعالیٰ نے دردناک اور ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے احادیث میں اس گناہ کے متعلق بہت ساری وعیدیں آئی ہیں جن میں سے چند ایک آپ کے سامنے پیش کی جاتی ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ گانے باجے سننے کا عادی اپنا ایمان اور آخرت کس طرح برباد کر تا ہے۔
گانے کے متعلق ارشادات نبوی ﷺ

۱۔ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصیْنٍؓ اَ نَّ رَسُوْلَ اﷲِﷺ قَالَ فِیْ ھٰذِہِ ا لْاُمَّۃِ خَسْفٌ وَّ مَسْخٌ وَّقَذْفٌفَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُسلِمِینَ یَا رَسُوْلَ اﷲِوَ مَتیٰ ذٰلِکَ؟قَالَ اِذَا ظَھَرَتِ
الْقِیَانُ وَا لْمَعَازِفُ وَشُرِبَتِ الخُمُوْرُ۔

(رواہ الترمزی)
ترجمہ۔ حضرت عمران بن حصینؓ سے روایت ہے کہ حضورؐ نے ارشاد فرمایا’’کہ اس امت میں بھی زمین میں دھنسنے صورتیں مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہونگے مسلمانوں میں سے ایک شخص نے پوچھا یا رسول اللہؐ ایسا کب ہو گا حضورؐ نے فرمایا جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہو جائے گا اور شرابیں کثرت سے پی جائیں گی،،۔(رواہ الترمذی)

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ اَلْغِنَاءُ ےُنْبِتُ النِّفَاقَ فِیْ الْقَلْبِ کَمَا ےُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ۔

(رواہ البیہقی)
ترجمہ۔ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا گانا دل میں اسی طرح نفاق پید ا کرتا ہے جس طرح پانی کھیتی اگاتا ہے۔
۳۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے حضورؐ نے فرمایا قرب قیامت میں میری امت کے کچھ لوگوں کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندروں اور خنزیروں کی صورتوں میں بدل دیا جائے گا۔صحابہؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ کیا وہ لوگ مسلمان ہونگے آپؐ نے ارشاد فرمایا ہاں وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ روزے بھی رکھیں گے صحابہؓ نے پوچھا یا رسول اللہؐ پھر ان کا یہ حال کیوں ہو گا ۔آپؐ نے فرمایا کہ وہ لوگ باجوں اور گانے والی عورتوں کے عادی ہو جائیں گے شرابیں پیا کریں گے اورایک رات جب وہ شراب نوشی اور لہو لعب میں مشغو ل ہو نگے تو صبح تک ان کی صورتیں مسخ ہو چکی ہو نگی ( ابن حبان،اسلام اورموسیقی مفتی محمدشفیع صاحب )۔
۴۔ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا کہ اس امت میں زمین میں دھنسنے ،صورتیں بگڑنے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہو نگے عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا کب ہو گا فرمایا جب گانے والیاں عام ہو جائیں گی اور شراب حلال سمجھی جائے گی۔ (رواہ ابن ماجہ)
۵۔ حضرت ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ایک رات کسی شخص کے گانے کی آواز سنی تو آپؐ نے تین مرتبہ فرمایا اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اس کی نماز قبول نہیں ہو گی اس کی نماز قبول نہیں ہو گی۔(نیل الاوطار۔ج۸۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے