لنگی کا ذکر

ابوبردة کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر اور ایک موٹی لنگی دکھائی اور یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ان دو کپڑوں میں ہوا تھا۔

“عبید بن خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ میں مدینہ منورہ میں ایک مرتبہ جا رہا تھا کہ میں نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سے یہ کہتے سنا کہ لنگی اوپر اٹھاؤ کہ اس سے (نجاست ظاہری اور باطنی تکبر وغیرہ سے) نظافت بھی زیادہ حاصل رہتی اور کپڑا زمین پر گھسٹ کر خراب اور میلا ہونے سے محفوظ رہتا ہے میں نے کہنے والے کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا تو آپ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ ایک معمولی سی چادر ہے (اس میں کیا تکبر ہو سکتا ہے اور کیا اس کی حفاظت کی ضرورت ہے) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی مصلحت تیرے نزدیک نہیں تو کم از کم میرا اتباع تو کہیں گیا ہی نہیں میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی کو دیکھا تو نصف ساق تک تھی۔”

“سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ لنگی نصف ساق تک رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہی ہیئت تھی میرے آقا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی لنگی کی۔”

حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پنڈلی کا یا اپنی پنڈلی کا حصہ پکڑ کر یہ فرمایا کہ یہ حد ہے لنگی کی اگر تجھے اس پر قناعت نہ ہو تو اس سے کچھ نیچی سہی اگر اس پر بھی قناعت نہ ہو تو لنگی کا ٹخنوں پر کوئی حق نہیں ۔ لہذا ٹخنوں تک نہیں پہنچنا چاہیئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے