قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضری

قبر کی خوفناک گھاٹی کے بعد آدمی کو جس ہولناک مرحلے سے گزرنا ہے وہ قیامت کا دن ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بدلے کا دن کہا ہے جب تمام انسان اللہ تعالیٰ کے عالی دربار میں حاضر ہونگے اور ہر آدمی کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔

وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُولُونَ یٰوَیْْلَتَنَا مَالِ ہَذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰہَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًاO

(الکہف ۴۹)
ترجمہ۔اور رکھا جائے گا حساب کا کاغذ پھر تو دیکھے ،گناہ گاروں کو ڈرتے ہیں اس سے جو اس میں لکھا ہے اور کہتے ہیں، ہائے خرابی کیساہے یہ کاغذ؟نہیں چھُوٹی اس سے چھوٹی بات اور نہ بڑی بات جو اس میں نہیں آ گئی اور پائیں گے جو کچھ کیا ہے سامنے اور تیرا رب ظلم نہ کرے گا کسی پر ۔
تشریح:۔ یعنی اعمال نامہ ہر ایک کے ہاتھ میں دیا جائے گا اس میں اپنے گناہوں کی فہرست پڑھ کر مجرم خوف کھائیں گے کہ دیکھئے آج کیسی سزا ملتی ہے، یعنی ذرہ ذرہ عمل آنکھوں کے سامنے ہو گا اور ہر ایک چھوٹی بڑی بدی یا نیکی اعمال نامہ میں درج ہو گی۔وہ دن نافرمانوں کیلئے بربادی اور مصیبت کا دن ہو گا جب گناہ گار خواہش کرنے لگیں گے کہ کاش! ہم بھی جانوروں کی طرح مر کر مٹی ہو جاتے اور اپنے خالق کے سامنے رسوا نہ ہوتے۔

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوہٌج فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوہُہُمْ قف اَکْفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوقُوْا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَO

(ال عمران ۱۰۶)

جس دن کہ بعضے منہ سفید اور بعضے منہ سیاہ ہوں گے سو وہ جن کے منہ سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا ۔کیا تم ایمان لا کر کافر ہو گئے تھے اب اس کفر کے بدلے عذاب چکھو۔
تشر یح :۔ یعنی بعضوں کے چہروں پر ایمان اور تقویٰ کا نور چمکتا ہو گا اور عزت و وقار کے ساتھ شاداں ،خوش نظر آئیں گے ان کے برخلاف بعضوں کے منہکفرو نفاق اور گناہوں کی سیاہی سے کالے ہونگے،صورت سے ذلت اور رسوائی ٹپک رہی ہو گی گویا کہ ہر ایک کا باطن ظاہر ہو جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے