قرأت کا ذکر

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ تلاوت میں ہر آیت کو جدا جدا کر کے علیحدہ علیحدہ اس طرح پڑھتے کہ الحمد للہ رب العٰلمین پر ٹھہرتے پھر الرحمن الرحیم پر وقف کرتے پھر مٰلک یوم الدین پڑھتے ۔

قتادة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ (مد والے حروف کو) مد کے ساتھ کھینچ کر پڑھتے تھے۔

حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد حرام میں قرآن شریف پڑھتے تھے اور میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے پڑھنے کی آواز رات کو اپنے گھر کی چھت پر سے سنا کرتی تھی۔

عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغفر لک اللہ ماتقدم من ذنبک وما تاخر پڑھتے دیکھا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ترجیع کے ساتھ پڑھ رہے تھے۔ معاویہ بن قرة (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں وہ) کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کے جمع ہو جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس لہجہ میں پڑھ کر سناتا۔

قتادة رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے ہر نبی کو حسین صورت اور حسین آواز والا مبعوث فرمایا ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسین صورت اور جمیل آواز والے تھے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف (گانے والوں کی طرح) آواز بنا کر نہیں پڑھتے تھے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی آواز ( صرف اس قدر بلند ہوتی تھی کہ) آپ اگر کوٹھڑی میں پڑھتے تو صحن والے سن لیتے تھے۔

عبد اللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قرآن شریف آہستہ پڑھتے تھے یا پکار کر انہوں نے فرمایا کہ دونوں طرح معمول تھا میں نے کہا الحمد للہ اللہ کا شکر و احسان ہے جس نے ہر طرح سہولت عطا فرمائی (کہ بمقتضائے وقت جیسا مناسب ہو آواز سے یا آہستہ اسی طرح پڑھ سکے)۔

یعلی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ ام المؤمنین سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کی کیفیت پوچھی انہوں نے ایک ایک حرف علیحدہ علیحدہ صاف صاف کیفیت بتائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے