قرآن کریم میں شرم وحیاکے متعلق احکامات

بِسْمِ اﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ O الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُونَ O وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ Oوَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُونَ Oوَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوجِہِمْ حٰفِظُونَ O اِلَّا عَلآی اَزْوَاجِہِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْْمَانُہُمْ فَاِنَّہُمْ غَیْْرُ مَلُومِیْنَ Oفَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ O وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہْدِہِمْ رَاعُونَ Oوَالَّذِیْنَ ہُمْ عَلٰی صَلَوٰتِہِمْ یُحَافِظُوْنَ Oاُوْلٰٓءِکَ ہُمُ الْوَارِثُونَ O الَّذِیْنَ یَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ ط ہُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ O

(سورۃ المومنون ۱۔۱۱)
ترجمہ۔ان ایمان والوں نے یقیناًفلاح پا لی ہے ۔جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں ۔اور جو لغو چیزوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں ۔اور جو زکٰوۃپر عمل کرنے والے ہیں ۔اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں کے جو ان کی ملکیت میں آچکی ہوں ، کیوں کہ ایسے لوگ قابل ملامت نہیں ہیں۔ہاں جو اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چا ہیں تو ایسے لوگ حد سے گزرے ہوئے ہیں ۔اور وہ جو اپنی
امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں ۔اور جواپنی نمازوں کی پوری نگرانی رکھتے ہیں ۔یہ ہیں وہ وارث۔جنہیں جنت الفردوس کی میراث ملے گی ،یہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ (آسان ترجمہ قرآن از مفتی محمد تقی عثمانی)
تفسیر۔مسند احمد میں حضرت فاروق اعظمؓ کی روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو پاس والوں کے کان میں ایسی آواز ہوتی تھی جیسے شہدکی مکھیوں کی آواز ہوتی ہے ایک روز آپ کے قریب ایسی ہی آواز سنی گئی تو ہم ٹھہر گئے کہ تازہ آئی ہوئی وحی سن لیں۔جب وحی کی خاص
کیفیت سے فراغت ہوئی تو آنحضرت ﷺ قبلہ رخ ہو کر بیٹھ گئے اور یہ دعا کرنے لگے ( یا اللہ ہمیں زیادہ دے کم نہ کر اور ہماری عزت بڑھا ذلیل نہ کر اور ہم پر بخشش فرما محروم نہ کر اور ہمیں دوسروں پر ترجیح دے اور ہم پر دوسروں کو
ترجیح نہ دے اور ہم سے راضی ہو اور ہمیں بھی اپنی رضا سے راضی کر دے ) اس کے بعد فرمایا کہ مجھ پراس وقت دس آیتیں نازل ہوئیں ہیں کہ جو شخص ان پر پورا پورا عمل کرے تو وہ (سیدھا) جنت میں جائے گا پھر یہ دس آیتیں جو اوپرلکھی گئی ہیں پڑھ کر سنائی (ابن کثیر)
خلاصہ تفسیر آیات نمبر (۵۔۶۔۷)
وہ دس آیات جن پر پورا پورا عمل کرنے سے جنت کا وعدہ کیا گیا ہے ان میں آیت نمبر ۵،۶،۷ شرمگاہ کے متعلق ہیں جن کا خلاصۂ تفسیر مندرجہ ذیل ہے
اور جو اپنی شرمگاہوں کی (حرام شہوت رانی سے) حفاظت رکھنے والے ہیں لیکن اپنی بیبیوں سے یا اپنی (شرعی) لونڈیوں سے (حفاظت نہیں کرتے ) کیونکہ ان پر (اس میں ) کوئی الزام نہیں۔ہاں جو اس کے علاوہ (اور جگہ شہوت رانی کا ) طلبگار ہو ایسے لوگ حد(شرعی) سے نکلنے والے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے