قاریوں کی بہتات

عَن اَبِی ھًرَیرَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنہہَ عَن رًَسُولِ اللہِ ﷺ سَیَاتِی عَلی اُمًَتِی زَمَان بَکثُر فِیہِ القُرًَاء وَ یَقِل فِیہِ الفُقَھَا وَ یُقبَضُ العِلمَ وَ یَکثُرُ الھَرجُ ثَمَ یَاتِی مِن بَعدِ ذَالِکَ زَمَان یَقُرَءُ القُرانَ رِجَال مِن اُمَُتِی لَا یُجَاوِزُ تَرَافِیَھُم ثُمَ یَاتِی مِن بَعدِ زَمَان یُجَادِلُ المُشرِکُ بِاللہِ المُومِنَ فِی مِثلِ مَا یَقُولُ

طبرانی، مستدرک و کنز العمال ج:14 ص 217

ترجمہ: میری امت پر ایک زمانہ آئے گا جس میں قاری بہت ہوں گے مگر فقیہہ کم علم کا قحط ہو جائے گا اور فتنہ و فساد کی کثرت۔ پھر اس کے بعد ایک اور زمانہ آئے گا جس میں میری امت کے ایسے لوگ بھی قرآن پڑھیں گے جن کے حلق سے نیچے قرآن نہیں اترے گا [دل قرآن کے فہم اور عقیدت و احترام سے کورے ہوں گے] پھر اس کے بعد ایک اور زمانہ آئے گا جس میں اللہ تعالی کے ساتھ شریک ٹھہرانے والا مومن سے دعوِ ی توحید میں حجت بازی کرے گا