فحاشی کا سیلاب شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب

شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب کا یہ مضمون ہفت روزہ ضرب مومن میں شائع ہوا۔اس مضمون سے چونکہ کتا ب کے موضو ع کی اہمیت نہایت واضح انداز میں سامنے آ رہی ہے اسی مناسبت سے ہم نے اس مضمون کو اپنی کتاب کی زینت بنایاہے۔
“اسلام کی بنیاد جن اعمال و افکار پر ہے ان میں سے ایک اہم ترین اساس عفت و عصمت ہے اور اسلام کی بے شمار تعلیمات اسی محور کے گرد گھومتی ہیں۔اسلام اپنے پیروؤں کے لئے بالخصوص اور پوری دنیا کے لئے بالعمو م جس معاشرے کی تعمیر کرنا چاہتا ہے وہ ایک ایسا پاکیزہ اور صاف ستھرا معاشرہ ہے جس کے سر پر عفت و عصمت کا تاج ہو اور جس کے اعمال و افکار کے کسی گوشے میں بداخلاقی اور بے حیائی کی گنجائش نہ ہو،چنانچہ اس مقصد کے لئے اسلام نے اپنی قانونی اور اخلاقی تعلیمات میں انتہائی جز رسی کا مظاہرہ کیا ہے اور ان تمام دروازوں پرپہرے بٹھائے ہیں جہاں سے معاشرے میں بے حیائی گھس آنے کا احتمال ہو۔
سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا

’’ من یضمن لی ما بین لحییہ وما بین رجلیہ اضمن لہ الجنۃ‘‘ (صحیح بخاری)

ترجمہ۔ جو شخص مجھے اپنے جبڑوں کے درمیان والی چیز(یعنی زبان) اور اپنی ٹانگوں کے درمیان والی چیز (یعنی شرم گاہ) کی ضمانت دے دے (کہ اللہ کی نافرمانی میں استعمال نہ کرے گا)میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔

اس حکیمانہ ارشاد نے انسانی معاشرے کی دکھتی ہوئی رگوں پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں جتنے گناہ اور جتنے جرائم سرزد ہوتے ہیں، ان کے دو ہی سبب ہوتے ہیں۔۔۔یا زبان کی بے اعتدالی جس میں بد زبانی بھی داخل ہے اور پیٹ کی خواہش (جس کی لذت زبان ہی محسوس کرتی ہے ) پوری کرنے کے لئے کیے جانے والے تمام جرائم بھی،یا پھر جنسی خواہشات کی بے اعتدالی پورے معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہے اور بالآخر اسے تباہ و برباد کرکے چھوڑتی ہے۔ چنانچہ اسلام ان دونوں معاملات میں انتہائی حساس دین ہے اور اس میں ان دونوں بد اعتدالیوں کی روک تھا م کے لئے بڑے وسیع ،دور رس اور ہمہ گیر احکام دیے گئے ہیں۔

جنسی جذبہ ،انسان کا ایک فطری جذبہ ہے جو اعتدال میں رہے اور پاکیزگی کے ساتھ استعمال ہو تو زندگی میں لطف و سرور پیدا کرتا ہے،بقائے نوع انسانی کا ذریعہ بنتا ہے اور اس سے الفت و محبت کے مقدس رشتے استوار ہوتے ہیں لیکن اگر یہی جذبہ حد سے بڑھ جائے اورحیوانیت کا رخ اختیار کر لے تو پورے نظام زندگی کو تہہ و بالا کر ڈالتا ہے اس سے معاشرہ انار کی کا شکار ہو جاتا ہے،باہمی تعلقات وروابط کاسارا نظام مصنوعی ہو کر رہ جاتا ہے ۔اختلاط انساب کے فتنے پیدا ہوتے ہیں ۔اخلاقی اور جسمانی بیماریوں کی وبائیں پھو ٹتی ہیں۔باہمی نفرت و عداوت کے شعلے بھڑکتے ہیں ،اجتماعی قوت عمل سر د پڑ جاتی ہے اور انسان اشرف المخلوقات کے منصب سے پھسل کر کتے بلیوں کی صف میں آ گرتا ہے۔
چنانچہ اسلام نے رہبانیت کی طرح جنسی جذبے کو بالکلیہ رد نہیں کیا بلکہ ایک طرف انسان کے اس فطری جذبے کو پوری طرح تسلیم کیا ہے اس کے صحیح استعمال کی خاطر نکاح کا پاکیزہ طریقہ تجویز فرمایا ہے ۔ اس کے لئے بے شمار آسانیاں فراہم کی ہیں اور نکاح کے احکام وضوابط میں اس بات کی پوری رعا یت رکھی ہے کہ یہ پاکباز رشتہ انسان کے فطری جذبات کی تسکین کے لئے پوری طرح کافی ہو جائے اور دوسری طرف ان تمام بے اعتدالیوں پر کڑی بندشیں عائد کی ہیں جن سے انسان کے خیالات بھٹکتے ہیں جن سے ان کی خواہشات بے قابوہوتی ہیں جن سے لذت پرستی کی جوع البقر پید اہوتی ہے اور جو معاشرے میں کسی بھی حیثیت سے عریانی و فحاشی اور بے حیائی پھیلانے کی ذمہ دار ہو سکتی ہیں۔
اس مقصد کے لئے قرآن و سنت میں اخلاقی و قانونی ہدایات کا ایک طویل سلسلہ ہے جس کا آغاز ا س ہدایت سے ہوتا ہے۔

ُلْ لِّلْمُؤمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوَا فُرُوْجَہُمْ ط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرُٗ مبِمَا یَصْنَعُوْنَ (سورۃالنور،۳۰)

ترجمہ۔ آپ مسلمانوں سے کہیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں ،یہ ان کے لئے خوب پاکیزگی کا باعث ہے ۔بے
شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں۔

اور دوسری طرف خواتین کو ارشاد ہے۔وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاہِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی۔(الاحزاب ۷۳)

ترجمہ۔اور تم اپنے گھروں میں رہو اور پچھلی جاہلیت کی طرح اپنی زیب و زینت کی نمائش کرتی نہ پھرو۔
بلکہ اس سے پہلے ان کو یہاں تک ہدایت دی گئی۔

فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضُٗ وَّقُلْنَ قَوْ لاً مَّعْرُوْفاً (الاحزاب،۳۲)

ترجمہ۔پس تم ( نا محرم مردوں سے ) نزاکت کے ساتھ بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں روگ ہو وہ لالچ کرنے لگے اور قاعدے کی بات کرو۔
اور پورے معاشرے کے خیالات وجذبات کو پاکیزہ رکھنے کے لئے نشرو اشاعت کے ذرائع کو تنبیہ کی گئی ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِیْ الَّذِیْنَاٰمَنُوْ ا لَھُمْ عَذَابُٗ اَلِیْمُٗ لا فِیْ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِطوَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ (النور ،۱۹)

ترجمہ۔ بلاشبہ جو لوگ مسلمانوں میں فحاشی کاچرچا چاہتے ہیں ان کے لئے دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب ہے اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
اس قسم کی بے شمار ہدایات کے ذریعہ انسان کے کان،آنکھ ،دل اور اس کے تمام خیالات و جذبات پر خوف خدا اور فکر آخرت کے پہرے بٹھائے گئے ہیں اور پھر ان ہدایات کی انتہا کوڑوں اور سنگساری کی اس لرزہ خیز اور عبرت ناک سزا پر ہوتی ہے جو اسلام نے بدکاروں کے لئے مقرر فرمائی ہے ۔قرآن و سنت کے ان ارشادات اور سرکار دو عالم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا کہ اسلامی معاشرہ عفت و عصمت اور جنسی جذبات کے اعتدال میں دنیا کا مثالی معاشرہ تھا ۔اب سے کچھ عرصہ پہلے تک دین سے ہزار دوری اور اخلاق کے ہزار انحطاط کے باوجود مسلمان اس لحاظ سے بڑی حد تک ممتاز تھے کہ عفت و عصمت اور شرم و حیا کی قدریں ان کی رگ و پے میں سمائی ہوئی تھیں اور دینی پابندیوں کے علاوہ اس معاملہ میں خاندانی روایات کی بڑی حد تک پاسداری کی جاتی تھی ۔چنانچہ مغربی ممالک میں آبرو باختگی اور اخلاقی دیوالیہ پن کے جو واقعات سننے میں آتے تھے انہیں یہاں نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

لیکن یہ حقیقت انتہائی کرب انگیز اور تشویش ناک ہے کہ اب دوسری سینکڑوں بد عنوانیوں کے ساتھ اس معاملہ میں بھی ہمارے معاشرے کا مزاج نہایت تیز رفتاری سے بدل رہا ہے۔اور مغربی معاشرے کی وہ تمام لعنتیں جنہوں نے مغرب کو اخلاقی تباہی کے آخری سرے پر پہنچا دیا ہے رفتہ رفتہ ہمارے درمیان بھی تباہ کن رفتار سے سرایت کر رہی ہے یہاں تک کہ وہ خاندان جو عفت ،شرافت اور شرم و حیا کے اعتبار سے مثالی سمجھے جاتے تھے اب ان میں بے پردگی ، آوارگی،بے حیائی اور جنس پرستی کا عفریت اپنی پوری فتنہ سامانیوں اور تباہ کاریوں کے ساتھ گھس آیا ہے ۔اس تشویش ناک بے راہ روی کے اسباب اتنے متنوع اور مختلف ہیں کہ محض کوئی ایک اقدام اس کے انسداد کیلئے کافی نہیں ہو گا۔خاص طور پر مندرجہ ذیل چیزیں فحاشی کے فتنے کو روز بروز ہوا دے رہی ہیں:۔

۱: ۔۔۔ ملک کے تمام شہروں میں سینما ہاؤس قائم ہیں جہاں دن رات حیا سوز فلمیں دکھا کر شرافت و متانت کو ذبح کیا جاتا ہے ان فلموں میں عریانیت ،فحاشی اور جنس پرستی کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔ خاص طور پر غیر ملکی فلموں میں جو ہیجان انگیزی اور ہوس پرستی کے مناظر دکھائے جاتے ہیں وہ نوجوان نسل کیلئے سم قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں اورجب سینکڑوں افراد ان شرمناک مناظر کو ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں تو ان کی قباحت و شناعت کا تصور لمحہ بہ لمحہ ختم ہو جاتا ہے۔نگاہیں اس انسانیت کش برائی کی عادی ہو تی چلی جاتی ہیں اور جنس پرستی کی یہ بیماری ایک متعدی جذام کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

۲: ۔۔۔ٹیلی ویژن نے یہ قیامت ڈھائی ہے کہ بے حیائی کے جو کام سینما ہالوں،نائٹ کلبوں اور رقص گاہوں تک محدود تھے اب اس کے ذریعہ ایک ایک گھرکے ڈرائنگ روم میں گھس آئے ہیں۔اور جو لوگ سینما ہالوں تک پہنچنے سے کتراتے تھے اب وہ گھر بیٹھے اس “دولت”سے سرفراز ہوتے ہیں اور رفتہ رفتہبڑے چھوٹے اور اپنے پرائے کی تمیز اس حد تک مٹ گئی ہے کہ باپ بیٹیاں اور بہن بھائی ،رقص و سرور اور فلموں کے خالص جنسی مناظر نہ صر ف ایک ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہیں بلکہ ان پر تبصرے کرتے ہیں اور بعض گھرانوں میں یہ صورت بھی عام ہو گئی ہے کہ آس پاس کے پڑوسی اور محلے کے دوست و احباب “خاص خاص”پروگرام دیکھنے کیلئے جمع ہو جاتے ہیں اور اجنبی لڑکے لڑکیاں بھی یکجا ہو کر ٹی وی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

۳: ۔۔۔ اخبارات نے عریانی و فحاشی کی نشرو اشاعت پر کمر باندھ لی ہے ۔فلمی اشتہارات کے حصے میں جو بسا اوقات کئی صفحات پر چھایا ہوا ہوتا ہے روزانہ بہیمت اور درندگی کا جنم دہکا ہوا ہوتا ہے اور اس میں ایسی ایسی تصاویر اور ایسی ایسی عبارتیں چھپتی ہیں جن سے شیطان بھی پناہ مانگتا ہو۔اخبارات آج کل ہر غریب سے غریب انسان کی ضروریات زندگی میں شامل ہو چکے ہیں اس لئے فحاشی و عریانی کا یہ سڑا ہوا ملغوبہ ان گھرانوں میں بھی پہنچتا ہے جہاں ٹی وی تک کا گزر نہیں۔ظاہر ہے کہ گھر کے لڑکے لڑکیوں سے ان اخبارات کی حفاظت کون کر سکتا ہے ؟ چنانچہ پاکیزہ سے پاکیزہ گھرانوں میں بھی عریانی و فحاشی کے یہ پلندے بڑے بوڑھوں سے لے کر بچوں عورتوں تک سب کی نگاہوں سے گزرتے ہیں۔

۴: ۔۔۔رسائل و جرائد نے عریانیت کو ایک مستقل ذریعہ تجارت بنا رکھا ہے ۔نہ جانے کتنے رسالے ہیں جو صرف عریاں تصویروں اور فحش افسانوں اور بے حیائی کے مضامین کے ذریعہ چل رہے ہیں اور ان سے جنس پرستی کا رجحان روز بروز قوت اختیار کر رہا ہے۔

۵: ۔۔۔ اشتہار بازوں نے عورت کو پیسے کمانے کا ایک حربہ سمجھ لیا ہے ۔چنانچہ دنیا کی کسی چیز کا اشتھار عورت کی تصویر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ قدرت کی اس مقدس تخلیق کو ایک کھلونا بنا کر استعمال کیا جا رہا ہے اور اس کے ایک ایک عضو کی عریاں نمائش کرکے گاہکوں کو مال خریدنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔چنانچہ سڑکوں پر چلتے ہوئے ایک شریف انسان کے لئے نگاہوں کو بچانا مشکل ہے ۔خاص طور سے فلموں کے اشتہار کے لئے قدم قدم پر جو سائن بورڈ آویزاں ہیں وہ ہر آن فحاشی کی تبلیغ کر رہے ہیں۔

۶:۔۔۔نیم عریاں نہیں، بالکل عریاں تصویروں کی خریدو فروخت عام ہو چکی ہے۔اور نئی نسل کے لڑکے و لڑکیاں ایسی ایسی تصویروں کے پورے البم کھلم کھلا خرید رہے ہیں جن میں انسانوں کو گدھوں اور کتوں کی طرح جنسی اختلاط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

۷: ۔۔۔خاص خاص مقامات پر ایسی بلو فلمیں بڑی بڑی قیمتیں وصول کرکے دکھائی جاتی ہیں جن میں انسانوں کے جسم پر کپڑے نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور جنہیں دیکھ کر درندے بھی شرما جائیں۔اگرچہ اس قسم کی تصاویر قانوناً ممنوع ہیں اور بعض مرتبہ اس قسم کے اڈوں پر پولیس کے چھاپے بھی پڑتے رہتے ہیں لیکن اس قسم کے ہنگامی یا مصنوعی اقدامات سے اس انسانیت سوز بد کاری کے رواج میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔بلکہ یہ اڑتی ہوئی خبریں شائع ہوتی تھیں کہ اس قسم کی فلمیں اب پاکستان میں بھی بننے لگی ہیں اور فلم اور ٹی وی کا کچھ عملہ اس میں ملوث ہے ۔اگرچہ بعد میں اس کی تردید بھی شائع ہو گئی لیکن ا گراس میدان میں ترقی کی رفتار یہی رہی تو کسی دن اس خبر کی تصدیق بھی ہو جائے تو بعید نہیں اور ان خبروں کا نقد فائدہ تو شام کے اخبارات نے حاصل کر ہی لیا کہ بلو فلموں کے تعارف اور ان کی تاریخ پر مضامین اور نمونے کے طور پر اس کی کچھ تصوریریں شائع کرکے چند روز کے لئے زیادہ آمدنی کا سامان پید ا کر لیا۔

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

پھریہ ساری رام کہانی تو صرف ان فحاشیوں کی ہے جو متوسط اور کم آمدنی والے حلقوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ان سے آگے بڑھ کر دولت مند طبقوں اور نام نہاد”اونچی سوسائیٹیوں”میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کا تصور بھی لرزہ خیز ہے۔”ماڈل گرلز” اور” سنگر گرلز”کے ذریعے عصمت فروشی تہذیب کا جزو بن گئی ہے پستی ،ذلت اور کمینگی کی انتہا ہے کہ ان “اونچے حلقوں”میں “تبادلہ ازدواج “کے باقاعدہ کلب قائم ہیں۔جن میں دیوثی کو ایک فن بنا لیا گیا ہے۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
پھر حیرت ناک اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ شرافت و انسانیت کی یہ قتل گاہیں اس ملک اور اس معاشرے میں سرگرم ہیں جہاں صرف بد اخلاق ،آبرو باختہ

اور بے حیا افراد نہیں بستے،بلکہ ان فحاشیوں کو سچے دل سے پسند کرنیو الے بہت کم ہیں اور ایک بھاری تعداد ان مسلمانوں کی ہے جو ان تمام بے راہ رویوں کو
نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن شرفا کے اس گروہ میں کوئی خدا کا بندہ ایسا نہیں جو فحاشی کے ان دلالوں سے یہ پوچھ سکے کہ تم اس ستم رسیدہ قوم او ر مصیبت زدہ ملت کو تباہی کے کس غار کی طرف لے جارہے ہو؟ ہماری بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ہم صبح شام اپنی آنکھوں سے اپنے بچوں اور نوجوانوں کو فحاشی کی بھینٹ چڑھتا دیکھتے ہیں لیکن ان کو اس مصیبت سے بچانے کا کوئی جذبہ ہمارے دل میں پیدا نہیں ہوتا،نہ ہمیں اس نوخیز نسل پر کوئی رحم آتا ہے ،نہ ان کے مستقبل کی کوئی فکر دامن گیر ہوتی ہے اور نہ تباہی کے اس سیلاب کو روکنے کے لئے سینوں میں عزم و عمل کی کوئی لہر اٹھتی ہے۔کوئی بہت زیادہ حساس انسان ہے تو وہ اس صورت حال پر ایک ٹھنڈی آہ بھر کر خاموش ہو جاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ کسی محفل میں اس کی برائیوں پر تبصرہ کر لیتا ہے لیکن یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟اس کی ذمہ داری کس پر ہے؟ اس سیلاب کو روکنے کی عملی صورت کیا ہے؟ ان تمام سوالات کے آگے ہماری عقل و فکر،فہم و فراست ،قوت و عمل اور نیکی و تقویٰ کے تمام جذبات نے سپر ڈال رکھی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینما ،ٹی وی ،ریڈیو،نشرو اشاعت کے ذرائع اور حکومت کی بے حسی کا شکوہ کرنے سے بات نہیں بنتی۔ یہ سب چیزیں بلاشبہ اس تباہی کی ذمہ دار ہیں لیکن ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی بہت بڑی ذمہ داری خود ہم پر عائد ہوتی ہے۔اگر ہم خود اپنے جہدو عمل سے اس فحاشی و عریانی کے خلاف ایک عام مدافعانہ شعور پید اکر سکتے تو ممکن نہیں تھا کہ مذکورہ بالا ادارے جسارت اور ڈھٹائی کی اس حد پر اتر آئیں۔جو لوگ ہمارے معاشرے میں بے حیائی کی یہ لعنت پروان چڑھا رہے ہیں انہیں معلوم ہو جاتاکہ ان کا یہ عمل صرف آخرت کے وبال ہی کو نہیں بلکہ دنیا میں عوامی غیظ و غضب کو بھی دعوت دے گا۔لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ اگربسوں کے کرائے میں چند پیسوں کا
اضافہ ہو جائے تو ہم ہاتھوں میں اینٹ پتھر لے کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ہماری تنخواہوں میں معمولی کمی رہ جائے تو ہم فریاد و احتجاج کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔اشیائے خوردنی کے دام چڑھ جائیں تو ہماری چیخ و پکار سات سمندر پار تک پہنچتی ہے اور ملک کا کوئی گوشہ ہمارے غم و غصہ کی یلغار سے سالم نہیں رہتا۔لیکن جب نشرو اشاعت کے یہ ادارے ہمارے نوجوانوں میں “جنس پرستی کا کوڑھ”پھیلاتے ہیں تو ہمارے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔جب کوئی مال و زر کا پجاری نوجوان کو لوٹنے کے لئے کھلے چوراہوں پر عریاں تصویریں نصب کرتا ہے تو کوئی ہاتھ اسے روکنے کے لئے نہیں اٹھتا۔جب کو ئی جنسی مریض ٹی وی کے عریاں پروگراموں کے ذریعہ ہمارے ایمان و اخلاق پر ڈاکے ڈالتا ہے تو کوئی زبان اس پر احتجاج کیلئے نہیں کھلتی اور جب اخبارات کے فلمی اشتہار ہمارے بچوں کو ڈھور ڈنگر بننے کا سبق دیتے ہیں تو ہمارے سینوں میں اشتعال کی کوئی لہر بیدار نہیں ہوتی۔
آج تو ایسے لوگ موجود ہیں جو کم از کم دل ہی دل میں اس صورت حال سے نفرت کرتے ہیں لیکن اگر ہماری بے حسی کا یہی عالم رہا تو ڈر یے اس دن سے جب کوئی بھلا مانس ان بد عنوانیوں کو چیخ چیخ کر بھی برا کہے گا تو غلاظتوں کے ڈھیرمیں پروان چڑھی ہوئی قوم اسے دیوانہ قرار دے گی۔مغرب کے”ترقی یافتہ”ممالک ایک پیکر عبرت بن کر ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے فحاشی کے عفریت کو کھلی چھٹی دے کر اپنے آپ کو اس مقام پر پہنچا لیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ آج ان کے مفکرین گلا پھاڑ پھاڑ کر چلاتے بھی ہیں تو ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔وجہ یہ ہے کہ جنسی جذبہ جب اعتدال سے بڑھتا ہے تو اسے کسی حد پر روکنا ممکن نہیں رہتا۔موجودہ حالات اس کے گواہ ہیں کہ جنسی لذت کا شوق فطرت سلیمہ کی سرحد عبورکرنے کے بعد ایک نہ مٹنے والی بھوک اور نہ بجھنے والی پیاس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔انسان کو بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد لطف و لذت کے کسی درجے پر صبر نہیں آتا۔وہ انسانیت و شرافت کی ایک ایک قدر کو جھنجھوڑ ڈالتا ہے۔پھر بھی اسے قناعت نصیب نہیں ہوتی اور ا س کی مثال صرف استسقا کے اس مریض کی سی ہوتی ہے جو آس پاس کے سارے گھڑے خالی کرنے کے بعد بھی پیاسا کا پیاسا دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔لہذا ابھی قت ہے کہ ہم بے راہ روی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب
کو روکنے کی کوشش کریں۔جب پانی سر سے اونچا ہو جائے گا تو قانون او راخلاقیات کی ساری مشینریاں مل کر بھی اس طوفان کو روکنے میں ناکام رہیں گی۔

ہماری نظر میں فوری ضرورت اس بات کی ہے کہ کچھ ملت کا درد رکھنے والے اصحاب صرف اس ایک انسداد فواحش کے مقصد کولے کر کھڑے
ہوں اور اسی کو اپنی سوچ و بچار اور جدوجہد کا موضوع بنائیں۔دنیا کے چھوٹے چھوٹے مقاصد کے لئے بڑی بڑی انجمنیں اور جماعتیں قائم ہیں۔لیکن کوئی ایسی انجمن نظر نہیں آتی جو خالص انسدا د فحاشی کے لئے کام کر رہی ہو۔اگر کوئی ایسی انجمن قائم ہو جائے اورا سکے اصحاب روزانہ کچھ وقت فارغ ہو کر اس مقصدمیں صرف کریں تو ابھی اصلاح کی کافی توقع کی جا سکتی ہے۔اس انجمن کا طریقہ کار ہماری نظر میں حسب ذیل ہونا چاہیے۔

۱۔۔۔عوام میں فحاشی و عریانی کے خلاف مدافعانہ شعور بیدار کرنا،اس فرض کے لئے تقریروں اور مذاکروں کا انعقاد اور تبلیغی لٹریچر کی تقسیم۔

۲۔۔۔ اخبارات کے مدیروں سے ملاقات کرکے انہیں اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنے جرائد میں فحش تصویروں،عریاں اشتہارات اور غیر اخلاقی خبروں اور مضامین کا مکمل بائیکاٹ کریں۔مدیران جرائد میں غالباً اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جنہیں ذاتی طور پر فحاشی کی ترویج کا شوق نہیں لیکن وہ بے سوچے سمجھے زمانے کی روپر بہ رہے ہیں اور اگر انہیں افہام و تفہیم کے ذریعہ قائل کیا جا سکے تو شائد ان کے دل میں کوئی احساس پیدا ہو اور وہ اپنی روش کو بدل سکیں۔

۳۔۔۔جو اخبارات اپنی روش سے باز نہ آئیں ،عوام میں ان کا بائیکاٹ کرنے کی مہم چلائی جائے۔

۴۔۔۔ریڈیواور ٹی وی کے ذمہ داروں سے معزز شہریوں کے وفود ملاقات کریں اور انہیں فحاشی و بے حیائی کے پروگراموں سے روکنے کی کوشش کی جائے۔

۵۔۔۔عوامی وفود حکومت کے ذمہ داروں کے پاس پہنچیں اور انہیں اس سنگین صورت حال کے خلاف اپنے جذبات سے آگاہ کریں۔نشرو اشاعت کے ذرائع ہر معاملے میں حکومت کی پالیسی کا رخ دیکھتے ہیں اور اس کے مطابق اپنے عمل کا ڈھانچہ تیار کرتے ہیں۔موجودہ بے لگامی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ حکومت اس قسم کے اقدامات کو نا پسند نہیں کرتی اس کے بر خلاف اگر انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ فحاشی و عریانی کا یہ انداز حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے۔تو اس بے لگام ذہنیت میں ضرور کمی آئے گی۔

۶۔۔۔حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے ملاقات کرکے انہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ “انسداد فواحش”کے لئے ایک جامع قانون اسمبلی کے ذریعہ منظور کرائیں جس کے ذریعہ ملک بھر میں عریانی و فحاشی کے تمام اقدامات پر پابندی لگائی جا سکے۔

۷۔۔۔عوام میں اس بات کی تحریک چلائی جائے کہ وہ کم از کم ٹیلی ویژن کے ایسے پروگراموں کا قطعی بائیکاٹ کریں گے جو شرم و حیا کی روایات کے خلاف ہیں۔

یہ کام ایک دو روز میں پورا ہونے والا نہیں ہے اس کے لئے مسلسل جدوجہد ،متواتر عمل اور مستقل سوچ و بچار کی ضرورت ہے جب تک کوئی معین جماعت ا س کام کے لئے کھڑی نہیں ہو گی،اس وقت تک اس کی اہمیت محسوس کرنے والے حضرات بھی اسے آج سے کل اور کل سے پرسوں پر ٹلاتے رہیں گے ۔لیکن یہ ضروری ہے کہ جو جماعت یا انجمن یہ کام لے کر اٹھے اس پر کوئی سیاسی چھاپ نہ ہو ۔اس میں ہر شعبہ زندگی کے افراد شامل ہوں اور وہ صرف اس محدود کام کو اپنا محور و مقصد بنا کر سرگرم ہوں۔کام شروع کرنے کے بعد انہیں خود اس کے نئے نئے راستے نظر آئیں گے اور دل میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا شوق۔اسلام کے لئے خلوص اور ملت کا سچا درد ہو تو ایسی کوشش رائیگاں نہیں جا سکتی۔اللہ تعالیٰ کچھ حساس دلوں میں اس کام کی اہمیت پید افرما دے اور وہ وقت کی اس اہم ضرورت کو پورا کر سکیں۔

ایک تبصرہ برائے “فحاشی کا سیلاب شیخ الاسلام حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی صاحب”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے