عمر شریف کا ذکر

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ میں یہ فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔ حضرات شیخین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کا وصال بھی تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا میری بھی اس وقت تریسٹھ سال کی عمر ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ برس مکہ مکرمہ میں رونق افروز رہے ان تیرہ برس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اس کے بعد مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی اور دس سال مدینہ منورہ میں قیام رہا اور تریسٹھ سال کی عمر میں وصال ہوا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال تریسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا ۔

دغفل بن حنظلہ سدوسی سے بھی یہی روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال پینسٹھ سال کی عمر میں ہوا۔

“حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نہ زیادہ لمبے قد کے تھے نہ پستہ قد نیز رنگ کے لحاظ سے بالکل سفید تھے نہ بالکل گندمی رنگ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک نہ بالکل پیچیدہ تھے نہ بالکل سیدھے (بلکہ ہلکی ہلکی سی پیچیدگی اور گھونگریالہ پن لئے ہوئے) چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی اس کے بعد دس سال حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں قیام فرمایا اور دس سال مدینہ منورہ میں ساٹھ سال کی عمر میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک اور داڑھی شریف میں تقریباً بیس بال بھی سفید نہیں ہوں گے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے