خیالات کے درجات

دل میں کسی بات کا خیال آنے کے پانچ درجے ہیں:
۱ ہاجس کسی بات کا خیال دل میں اضطرارّ آ جانا ۔
۲ خاطر کسی بات کا خیال دل میں قصدا لانا۔
۳ حدیث نفس تردد کی کیفیت کہ ہی کام کروں؟ کہ نہ کروں؟
۴ ہمّ اس تردد میں کسی ایک جانب کو ترجیح دینا۔
۵ عزم ایک جانب ترجیح دے کر اسے اتنی تقویت دینا کہ اگر روکاوٹ نہ ہو تو کر گزرے۔
پہلے تین درجات ہاجس ، خاطر ، حدیث نفس پر کوئی نتیجہ مرتب نہیں ہوتا ، ہمّ (یعنی چوتھے درجے) میں اگر جانب واحد کہ ترجیح خیر اور نیکی کی طرف ہے تع ثواب مرتب ہو گا، اگر ترجیح شر اور گناہ کی طرف ہو گی تو تب تک مواخذہ نہیں جب تک کہ عزم نہ بنے ، گویا نیکی کے ارادے میں ہمّ و عزم (چوتھا اور پانچواں درجہ) دونوں پر ثواب اور عملا نیکی کرنے پر دس گنا ثواب ہے جبکہ گناہ کے معاملے میں ہمّ (چوتھے درجے) پر کوئی مواخذہ نہیں، عزم (پانچویں درجے) پر ہے