عبادات کا ذکر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ نوافل پڑھا کرتے تھے کہ پاؤں پر ورم ہو جاتا تھا کسی نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اگلے پچھلے سب گناہوں کی معافی کی بشارت نازل ہو چکی ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ کیوں مشقت برداشت فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر لمبی نفلیں پڑھتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ورم کر گئے تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مشقت برداشت کرتے ہیں حالانکہ حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اول و آخر کے سب گناہ بخش دئیے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ( کہ جب حق تعالیٰ جل شانہ نے مجھ پر اتنا انعام فرمایا) تو کیا میں اس کا شکر ادا نہ کروں ؟۔

اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز یعنی تہجد اور وتر کے متعلق استفسار کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا معمول تھا انہوں نے فرمایا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم (عشاء کی نماز کے بعد) شب کے نصف اول میں استراحت فرماتے تھے اس کے بعد تہجد پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ اخیر شب ہو جاتی تب وتر پڑھتے۔ اس کے بعد اپنے بستر پر تشریف لے آتے۔ اگر رغبت ہوتی تو اہل کے پاس تشریف لے جاتے یعنی صحبت کرتے پھر صبح کی اذان کے بعد فوراً اٹھ کر اگر غسل کی ضرورت ہوتی تو غسل فرماتے ورنہ وضو فرما کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔

“حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک رات (لڑکپن میں) اپنی خالہ حضرت میمونہ (ام المومنین رضی اللہ عنہا) کے یہاں سویا۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اہل تکیہ کے طولانی حصہ پر سر رکھے ہوئے تھے اور میں تکیہ کے چوڑائی پر سر رکھے ہوئے تھا (قاضی عیاض وغیرہ حضرات نے بجائے تکیہ کے بسترے کا ترجمہ فرمایا ہے لیکن جب کہ لفظ کا اصل ترجمہ تکیہ ہی ہے اور تکیہ مراد لینے میں کوئی بُعد بھی نہیں تو پھر بستر مراد لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ مثلاً تکیہ لمبائی پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک رکھ کر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے اور ابن عباس تکیہ کے چوڑان پر سر رکھ کر (یعنی قبلہ کی طرف سر رکھ کر لیٹ گئے ہوں) حضور اقدس صلی اللہ (اپنی اہلیہ سے تھوڑی باتیں فرمانے کے بعد) سو گئے اور تقریباً سو گئے اور تقریباً نصف رات ہونے پر یا اس سے کچھ پہلے بیدار ہوئے اور اپنے چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار کو دور فرمانے لگے اور پھر سورة آل عمران کے اخیر رکوع ان فی خلق السموات و الارض کو تلاوت فرمایا (علماء کہتے ہیں کہ جاگنے کے بعد تھوڑا سا قرآن شریف پڑھ لینا چاہئے کہ اس سے نشاط پیدا ہوتا ہے اور ان آیات کا پڑھنا مستحب ہے) اس کے بعد مشکیزہ کی طرف جو پانی سے بھرا ہوا لٹک رہا تھا تشریف لے گئے اور اس سے (برتن میں پانی لے کر) وضو کیا اور نماز کی نیت باندھ لی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں بھی وضو کر کے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے (بائیں جانب) برابر کھڑا ہو گیا، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لئے کہ مقتدی کو دائیں جانب کھڑا ہونا چاہئے) میرے سر پر دست مبارک رکھ کر میرا کان مروڑا (تنبیہ کے لئے ایسا کیا ہو اور ایک روایت میں ہے کہ اونگھنے لگا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کان پکڑا) ایک روایت میں ہے کہ کان پکڑ کر دائیں جانب کو کھینچا تاکہ سنت کے موافق امام کے دائیں جانب کھڑے ہو جائیں پھر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم دو دو رکعت پڑھتے رہے۔ معن رضی اللہ عنہ جو اس کے راوی ہیں وہ کہتے ہیں کہ چھ مرتبہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دو رکعت پڑھی ہو گی۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک تہجد کی بارہ رکعتیں ہیں) پھر وتر پڑھ کر لیٹ گئے صبح نماز کے لئے جب بلال بلانے آئے تو دو رکعت سنت مختصر قرات سے پڑھ کر صبح کی نماز کے لئے تشریف لے گئے ۔”

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم تہجد (مع وتر کبھی) تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ جب کبھی کسی عارض کی وجہ سے رات کو تہجد نہیں پڑھ سکتے تھے تو دن میں چاشت کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیا کرتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا کہ جب رات کو تہجد کے لئے اٹھو تو شروع میں اول دو مختصر رکعتیں پڑھ لو۔

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن یہ ارادہ کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو آج غور سے دیکھوں گا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان یا خیمہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا (تاکہ غور سے دیکھتا رہوں) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اول دو مختصر رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد طویل طویل دو دو رکعتیں پڑھیں (تین دفعہ طول کا لفظ اس کی زیادتی طول بیان کرنے کے لئے فرمایا) پھر ان سے مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر ان سے بھی مختصر دو رکعتیں پڑھیں پھر وتر پڑھے یہ سب تیرہ رکعتیں ہوئی۔

ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک میں تہجد کی کتنی رکعتیں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ( گویا آٹھ رکعت تہجد اور تین رکعت وتر چنانچہ خود اس کی تفصیل فرماتی ہیں) کہ اول چار رکعت پڑھتے تھے یہ نہ پوچھ کہ وہ کتنی طویل ہوتی تھیں اور کس عمدگی کے ساتھ بہترین حالت یعنی خشوع و خضوع سے پڑھی جاتی تھیں اسی طرح پھر چار رکعت اور پڑھتے ان کی بھی لمبائی اور عمدگی کا حال کچھ نہ پوچھ۔ پھر تین رکعات پڑھتے تھے یعنی وتر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وتر سے پہلے سو جاتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن دل جاگتا رہتا ہے۔ (یہ انبیاء علیہم السلام کا خاصہ ہے کہ ان کے قلوب جاگتے رہتے ہیں )۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے جس میں ایک رکعت وتر ہوتی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹتے تو اپنی دائیں کروٹ پر آرام فرماتے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نو رکعات پڑھتے تھے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات تہجد میں صرف ایک ہی آیت کا تکرار فرماتے رہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( زمانہ ضعف میں) نوافل میں قرآن شریف چونکہ زیادہ پڑھتے تھے اس لئے بیٹھ کر تلاوت فرماتے اور رکوع میں تشریف لے جاتے اور کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع فرماتے پھر سجدہ کرتے اور اسی طرح دوسری رکعت ادا فرماتے۔

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نوافل کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے طویل حصہ میں نوافل کھڑے ہو کر پڑھتے تھے۔ اور طویل حصہ میں نوافل بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کھڑے ہو کر قرآن مجید پڑھتے تو رکوع وسجود بھی کھڑے ہونے کی حالت میں ادا فرماتے اور جب قرآن مجید بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع وسجود بھی بیٹھنے ہی کی حالت میں ادا فرماتے۔

حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نوافل بیٹھ کر پڑھتے اور اس میں کوئی سورت پڑھتے تو اس قدر ترتیل سے پڑھتے کہ وہ سورت اپنے سے لمبی سورت سے بھی بڑھ جاتی تھی۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم وصال کے قریب زمانہ میں اکثر نوافل بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے قبل اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اپنے گھر میں اور دو عشاء کے بعد وہ بھی گھر میں پڑھیں ۔

ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے (میری بہن ام المومنین) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق کے بعد جس وقت مؤذن اذان کہتا ہے اس وقت دو مختصر رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔

“ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ہی یہ مروی ہے کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ رکعتیں یاد کی ہیں ۔ دو ظہر سے قبل، دو ظہر کے بعد۔ دو مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد مجھے میری بہن حفصہ رضی اللہ عنہا نے صبح کی دو رکعتوں کی بھی خبر دی ہے جن کو میں نے نہیں دیکھا تھا۔”

عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (علاوہ فرض) کے متعلق سوال کیا۔ تو انہوں نے دو رکعت ظہر سے قبل اور دو ظہر کے بعد اور دو مغرب کے بعد اور دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی نماز سے قبل بتلائیں ۔

“عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (علاوہ فرض) کے متعلق استفسار کیا۔ جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں پڑھتے تھے (رات کے نوافل) یعنی تہجد وغیرہ ان کو پہلے سے معلوم ہوں گی۔ تہجد کی روایات بالخصوص کثرت سے منقول اور مشہور ہے) حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اس کی طاقت کہاں رکھ سکتے ہو (یعنی جس اہتمام و انتظام اور خشوع و خضوع سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے وہ کہاں ہو سکتا ہے اس سے مقصود تنبیہ تھی کہ محض سوال اور تحقیق سے کیا فائدہ؟ جب تک عمل کی سعی نہ ہو ۔ ہم نے عرض کیا کہ جو طاقت رکھ سکتا ہو گا وہ پڑھے گا۔ اور طاقت نہیں رکھے گا وہ معلوم کر لے گا۔ تاکہ دوسروں کو بتلا سکے اور خود عمل کرنے کی کوشش کرے. اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ صبح کے وقت جب آفتاب آسمان پر اتنا اوپر چڑھ جاتا جتنا اوپر عصر کی نماز کے وقت ہوتا ہے اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت (صلوة الاشراق) پڑھتے تھے اور جب مشرق کی طرف اس قدر اوپر ہو جاتا جس قدر ظہر کی نماز کے وقت مغرب کی طرف ہوتا ہے، تو اس وقت چار رکعت (چاشت کی نماز جس کا مفصل ذکر دوسرے باب میں آ رہا ہے) پڑھتے تھے۔ ظہر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے اور ظہر کے بعد دو رکعت (یہ چھ رکعتیں سنت مؤکدہ ہیں) اور عصر سے قبل چار رکعت پڑھتے تھے چار رکعت کے درمیان بیٹھ کر ملائکہ مقربین اور انبیاء مومنین پر سلام بھیجتے تھے۔”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طویل نماز پڑھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ورم کر آتے آپ صلی اللہ سے عرض کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی طویل نماز پڑھتے ہیں حالانکہ آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا طویل قیام فرمایا کہ میں نے ایک برے کام کا ارادہ کر لیا کسی نے پوچھا کہ کس کام کا ارادہ کر لیا کہنے لگے کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں بیٹھ جاؤں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تنہا چھوڑ دوں ۔

“حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ( بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ قصہ رمضان المبارک کی رات کا تھا اس لئے محتمل ہے کہ یہ تہجد کی نماز ہو یا تراویح ہو) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع فرما کر یہ دعا پڑھی۔ اللہ اکبر ذوالملکوت والجبروت والکبریاء والعظمة (اللہ جل جلالہ عم نو آلہ کی ذات و صفات سب سے برتر ہے وہ ایسی ذات ہے جو بڑی بادشاہت والی ہے۔ بڑے غلبہ والی ہے بڑائی اور بزرگی وعظمت والی ذات ہے) پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورہ فاتحہ پڑھ کر) سورہ بقرہ تلاوت فرمائی پھر رکوع کیا۔ یہ رکوع قیام ہی جیسا تھا ( اس کے دو مطلب علماء فرماتے ہیں اور دونوں محتمل ہیں ایک تو یہ کہ رکوع تقریباً اتنا ہی طویل تھا کہ جتنا قیام۔ یعنی اگر قیام مثلاً ایک گھنٹہ کا تھا تو تقریباً ایک ہی گھنٹہ کا رکوع بھی تھا۔ اس قول کے موافق اس حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر رکوع سجدہ نماز میں معمول سے زیادہ لمبا ہو جائے تو نماز ہو جاتی ہے۔ دوسرے یہ کہ جیسے قیام معمول سے زائد تھا۔ ایسے ہی یہ رکوع بھی معمول رکوع سے طویل تھا ۔ اس صورت میں قیام کے ایک گھنٹہ ہونے کی صورت میں رکوع اگر پندرہ منٹ کا بھی ہو گیا تو اس حدیث کا مصداق بن گیا۔ اس قول کے موافق نماز اپنے عام معمول کے موافق رہی یعنی جو رکن لمبا ہوتا ہے جیسا کھڑا ہونا وہ لمبا رہا اور جو مختصر ہوتا تھا جیسے رکوع یا سجدہ وہ مختصر رہا البتہ ہر رکن عام نمازوں کے اعتبار سے بڑھا ہوا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اس رکوع میں سبحان ربی العظیم سبحان ربی العظیم فرماتے رہتے۔ پھر رکوع سے سر مبارک اٹھا کر کھڑے ہوئے اور یہ کھڑا ہونا بھی رکوع ہی جیسا تھا۔ اس وقت لربی الحمد لربی الحمد فرماتے رہے پھر سجدہ ادا کیا اور وہ سجدہ بھی کھڑے ہونے کے برابر ہی تھا۔ اس میں سبحان ربی الاعلی سبحان ربی الاعلیٰ فرماتے رہے پھر سجدہ سے اٹھ کر بیٹھے یہ بھی سجدہ کی طرح طویل تھا اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم رب اغفر لی رب اغفرلی فرماتے رہے۔ غرض سورہ نساء، سورہ مائدہ یا سورہ انعام راوی کو ان اخیر کی دو سورتوں میں شک ہو گیا ہے کہ کونسی تھی لیکن اول کی تین محقق ہیں ۔ غرض تینوں سورتیں وہ اور ان دونوں میں سے ایک سورت یہ چاروں سورتیں تلاوت فرمائیں۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے