شرم گاہ کی حفاظت پر جنت کی ضمانت

حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے۔

مَنْ یَّضْمَنْ لِّیْ مَا بَیْن لَحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ اَضْمَنْ لَّہُ الْجَنَّۃَ۔

(بخاری ۴۱۱)

ترجمہ۔جو ضمانت دے مجھے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے(زبان) اور ا س چیزکی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان (شرمگاہ) ہے، تو میں ضمانت دیتا ہوں اس کے لئے جنت کی۔
فائدہ۔دیکھیے! نبی کریم ﷺ تھوڑی سے مشقت پر کس قدر بڑا احسان فرما رہے ہیں وہ شخص کتنا خوش قسمت اور بڑے نصیب والا اہے جس کے جنتی ہونے کی ضمانت اللہ کے رسول ؐ خود دے رہے ہیں۔ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔

یَاشَبَابَ قُرَیْشٍ! اِحْفِظُوْا فُرُوْجَکُمْ وَلَا تَزْنُوْا أَلَا!مَنْ حَفِظَ فَرْجَہٗ فَلہُ الْجَنَّۃُ ۔

(شعب الایمان ۴۔۳۶۵)
ترجمہ۔اے قریش کے جوانو! اپنی شرم گاہوں کو محفوظ رکھو اور زنانہ کرو۔اچھی طرح سمجھ لو کہ جو شخص اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے گا اس کیلئے جنت ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔

مَنْ حَفِظَ مَا بَیْنَ لَحْیَیْہِ و بَیْنَ رِجْلَیْہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ

(شعب الایمان ۴۔۳۶۰)
ترجمہ۔جو شخص اس چیز کی حفاظت کرے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان(زبان) اور اس چیز کی حفاظت کرے جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (شرم گاہ) وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
زنا سے توبہ کرنیو الے کی کرامت
حضر ت بکر بن عبداللہ ا لمزنی قدس سرہ نے کہا ہے کہ ایک قصائی اپنے پڑوسی کی لونڈی پر عاشق تھا ۔ایک مرتبہ لونڈی کہیں جا رہی تھی وہ قصائی پیچھے پیچھے جا کر اس سے لپٹ گیالونڈی نے کہا اے جوانمرد جس قدر تجھے مجھ سے محبت ہے اس سے زیادہ مجھے تجھ سے عشق ہے لیکن کیا کروں خداسے ڈرتی ہوں ۔قصائی نے کہا نیک بخت جوتو خدا سے ڈرتی ہے تو میں کیونکر نہ ڈروں۔یہ کہہ کر توبہ کی اور پھرراہ میں اس پر پیاس غالب ہوئی ،ہلاک ہو جانے کا خو ف تھا کہ ایک شخص پیغمبر وقت کا قاصد کہیں جا رہا تھا وہ تشریف لائے اور اس قصائی سے پوچھا تجھے کیا آفت پہنچی ہے جواب دیا کہ پیاس کی شدت ہے انہوں نے فرمایا کہ تو دعا کر اللہ تعالیٰ بادل بھیج دے اور جب تک ہم شہر کو نہ پہنچیں وہ ہم پر سایہ کیے رہے، تو یہ دعا کراور میں اس دعا میں آمین کہوں۔قصائی نے کہا میں تو کچھ عبادت نہیں کرتا تم ہی دعا کرو میں اس پر آمین کہوں۔غرضیکہ ایسا ہی کیا بادل آیا اور ان کے سر پر چھا گیا جب وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے تو بادل قصائی کے ساتھ چلا ۔وہ صاحب دھوپ میں چلے اور قصائی سے فرمانے لگے اے جوان تو کہتا تھا کہ میں کچھ عبادت نہیں کرتا ہوں اب راز کھلا کہ یہ بادل تو تیرے ہی واسطے تھا تو اپنا حال بتا ۔قصائی نے کہا کہ میں اور تو کچھ نہیں جانتا مگر اس لونڈی کے کہنے سے زنا سے توبہ کی ہے قاصدِپیغمبر نے
فرمایا کہ ایسا ہی ہے حق تعالیٰ شانہ کے نزدیک جو مقبولیت تو بہ کرنیو الے کے واسطے ہے وہ کسی اورکے واسطے نہیں۔(کیمیائے سعادت ص ۳۶۷)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے