شراب کی کیمیائی ساخت

یہ کاربن ،ہائیڈروجن او رآکسیجن کا مرکب ہے جو کسی نشاستہ یا شکر میں خمیر پیدا ہونے سے بنتی ہے خمیر کے عمل کے دوران شکر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
ا۔ الکوحل ۲۔ کاربن ڈائی اکسائیڈ
۱۔الکوحل :۔ خوراک کی بجائے ایک زبر دست زہر ہے اگر کسی برتن میں سو حصے پانی اور ایک حصہ الکوحل ہواور اس میں مچھلی یا کچھوے کو ڈالا جائے تو وہ فوراً مر جائے گا۔الکوحل حلق سے اترتے ہی جسم کے تمام اعضاء میں پہنچ جاتی ہے اوراس کی بو سانس کے ساتھ آنے لگتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ الکوحل خون کے ذریعے فوراً پھیپھڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔پھیپھڑے اس کو سانس کے ذریعے خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں اگر انڈے کی سفیدی کو الکوحل میں ڈالا جائے تو وہ فوراً سخت او رسفید ہو جاتی ہے۔جیسا کہ وہ بہت حرارت پہچانے پر ہوتی ہے۔چونکہ ہمارا معدہ ،جگر،گردے اور عضلات بھی اس مادے سے بنتے ہیں جن سے انڈے کی سفیدی بنتی ہے اس لئے یہ نقطہ نکالا گیا ہے کہ الکوحل کا استعمال ان اعضا کی ساخت تبدیل کر دیتا ہے ۔ساخت کے تبدیل ہونے سے یہ اعضاء اپنا اپنا کام صحیح طور پر نہیں کر سکتے۔اور انجام کار شراب پینے والا معدہ ،دل ،جگر اور گردوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے