شراب کا دماغ پر اثر

دماغ، عقل و دانش ، قوت ارادی،حافظہ اور جذبات کا مرکز ہے اور اس میں دل پھیپھڑوں اور ارادی عضلات کے بھی مراکز ہوتے ہیں ۔شروع میں شراب کے اثر سے دماغ کا وہ مرکز خراب ہو جاتا ہے جس کا تعلق حافظہ او ر قو ت ارادی سے ہوتا ہے اس لئے شرابی نہ ہی معاملات ٹھیک طور سے بیان کر سکتا ہے اور نہ ان کو تحریر میں لا سکتا ہے اس کے بعد شراب کا اثر اعضا اور حرکت کرنے والے پٹھوں کے مرکز پرہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ شرابی رفتار اور گفتار

(بات چیت) دونوں سے محروم ہو جاتا ہے۔گلیوں میں پاگلوں کی طرح لڑکھڑاتا پھرتا ہے ۔عقل سلیم سے محروم ہو کر پاگل خانے میں بند کر دیا جاتا ہے جب اس کے اثر سے دماغ کے سانس اور دوران خون کے مرکز مفلوج ہو جاتے ہیں تو فوراً موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے